کیرلا چودہ اضلاع پر مشتمل ہندوستان کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے لیکن اس کا نام صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک کے علاوہ دوسرے ملکوں بھی میں عزت و حرمت سے لیا جاتا ہے۔کیرلا کئی چیزوں میں نہ کہ صرف ہندوستان کے سبھی ریاستوں پر فوقیت رکھتا ہے بلکہ دنیا کے کئی ملکوں سے بہتر ہے۔کیرلا اپنی حکمت عملی اور ذمہ دار شہریوں کی ایک اعلی مثال ہے۔کیرلا میں مسائل نہیں بلکہ وسائل کی بھرمار ہے۔ہر شخص تعلیم یافتہ،
دسمبر 2010 کی بات ہے جب میں کیرلا نظام الدین اکسپریس سے گوا ہوتے ہوئے روانہ ہوا۔یہ کسی لمبے سفر کا میرا پہلا تجربہ تھا اس لیے بہت سارے وسوسے ذہن میں گھر کیے ہوئے تھے۔جہاں سفر کی دشواریوں کا اندوہناک خیال تھا وہیں رنگ برنگے ہرے بھرے قدرتی نظاروں کا لطف ذہن میں انگڑائیاں لے رہا تھا۔سفر کافی لمبا تھا اس لیے شروع میں اکتاہٹ محسوس ہوئی لیکن جیسے جیسے ریل اپنی رفتار تیز کرتی گئی اور گھنی آبادیوں کی پٹریاں ختم ہوکر ویران صحراؤں کا دور شروع ہوا۔صاف نیلا آسمان ہمیں مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہنے لگا۔ریل کی رفتار کے ساتھ پٹریوں کی چْھک چْھک کرتی آوازیں ہمیں بد مست کرنے لگیں۔مختلف قسم کی ہریالیوں کا سنگم ہمیں سفر کی مبارک باد دینے لگا پھر کیا تھا ہماری فکر مندی کو راحت کا سامان ملا اور ہم کب نیند کے حوالے ہوگئے پتہ بھی نہ چلا۔صبح جب چائے گرم! چائے گرم! کی آواز کانوں سے ٹکرائی اور جھٹ پٹ کھڑکی سے باہر نظر دوڑائی تو گوا کے مڈگاوں اسٹیشن کی بہاریں ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔گوا سیر و تفریح کی جگہ کا ایک بڑا نام ہے۔گاہے بگاہے اس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔گوا کے بیچ کا بڑا چرچا سنا تھا اور اس کے ایک بڑے شہر واسکو ڈگاما کا بھی۔ہمیں لگا شاید اسٹیشن سے شہر کا منظر دکھ جائے یا پھر بیچ ہی نظر آجائے لیکن شہر اسیٹیشن سے کافی دور معلوم ہوا اور ہمیں جھاڑیوں اور درختوں کے درمیان نظر پھیرنے پر اکتفا کرنی پڑی۔ریل اپنے وقت اور رفتار کے ساتھ آگے چل پڑی اور کیرلا جوں جوں قریب ہوتا گیا ہم نئی جگہ نئے لوگ اور نیا کام کے اندیشوں میں الجھنے لگے۔کبھی ماحول اور آب و ہوا کا ڈر ستاتا تو کبھی وہاں قدم نہ جم پانے کی فکر ہماری الجھنیں بڑھاتی۔کیرلا پہنچنے کے بعد سب سے پہلے میری ملاقات منیر کے ایم سے ہوئی اور ملاقات بھی ایسی کہ دس سال کا طویل عرصہ بھی اس پانچ منٹ کی ملاقات کو بھلا نہ سکا۔منیر کے ایم میری علمی زندگی میں بہت سے محترم ناموں میں سے ایک باوقار نام ہے۔عموما پہلی ملاقات پرتکلف اور رسمی ہوا کرتی ہے لیکن اس شخص کے نزدیک رسمی بات چیت کا کوئی وجود نہ تھا۔تھوڑی بہت سفر کے متعلق اور دہلی کے حالات پر گفتگو کے بعد مجھے اپنی رہائش گاہ پہنچا دیا گیا۔جیسا کہ ہم فریشر تھے اور بہت ساری کمیاں موجود تھیں اس کے باوجود بھی کسی نکتہ چینی کے بغیر ہمیں اپوائنٹ کر لیا گیا بس اس امید پر کہ سیکھ لیں گے اور ہم اس امید پر کسی حد تک کھرے اترے۔
