تحریر: Dr. Craig Considine
(پروفیسر شعبۂ سماجیات،رائس یونیورسٹی، ٹیکساس، ریاستہائے متحدہ امریکہ)
ترجمہ: راشد خورشید
آج پوری دنیاۓ انسانیت کورونا وائرس جیسی خطرناک اور مہلک وبا کی زد میں ہے۔حکومتیں اور اخباری ذرائع اس کی روک تھام کے لیے بہتر سے بہتر علاج دریافت کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ایسے نازک ترین حالات میں جہاں ایک طرف ماہرین صحت کی اشد ضرورت ہے تو دوسری جانب ان سائنسدانوں کی بھی جو دن رات ایسے متعدی امراض کے اثرات اور اس کے پھیلاؤ کے مطالعہ میں مصروف ہیں۔
ماہر مناعیات (Immunologist) ڈاکٹر انتھونی فاؤچی (Anthony Fauci) اور میڈیکل رپورٹر سَنجے گپتا کہتے ہیں کہ صفائی ستھرائی کا اہتمام کرکے نیز قرنطینہ میں رہ کر کورونا وائرس (COVID-19) جیسی مہلک وبا کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ بالکل یہی بات آج سے چودہ سو سال قبل بھی کسی شخص نے کہی تھی… کون تھا وہ؟؟
وہ تھے مذہب اسلام کے بانی نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جو مہلک بیماریوں کے معاملے میں کوئی "روایتی" ماہر تو نہیں تھے،
چنانچہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے: "جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پھیل چکا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم کسی ایسے علاقے میں ہو،
نیز فرمایا: "تم (متعدی) بیمار کو صحت مند کے پاس مت لے جایا کرو"۔
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لوگوں کو ہمیشہ پاکیزگی و طہارت کی تلقین کی تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکے۔درج ذیل احادیث ملاحظہ ہوں:
"صفائی نصف ایمان ہے"۔
"نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھو لیں،
"کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا برکت کا باعث ہے"۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایسے وقت میں اپنے متبعین کو کیا نصیحت کرتے ہیں جب وہ کسی مرض میں مبتلا ہوجائیں،
"دواؤں کے ذریعہ علاج و معالجہ کرو… کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ فرمائی ہو،
غالبا سب سے اہم بات،
نویں صدی کے فارسی اسکالر امام ترمذی (رحمہ اللہ) نقل کرتے ہیں: "ایک مرتبہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بدوی کو دیکھا جو اپنے اونٹ کو باندھے بغیر ہی جارہا تھا،
الغرض محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جہاں مذہب سے رہنمائی حاصل کرنے پر زور دیا ہے وہیں اس بات کی بھی ترغیب دی ہے کہ لوگ اپنی اور تمام انسانیت کی سلامتی اور فلاح و بہبود کی خاطر بنیادی احتیاطی تدابیر بھی اختیار کریں۔
بالفاظ دیگر آپ نے لوگوں کو اپنی سوجھ بوجھ کا بھی استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔





