اجتماعیت کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے۔ہدایت ہے کہ سفر میں ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو کسی ایک کو امیر منتخب کرلیا جاۓ،
دینی معاملات اور بالخصوص کسی غیر واضح مسئلے میں اہل عقل و دانش میں اختلافات کا ہونا لازمی امر ہے۔البتہ ان اختلافات پر باہمی گفتگو،
اب ایسے دین سے وابستگی کے باوجود افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہماری آنکھوں کی بینائیاں اور ہمارے دماغوں کی عقلمندیاں ملت کے اجتماعی مفادات پر یکسر مقدم ہوجایا کرتی ہیں۔اور ہم ہر جگہ اپنی دین فہمی اور علمی لیاقتوں کا دریا بہانے سے ذرا بھی گریز نہیں کرتے۔
دینی معاملات میں فتاؤں کی دو بنیادی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ایک ذاتی و انفرادی زندگیوں سے جڑے معاملات مثلاً کسی کے اندرون خانہ مسائل کا دینی حل،
امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔سب سے زیادہ جمہوریت اور لبرلزم کا دخل اب دینی معاملات میں آچکا ہے۔نہ صرف یہ کہ ان دنوں ہر کس و ناکس مجتہد و مفتی ہے بلکہ بڑے ہی جمہوری انداز میں اسے ملت کے اجتماعی مسائل کو سوشل میڈیا اور عوام کے سامنے رکھنے کا حق بھی حاصل ہے۔اجتہاد و تحقیق کے تمام دقائق سوشل نیٹورکس پر ہی ہونے لازمی ہوتے ہیں۔معذرت مگر بعض دین فہموں کا معاملہ تو اس قدر مضحکہ خیز ہوتا ہے کہ اگر فلاں نے قافلے کا رخ شمال کی طرف کررکھا ہے تو میرا گھوڑا جنوب کی سمت دوڑنا چاہیے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ "من تشبه بقوم فهو منهم" کے زمرے میں آجاؤں۔اب ایسی صورت میں اگر دیر سویر مرکزی تنظیم و جماعت کا فیصلہ آبھی جائے توکچھ حاصل نہیں کیونکہ تب تک عوام الناس چُوں چُوں کے مربوں سے اپنی عقل و فہم کا پیٹ مکمل خراب کرچکی ہوتی ہے۔نہ بھولا جاۓ کہ جمہوریت میں بھی ہر کسی کو اپنی علمی صلاحیتوں کی چھڑی گھمانے کا مکمل اختیار حاصل ہے مگر وہیں تک جہاں کہ دوسروں کی ناک نہ زخمی ہونے پائے۔
غالبا گزشتہ یا پیوستہ سال کی ہی بات ہے عید کے چاند کو لے کر ایک ایک جماعت کے درجنوں لیٹرہیڈ بازار میں نمودار ہوگئے۔کسی نے چاند دیکھا،
آج پھر وہی معاملہ ہے۔میں نہ تو مفتی ہوں اور نہ دین و شریعت کا مجھے کچھ خاص علم ہے اس لیے میں اس بابت قطعا کوئی راۓ تک نہ رکھوں گا کہ کون سا موقف درست ہے اور کون سا غیر درست۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ علمی لیاقتوں کی نمائش کے نام پر ملی اجتماعیت کے انتشار کا سبب بن رہے چند نکات کو واضح کرنا چاہوں گا۔کورونا وائرس کے اس ناگہانی وقت میں طبی و قانونی دونوں ہی اعتبار سے ہم عیدگاہ جاکر عید کی دوگانہ ادائیگی کی حالت میں نہیں ہیں۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس وقت مرکزی تنظیمیں یا ادارے کبار علماء و مجتہدین کرام سے راے و مشورے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچتے اور ایک حتمی فیصلے سے امت کو بذریعہ صوبائی،
ایسا نہ ہوسکا بلکہ ہر کسی نے قلم یا موبائل اٹھایا اور اپنی اپنی تحقیق و صوابدید کے بقدر درج ذیل فتاوے صادر فرمادیے:
۱۔دو رکعت عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھی جاۓ بنا خطبے کے۔
۲۔دو رکعت عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھی جاۓ خطبے کے ساتھ۔
۳۔دو رکعت عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھی جاۓ خطبے کے ساتھ اگر خطیب موجود ہو،
۴۔چونکہ عید کا مقصد اجتماعیت ہے اور اس سال گھر میں ہونے کی وجہ سے یہ مقصد ساقط ہے اس لیے عید کی نماز کا حکم بھی ساقط ہوجائے گا اور عید کی کوئی نماز نہ ہوگی،
۵۔دو رکعت نماز اپنے اپنے گھروں میں ادا کریں اور آن لائن خطبے ہوں گے جس کی سماعت ہر کسی پر لازمی ہوگی۔
اب آپ ہی بتلائیں کہ میں بتلاؤں کیا۔مان بھی لیں کہ سبھوں کا اجتہاد اپنی اپنی جگہ بجا ہے مگر اب یہ تو واضح فرمادیا جاۓ کہ عوام ان میں سے کون سا اور کیسے انتخاب کرے۔اور اگر عوام خود اچھے برے میں تمیز کی اہل ہوتی تو پھر اسے اداروں اور علماء کی ضرورت ہی کیونکر درپیش ہوتی۔ایسا بھی ممکن ہے کہ انہی پانچوں میں سے کوئی ایک مرکزی پلیٹ فارم سے بھی آیا ہو،
خدارا! خواہ ہم کم فہم ہوں یا صاحبِ عقل و دانش،
کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے
مرکزی جماعتوں اور تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اجتماعی مسائل میں ایسے انفرادی اقدامات پر روک لگائیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے باصلاحیت علماء کرام کی شمولیت کے ساتھ بروقت احکامات کا اصدار کیا کریں۔بالخصوص ہم جس ملک میں جن حالات سے دوچار ہیں وہاں تو قطعی مناسب نہیں کہ ہر کوئی اپنا اپنا ڈھول پیٹ کر لوگوں کو جگ ہنسائی کا موقعہ دے۔آپ اپنی تحقیقی پیاس بجھانے کے لیے علماء کے مابین گروپس اور فورمز بناسکتے ہیں جہاں آپ مختلف فیہ مسائل پر کھل کر محققانہ بحثیں کرسکتے ہیں،