منیر کے ایم اِن دنوں ملیشیا اسلامی یونیورسٹی میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔میں نے وہ جگہ ان کے ملیشیا روانہ ہونے کے کچھ دنوں بعد ہی ترک کردی کیوں کہ جو تعلقات ان سے استوار ہوئے اور جو انسیت ان سے پیدا ہوئی ان کے جانے بعد ہم اجنبی سا محسوس کرنے لگے بجائے اس کے کہ نوشاد صاحب،
اس کے بعد ڈاکٹر حسین مڈؤر کے زیر سایہ کچھ مہینے کام کرنا نصیب ہوا اور پھر ہم نے کاسرکوڈ،
کیرلا میں چھ مہینے مسلسل بارش ہونے کے باوجود بھی سڑکوں پر ایک قطرہ پانی کا نظر نہیں آتا۔وہاں کے لوگ بارش کے اس پانی کو ذخیرہ کرکے پورے سال اس کا استعمال کرتے ہیں۔وہاں سب کے گھروں میں کنواں موجود ہے۔بارش کا بھی ایک ایسا نظام ہے کہ چھ مہینہ لگاتار بارش ہونے کے باوجود بھی کسی طر ح سے کسی کام میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہوتی کیوں کہ بارش خوب موسلا دھار بیس سے تیس منٹ تک ہوتی ہے اور پھر تیز دھوپ بارش کے سارے اثرات کو زائل کردیتا ہے اور بارش کا سارا پانی روڈ سے بہہ کر کنارے نالی میں جا ملتا ہے۔بارش کے ان ایام میں وہاں ہر آدمی کے ہاتھ اور بیگ میں چھ مہینہ چھتری کا ہونا لازمی ہوتا ہے اس لیے کہ دن میں بارش ہونے کا کوئی معمول نہیں ہے کسی بھی وقت سخت دھوپ ہونے کے باجود بھی اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔لیکن یہی میں نے غور کیا کہ رات میں بارش سب کے سو جانے کے بعد خوب موسلا دھار ہوتی اور صبح فجر ہوتے ہی ختم ہوجاتی۔رات میں سونے کے معاملے میں بڑی اچھی عادت وہاں کے لوگوں میں نظر آئی۔تقریبا آٹھ بجے دیہی علاقوں میں جہاں ہر طرح کے وسائل مہیا ہیں لوگ سو جاتے ہیں اور شہروں میں بھی عام طور سے تجارتی کاروباریوں کے علاوہ دس بجے تک لوگ سو ہی جاتے ہیں اور صبح فجر کے وقت سب بیدار ہوجاتے ہیں۔یہاں تک کہ چار پانچ سال کے بچے بھی صبح جلدی جگتے ہیں اور یہی ان کی عادت بن جاتی ہے۔وہاں کھیلنے کا وقت صبح کا ہے اور وہاں کے لوگ عام طور سے دو وقت خود بھی غسل کرتے ہیں اور بچوں کو بھی کراتے ہیں۔مجھے حیرت تب ہوتی جب میں یہ دیکھتا کہ تین چار سال کا بچہ بھی فجر کی نماز میں اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں رکوع اور سجدے کرتا ہوا نظر آتا۔وہاں کے لوگوں میں بغض و حسد اور ایک دوسرے سے نفرت جیسی بری عادت نہیں پائی جاتی ہے۔ان کے یہاں ہر چیز کا ایک حد ہے۔اجنبی سے تعلقات میں بڑی ہوشیاری برتی جاتی ہے جو کہ ہوش مندی کی علامت ہے ورنہ عام طور سے اجنبی لوگ ہی سماجی خرابی کا باعث بنتے ہیں جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔وہاں سرکار اور عوام شانہ بشانہ چلتے نظر آتے ہیں۔ان کے سماج کا بڑا سے بڑا شخص بھی کسی طرح کی کبرو غرور یا برتری جیسے خیالات کا شکار نہیں ہوتا ہے اور اسی طرح ان کے یہاں تقریبات میں سب کے لیے یکساں انتظامات ہوتے ہیں چاہے وہ علاقے کا بڑا آدمی ہو یا چھوٹا۔