مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعت تراویح پڑھتے تھے؟
بجواب: امسال مسجد حرام و مسجد نبوی میں 10 رکعت تراویح کیوں؟
قارئین کرام!
جب بھی ماہ رمضان کی آمد ہوتی ہے بر صغیر میں آٹھ اور بیس رکعت تراویح کا مسئلہ چھڑ جاتا ہے،
سب سے پہلے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کی نماز پڑھی،
تراویح کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفرادی پڑھی(صحیح بخاری:١١٤٧) جماعت کے ساتھ پڑھائی(صحیح بخاری:٢٠١٢) انفرادی طور پر (صحیح بخاری:٢٠٠٨) اور جماعت کے ساتھ (جامع ترمذی:٨٠٦/اس کی سند صحیح ہے) پڑھنے کی ترغیب بھی دلائی۔
جب یہ ثابت ہوگیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تراویح پڑھی،
اس کا جواب فقیہۃ الامۃ،
یہ جواب عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس شخص کے سوال پر دیا تھا جس نے ماہ رمضان کی راتوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تھا۔
اور یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں جماعت کے ساتھ صرف تین دن تراویح پڑھی۔(صحیح بخاری:٧٢٩)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال تراویح کی نماز حجرہ میں پڑھا کرتے تھے،
چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سال رمضان میں جتنی رکعات نماز پڑھتے دیکھا امت تک پہنچا دیا۔
اب دوسری بات یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی تھی وہ کتنی رکعات پڑھائی تھی؟
اس کا جواب بھی ایک صحابی رسول دیتے ہیں،
مذکورہ دونوں حدیثوں سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر اور گھر کے باہر ماہ رمضان میں صرف آٹھ ہی رکعات تراویح ادا کرتے تھے،
چنانچہ امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلاصہ کلام یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعت تراویح ثابت نہیں،
ایک اور بات یہ کہ بعض حضرات کہتے ہیں تراویح اور تہجد میں زمین وآسمان کا فرق ہے،
یہ تفریق بالکلیہ صحیح نہیں،
اگر تہجد نیند سے اٹھ کر پڑھنے کا نام ہے تو پھر اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز کب پڑھی؟ اور یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہجد واجب تھی۔
نیز جب عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کی جماعت کا اہتمام کیا تو اس وقت فرمایا کہ جو لوگ ابھی یعنی عشاء کے بعد تراویح پڑھ رہے ہیں ان سے بہتر وہ لوگ ہیں جو ابھی سو رہے ہیں اور رات میں اٹھ کر تراویح کا اہتمام کریں گے۔(صحیح بخاری معلقا:٢٠١٠)
پتہ چلا یہ دعوی بالکل باطل ہے کہ تہجد رات میں اٹھ کر پڑھی جاتی ہے،
اور یہ دعوی قرآن کے خلاف بھی ہے،
خلاصہ کلام یہ کہ جسے ہم رمضان میں تراویح کے نام سے جانتے ہیں،
اگر کوئی یہ کہے کہ مختلف اور متعدد نام متعدد نماز پر دلالت کرتے ہیں تو یہ منطق سرے سے بے کار ہے۔کیوں کہ فجر کی نماز کو صلاۃ الفجر،
جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تراویح اور تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں تو ان سے گذارش ہے کہ ان دونوں نمازوں کی رکعات،
اور اگر یہ کہا جائے کہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس اور دیگر مہینوں میں آٹھ پڑھتے تھے تو یہ بھی صحیح نہیں،
اس بات کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کتنی رکعت پڑھنے اور پڑھانے کا حکم دیا؟
إمام مالک رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب موطأ کے اندر صحیح سند سے ذکر کیا ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم الدارمی رضی اللہ عنہما کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ کعات تراویح پڑھائیں۔(موطأ مالک:١/ ١١٥/ ٤)
قارئین کرام! ایک بات اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ اس اثر کے علاوہ جتنے بھی آثار تراویح کی رکعات کی تحدید میں عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں یا تو وہ مخالفت کی وجہ سے شاذ ہیں یا پھر وہ ضعیف ہیں،
مذکورہ دلائل سے یہ بھی پتہ چلا کہ تاجدار مدینہ،
اس لیے یہ کہنا کہ چودہ سو سال سے مسجد نبوی میں تراویح کی نماز بیس رکعت ہوتی آئی ہے صریح جھوٹ ہے،
اس لیے اگر شیخ سدیس حفظہ اللہ نے رئاسہ الحرمین کے ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے حرمین شریفین میں دس رکعت تراویح کا فیصلہ لیا ہے تو یہ عین سنت کے موافق ہے،
اس فیصلے پر انگشت نمائی کرنے کی بالکل ضرورت نہیں،
خلاصہ کلام یہ کہ آٹھ رکعات تراویح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی سنت ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پوری زندگی عمل کرتے رہے،
البتہ نفلی نماز ہونے کی وجہ سے گیارہ سے زیادہ پڑھنے کو علماء نے یہ کہہ کر جائز قرار دیا ہے کہ افضل نبی کی سنت پر اکتفا کرنا ہے،
رات کی عام نماز کے رکعات کی تحدید فقہاء کے قول سے زیادہ بہتر ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے؟
نیز جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیس رکعت تراویح پر اجماع ہو گیا تھا ان کا یہ دعویٰ بھی باطل ہے،
اس لیے اجماع کا دعوی باطل ہے۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں نبی کی صحیح سنت کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،
واللہ اعلم بالصواب





