آج فجر کی نماز کے لیے بیدار ہوا۔وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر فجر کی اذان کا انتظار کرنے لگا۔کسی مسجد سے اذان کی آواز آئی مگر صاف نہیں تھی۔کچھ دور سے آرہی تھی۔دوسری مسجد سے اذان کی آواز آئی وہ بھی صاف نہیں تھی۔تیسری اذان کی آواز آئی جو بہت صاف تھی۔کوئی بزرگ اپنے پہاڑی گوجری لہجے میں لرزتی ہوئی آواز میں پوری طاقت وقوت کے ساتھ کہہ رہا تھا:
اللہ اکبر اللہ اکبر،
میں تھوڑی دیر کے لیے اس اذان کی صداؤں میں کھوگیا۔مجھے لگا جیسے میں پہلی بار اذان سن رہا ہوں۔آپ تصور کیجیے کسی شہر کی سب سے اونچی پہاڑی سے اگر صدا دی جائے تو کیسا محسوس ہوگا۔مجھے حضرت بلال یاد آگئے۔مکہ کے وہ مسلمان یاد آگئے جو مکے کے اونچے اونچے ٹیلوں پر چڑھ کر اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا کرتے تھے۔
آپ سوچیے ایسے حالات میں جب کہ ہندوستان میں مسلمان نہایت تشویشناک حالات سے گزر رہے ہوں۔ساری دنیا میں قوم مسلم ذلیل ہو خوار ہو۔مظلوم ہو مقہور ہو۔ستم بالائے ستم یہ کہ کرونا کا یہ عذاب جس نے رہے سہے مسلمانوں کو بھی مسجدوں سے دور کردیا ہو۔منارے ساکت وصامت ہوں۔محراب مرثیہ خواں ہوں کہ نمازی نہ رہے۔ساتھ ہی ان طاقتور حکومتوں کو بھی ذہن میں رکھیے جن کی ہر خفیہ اور اعلانیہ کوشش اس بات کی ہوتی ہو کہ مسلمانوں کا ناطقہ کیسے بند کیا جائے۔ان کے اللہ اور ان کے رسول کو اور ان کے مذہب کو کس طرح بدنام کیا جائے۔اسلام کے چراغ کو کیسے بجھایا جائے،
یہ وہ نغمہ تھا جس نے آج مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔یہ وہ آواز تھی جس میں عجیب سی کشش تھی۔جس میں عجب وغریب اتار چڑھاؤ تھا۔جس میں روحانیت تھی۔جس میں ایمانی حرارت تھی۔جو فضا میں اس طرح لہرارہی تھی جیسے افق عالی سے پہلی بار نازل ہورہی ہو۔وہ دل میں ایسے اتر رہی تھی جیسے کلام الہی روح میں سرایت کرتا ہے۔وہ ذہن کو ایسے منور کررہی تھی جیسے صبح صبح شبنم کی پہلی بوند گلاب کی پنکھڑی کو تروتازہ کردیتی ہے۔
مجھے یقین ہے یہی وہ پیغام ہے جو سرمدی ہے۔یہی وہ آواز ہے جو ابدی ہے۔جس کی جوت سے ایک نہ ایک دن سارا عالم منور ہوکر رہے گا۔جس کی روحانیت کرونا کا عذاب دم توڑ دے گی اور ساری دنیا اسی کائنات کے خالق کے آگے سربسجود ہوجائے گی۔ان شاء اللہ





