گھر میں نماز عید کا طریقہ:
پہلی رکعت: تکبیر تحریمہ،
دوسری رکعت: تکبیر انتقال کے بعد بغیر رفع یدین پانچ زائد تکبیریں پھر تلاوت(فاتحہ و سورہ غاشیہ یا قمر یا کوئی اور یا بعض آیات)،
بعض ملاحظات:
1۔ان زائد تکبیروں میں کمی بیشی ہوجائے یا یہ فوت ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں،
2۔پہلی رکعت کی زائد تکبیروں کی تعداد میں اختلاف ہے،
3۔ان زائد تکبیرات میں رفع یدین پر بھی اختلاف ہے اور معاملہ میں وسعت ہے لیکن کسی صحیح و صریح دلیل سے ثابت نہیں اس لیے نہ کرنا بہتر ہے۔(واللہ اعلم بالصواب)
4۔گھر میں نماز عید کے بعد خطبہ پر بھی اختلاف ہے۔(والأمر فيه واسع) لیکن اکثر علماء عرب و عجم کے فتاوے،
5۔کسی بھی مرد ذات کی موجودگی میں عورت امامت نہیں کرسکتی۔
6۔عورت جب امامت کرے گی تو صف سے آگے نہیں بلکہ درمیان صف میں کھڑی ہوگی۔
7۔نماز عید کے لیے نہ اذان مشروع ہے اور نہ اقامت۔
8۔نماز عید سے قبل و بعد کوئی نفل و سنت ثابت نہیں۔
9۔نماز عید کا وقت شروق شمس کے تقریبا بیس منٹ بعد سے زوال سورج تک ہوتا ہے۔
10۔خطبہ عید ایک ہے،
سنن وآداب
1۔عید کا چاند دیکھنے کا اہتمام اور اس سے متعلق دعا۔
2۔عید کا چاند دیکھنے کے بعد نماز عید تک تکبیرات کا اہتمام (اللہ أكبر،
3۔نماز عید سے قبل اناج و غلہ کی صورت میں صدقہ فطر کی ادائیگی،
4۔غسل کرنا۔
5۔عمدہ لباس زیب تن کرنا۔
6۔خوشبو،
7۔نماز عید سے قبل طاق کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھانا۔
8۔عید کے روز ملاقات پر تقبل اللہ منا ومنک کے الفاظ سے دعاو مبارک باد دینا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
الہ العالمین ہمارے صیام و قیام،





