ایک چیز ہے عالم ہونا ایک چیز ہے عالم بننا۔سو جو عالم ہے وہ علم بانٹے مگر جو عالم نہیں ہے وہ خود کو معقولات و منقولات کا امام سمجھ کر علم کے نام پر اپنی لن ترانیاں بانٹے ایسے شخص کو "متعالم" (Wiseacre) کہتے ہیں۔جھولا چھاپ ڈاکٹر جس طرح جسمانی صحت کے لیے مضر ہے اسی طرح یہ متعالمین علمی صحت کے لیے۔نیم حکیم خطرہ جاں،
علامہ صالح الفوزان سے پوچھا گیا (اور یہ فتوی ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے) کہ عالم اور متعالم کے درمیان فرق کیسے ہو؟ تو علامہ صاحب نے فرمایا کہ یہ بہت واضح بات ہے۔علماء لوگوںکے درمیان معروف ہیں۔جب کہ متعالم وہ شخص ہے جس نے علماء و مشائخ سے کسب علم نہ کیا ہو،
متعالمین کا امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ راسخین فی العلم کے پاس جو علمی اصالت (Scientific Authenticity) ہے اس سے حسد کرتے ہیں،
جَهِلْتُ فَعَادَيْتُ الْعُلُومَ وَأَهْلَهَا
كَذَاك يُعَادِي الْعِلْمَ مَنْ هُوَ جَاهِلُهْ
ایسے لوگ عام طور پر خاص ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پائے جاتے ہیں۔یہ لوگ خود اشتہاری اور خود توصیفی (Self Glorifying) کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔خود گنگو تیلی رہتے ہیں مگر بڑے بڑے علمی راجوں کو اپنے آگے ہیچ سمجھتے ہیں۔مثلا ابھی ہفتہ عشرہ قبل ایک خبر یہ دیکھنے میں آئی کہ انجینئر محمد علی مرزا جو مصحف سے دیکھ کر بھی قرآن صحیح ڈھنگ سے پڑھنے سے عاجز ہے،
یہ پہلی شرط تھی۔اب اس کے بعد باقی شرائط ذکر کرنا فضول ہے۔ویسے سنا ہے مرزا صاحب نے مناظرے کے اس "چیلنج" سے بھی رجوع کرلیا۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ متعالم کے حوالے سے شرع شریف کا موقف کیا ہے۔آئیے ایک آیت اور ایک حدیث سے اس کو سمجھ لیتے ہیں۔
اللہ پاک نے فرمایا: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (الأعراف:33)
"اے محمد! ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام،
امام عالی مقام ابن قیم رحمہ اللہ اس آیت پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ نے محرمات کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں۔اور سب سے کم مرتبہ محرمات یعنی فواحش کا ذکر ابتدا میں کیا،
اس سے صاف پتہ چل گیا کہ ایسے متعالمین جو اللہ کے نام پر بے سروپا باتیں کرتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔
حدیث پاک میں پیغمبر رؤف و رحیم نے فرمایا ہے:
"الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" (بخاری 5219،
جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کے جوڑے پہنے (یعنی جھوٹا ہے)۔
متعالمین کے حوالے سے میرے ذاتی مشاہدات اور شنیدہ حکایات تو بہت سی ہیں مگر طوالت کے خوف سے قلم انداز کرتا ہوں۔حد تو یہ ہے کہ یہ چھٹ بھیے متعالمین ائمہ عظام تک پر کمنٹ پاس کر رہے ہوتے ہیں۔جرأت بے جا کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر سوال کا جواب دینا فرض منصبی گردانتے ہیں خواہ "مکروہ" تک کی تعریف نہ پتہ ہو۔ان کو نہیں معلوم کہ محض اپنے وقت کے نہیں،
