خشوع وخضوع نماز کا اہم ترین حصہ ہے،
موجودہ صورت حال میں وبائی مرض "کورونا" کے پیش نظر نماز تراویح کا مسجد میں باجماعت ادا کرنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے،
سب سے اہم اور بنیادی چیز تو یہ جان لیں کہ تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے جس کے بہت سے فوائد ہیں،
دوسری چیز یہ کہ ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آدمی بلا ضرورت قرآن مجید کھول کر نہ پڑھے،
لیکن اگر کسی کو نماز میں مزید قرآن کی تلاوت کرنی ہو،
پہلی صورت: إمام کا قرآن مجید ہاتھ میں لے کر نماز پڑھانا۔
دوسری صورت: اکیلے شخص کا قرآن مجید ہاتھ میں لے کر نماز پڑھنا۔
تیسری صورت: امام کے پیچھے کوئی مصحف لے کر کھڑا رہے تاکہ وہ امام کو غلطی پر متنبہ کرسکے۔
چوتھی صورت: مذکورہ تینوں صورت کے علاوہ ہو،
پہلی صورت جائز ہے،
إمام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر اضطراری کیفیت ہو یعنی (بغیر قرآن دیکھے تراویح ممکن نہ ہو) قرآن دیکھ کر تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے،
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن دیکھ کر امامت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نیز ان سے ماہ رمضان میں قرآن دیکھ کر امامت کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: اگر اضطراری کیفیت ہو تو کرسکتا ہے۔
یعنی اگر قرآن دیکھے بغیر قیام اللیل ممکن نہیں ہے تو قرآن سے دیکھ کر امامت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام زہری رحمہ اللہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو ماہ رمضان میں مصحف سے دیکھ کر پڑھتا تھا،
امام عطاء،
البتہ فرض نمازوں میں مصحف سے دیکھ کر پڑھنا مکروہ ہے،
اور امام زہری رحمہ اللہ کے مذکورہ قول سے پتہ چلتا ہے کہ منفرد بھی ضرورت پڑنے پر بحالت نماز قرآن دیکھ پڑھ سکتا ہے۔
رہی بات تیسری صورت کی یعنی امام کو تنبیہ کرنے کی غرض سے کوئی پیچھے مصحف کھول کر کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں؟
تو اس سلسلے میں انس رضی اللہ عنہ کے متعلق منقول ہے کہ: انس رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے ہوتے تھے اور ان کا غلام ان کے پیچھے مصحف لے کر کھڑا ہوتا تھا،
اس اثر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام کے پیچھے ضرورتا مصحف کھولا جا سکتا ہے،
یہاں پر ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ بعض علماء بحالت نماز قرآن سے دیکھ کر پڑھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں،
لیکن یہ قول حد درجہ ضعیف ہے،
اسی طرح دوسری دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن دیکھ کر نماز پڑھنا عمل کثیر ہے یعنی قرآن کھول کر پڑھنا پھر اسے بند کرنا اور پھر اس کے اوراق کو پلٹنا یہ بہت زیادہ عمل ہے اور نماز میں اتنی حرکت اور عمل درست نہیں ہے،
یہ دلیل بھی درست نہیں کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ انھوں نے اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کو فرض نماز کے دوران اپنی گود میں اٹھا کر نماز پڑھی ہے،
جب بچی کو فرض نماز میں گود میں لے کر نماز پڑھنا جائز ہے تو پھر ضرورت کے پیش نظر قرآن ہاتھ میں لے کر نماز پڑھنا کیوں کر درست نہیں ہو سکتا؟
اس لیے مذکورہ دلیلوں کی روشنی میں ضرورت کے پیش نظر قرآن دیکھ کر تراویح یا دیگر نماز پڑھنا یا پڑھانا بلاکراہت جائز ہے۔
رہی بات چوتھی صورت کی یعنی بلا ضرورت مصحف لے کر امام کے پیچھے کھڑا رہنا جیسا کہ حرمین شریفین میں دوران تراویح مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں،
کیوں کہ اس میں بہت سے مفاسد ہیں،
1- جو قرآن کو اپنے ہاتھ میں اٹھائے رہتے ہیں وہ اپنے دائیں کو بائیں ہاتھ پر نہیں رکھ پاتے،
2- نماز کی حالت میں سنت یہ ہے کہ انسان کی نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہونی چاہیے جبکہ قرآن دیکھنے والے کی نگاہ قرآن پر ہوتی ہے۔
3- قرآن کھولنا،
4- جو لوگ امام کے پیچھے قرآن لے کر سنتے ہیں آپ ان میں سے بعض کو دیکھیں گے کہ سجدہ کرتے وقت وہ ایک ہاتھ سے قرآن پکڑے ہوتے ہیں،
خلاصہ کلام یہ کہ دوران نماز ضرورت کے پیش نظر مصحف سے دیکھ کر پڑھا جاسکتا ہے یا امام کے قراءت کی متابعت بغرض تنبیہ کی جا سکتی ہے،
واللہ اعلم بالصواب
.............................................................
(1) صحیح بخاری تعلیقا (40/1)
(2) المصاحف (صفحہ: 460)
(3) المغنی (335/1) بتصرف
(4) مصنف ابن أبي شيبة (7223/123/2)
(5) المصاحف (449)
(6) صحیح مسلم (حدیث نمبر 435)
(7) شیخ البانی،