جن دنوں میں ڈاکٹر حسین مڈؤر کے یہاں ملازمت کررہا تھا وہاں پر مطبخ میں سب کے لیے یکساں انتظام تھا جو چیزیں عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوتی وہی ڈاکٹر مڈؤر کو بھی پیش کی جاتیں یہاں تک کہ عام لوگوں کی طرح وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھا کر رکھتے۔گویا کہ زندگی جینے کا ایک اعلی اور نمایاں مثال کیرلا میں موجود ہے۔میں عام طور سے کیرلا کے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کرتا ہوں کہ جس کسی کو بھی دیکھنی ہو کہ زندگی عملا کیسے جی جاتی ہے تو وہ کیرلا میں جاکر دیکھے۔زندگی کی جو تھیوری کتابوں میں بند ہے وہاں وہ زمینی حقیقت میں موجود ہے۔اسکول،
وہاں کی سرکار عوام کی براہ راست مدد کرتی ہے۔سرکاری راشن کی دکانیں منظم ہیں۔کہیں بھی لوٹ مار اور کالا بازاری نہیں ہے۔مول بھاو کا رواج ان کے یہاں روا نہیں ہے۔وہاں کے لوگ دنیا کے ہر کونے میں چھوٹے بڑے سارے عہدوں پر فائز ہیں۔پرائیوٹ ہو یا سرکاری ہر جگہ کیرلا کے لوگ جن کو ملیالی کہا جاتا ہے اپنا سکہ جمائے ہوئے ہیں۔چھوٹے بڑے ہر طرح کے بزنس مین ان کے یہاں پائے جاتے ہیں۔لولو جو دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک ہے اس کا مالک بھی کیرلا کا ہے۔گویا کہ ان کے اندر صرف اچھائیاں ہی اچھائیاں ہیں برائیاں تو ان کے یہاں جنمی ہی نہیں۔کیرلا میں جب 2018 میں سیلاب آیا تھا اس وقت پوری دنیا نے جس طرح کھل کر ان کی مدد کی اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ان کی پہچان کیسی ہے۔
حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کو لے کر جس طرح کیرلا کے عوام اور وہاں کی حکومت نے یکجہتی کا ثبوت دیا اس کا نتیجہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔جس ریاست میں سب سے پہلا کیس وارد ہوا اور جہاں شروعاتی دنوں میں پورے ملک میں سب سے زیادہ کورونا کے معاملے تھے لیکن ان کی منصوبہ بندی اور دوراندیشی نے بہت جلد اس پر قابو پالیا اور آج وہ چین کی سانس لینے میں کامیاب ہیں بجائے اس کے کہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست کا ڈنکا پیٹنے والے آج کورونا سے مزاحمت میں پھنسے نظر آرہے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ پورے ملک کو کورونا سے لڑنے میں کیرلا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے لیکن وہ فکر،
کیرلا کے بعد میں نے دوبارہ دہلی کا رخ کیا اور وہاں ڈاکٹر نسیم احمد اور ڈاکٹر جاوید انور کی ماتحتی میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔پھر میرے محترم دوست فیض صاحب کی مہربانی سے قطر آنا نصیب ہوا اور یہاں بھی ملیالی لوگوں کے بیچ زندگی کا اگلا سفر شروع ہوا جن میں وینودن سرتھ اور انوپ علی جیسے اچھے ملیالی میرے دوست بنے۔جو ہمیشہ مجھ کو اپنے سے جوڑ کر رکھتے ہیں اور یادوں اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
کیرلا کے لوگوں کی سوچ،





