دنیا مصائب و آلام کی آماجگاہ ہے،
اگر ہم منفی نظریے سے دنیا کا مطالعہ کریں گے تو سب کے ہاتھوں میں خنجر ہی نظر آئیں گے لیکن ہم ہمیشہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں چند خوشیاں بھی میسّر ہیں۔کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو ہاتھوں میں پھول لے کر ہمارے استقبال کے لیے کھڑے ہیں۔ہمیں وہ مناظر تو بہت جلد نظر آ جاتے ہیں جن میں ہماری پریشانیاں ہوتی ہیں لیکن وہ مناظر نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں جن میں ہمیں چند خوشیاں میسّر ہونے کے مواقع ہوتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ آپ مصائب سے نظر پھیر لیں لیکن ان کے لیے اپنی اُن خوشیوں کو نہ برباد کریں جو آپ کے حصے میں لکھی جا چکی ہیں۔کم سے کم اپنی زندگی کے کچھ لمحے اِن خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے خرچ کریں جو آپ کے دروازے پر دستک دینے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔اگر آپ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں تو شاید آپ کا وجود تہمتوں کا انبار لگا دے۔لیکن اِن تہمتوں کا وجود بھی اپنی ہی کرامات کے نتائج ہیں ہم یہ کبھی نہ بھولیں۔
دنیا کے اُصول و قوانین ہمارے دلوں میں اِس قدر راسخ ہوچُکے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے دینی فرائض و واجبات کی بات کرتا ہے تو ہم اُس میں بھی تاویل کرکے اُسے دنیاوی زاویے پر فٹ کرنے کی ناپاک کوشش کرنے میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ہم ماڈرن خیالات کے اتنے عادی ہوچُکے ہیں کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کو بالائے طاق رکھ کر دنیاوی اُمور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں ہوتی،
اور سب سے اہم بات یہ کہ اپنے گریبان میں جھانکنے سے پہلے دوسروں کے عادات و اطوار پر ہماری نظر پڑتی ہے،
آخر ہم اتنی نفرت لاتے کہاں سے ہیں کہ کسی شخص کو نشانہ بنا کر طعن وتشنیع کرنے میں اتنی دلیری دکھاتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے؟