متعالم کی بعض علامات:
1- ایسی کتابوں کو پڑھنے کا مشورہ دے جس کا اس نے خود مطالعہ نہ کیا ہو۔
2- وہ ناخواندہ کتابوں کا حوالہ دے کر یا نام لے لے کر دھونس جمائے۔
3- ایسے دینی مسائل میں کلام کرے جو مدت مدید تک مطالعہ کے متقاضی ہوں۔
4- کبار علماء جن امور پر زبان کھولنے سے کتراتے ہوں ان مسائل پر بے تکان بولے۔
5- اچھوتے مسائل بیان کرے اور انوکھی تشریحات کرے۔
6- انوکھی معلومات دینے کا مدعی ہو۔
7- علوم و فنون کے متفقہ اصولوں میں غلطیاں نکالے۔
8- لن ترانیاں جھاڑے۔خود کو ہرفن مولی سمجھے۔بزبان خود اپنی تعریف میں رطب اللسان رہے۔
9- علماء راسخین پر کلام کرے۔
10- وہ ہر مسئلہ پر کچھ عمومی دلائل کا انطباق کرنے پر ہمیشہ تیار رہے۔
11- قرون ثلاثہ میں جو تعامل رہا ہو اس کے برخلاف کوئی رائے دے۔
12- اپنے فالوورز بڑھانے پر پورا زور صرف کرے۔
13-ہر فن پر بے لاگ گفتگو کرے۔
14- بدیہات اور دین سے ضروری طور پر معلوم باتوں میں بھی موشگافی کرے۔
15- ہر چیز میں شک کرے اور اختلاف کو روا رکھے۔بطور خاص صحابہ کی شان میں نازیبا کلمات کہنا جائز سمجھے۔
16- خود اشتہاری کو ہدف اصلی بنا لے۔وغیرہ وغیرہ
یہ کچھ اوصاف ہیں جو بالعموم متعالمین میں پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ مزید اوصاف بھی ہو سکتے ہیں۔متعالمین کب کیا کر بیٹھیں اس بابت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
دراصل لوگوں کی علم کے لحاظ سے چار قسمیں ہیں۔
1- عالم جو اپنے علم کا شعور رکھتا ہو۔
2- عالم جو اپنے علم کا شعور نہ رکھتا ہو۔
3- جاہل جس کو اپنی جہالت پتہ ہو۔
4- ایسا جاہل جس کو اپنی جہالت کا شعور نہ ہو۔یعنی جاہل محض۔
سو یہ متعالمین اس آخری صنف سے ہی بی لانگ کرتے ہیں۔
علاج: اس کا علاج ایک حرف سے ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ متعالمین اپنے اندر سے الف نکال لیں۔یعنی متعلمین بن جائیں۔
دوسرا علاج حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ والا ہے۔
واقعہ یوں ہے کہ بنوتمیم کا ایک آدمی جس کا نام صبیغ بن عسل تھا۔وہ کچھ کتابیں لے کر مدینہ آیا۔اور لوگوں سے متشابہات قرآن کے سلسلے میں سوال کرنے لگا۔اس کی بھنک امیر المومنین عمر بن خطاب کے کانوں میں پڑی تو انھوں نے کھجور کی کچھ ٹہنیاں تیار کیں اور اس شخص کو طلب کیا۔جب وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بیٹھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کون ہو؟
اس نے کہا: اللہ کا بندہ صبیغ
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور میں اللہ کا بندہ عمر ہوں۔
پھر اس کی طرف لپکے اور کھجور کی ٹہنیوں سے اس کو پیٹنا شروع کردیا۔یہاں تک کہ اس کے چہرے سے خون بہنے لگا تو اس نے کہا: امیر المومنین بس کیجیے۔وہ ساری الول جلول چیزیں اور خرابات جو میرے دماغ میں تھیں اب نکل گئیں۔
(( أخرجه الدارمي (1/ 252،
آخر میں حافظ کا شعر لکھ کر بات ختم کرتا ہوں:
رموز مصلحت ملک خسروان دانند
گدای گوشہ نشینی تو حافظا خاموش





