جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اجماع صریحی کی عمدہ اور نادر مثال

تحریر: مامون رشید ہارون رشید17 اپریل، 20201,694قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

آج تک جب بھی اجماع کا مبحث پڑھتے تھے تو وہاں اجماع کی دو قسمیں پاتے ایک اجماع صریحی،دوسری اجماع سکوتی۔جب ہم اجماع صریحی کی تعریف پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ عہد نبوی کے بعد کسی بھی زمانے میں امت مسلمہ کے تمام مجتہدین کا صراحۃ کسی شرعی مسئلے پر متفق ہو جانا۔اس تعریف کے تناظر میں جب ہم تطبیق کے لیے اس کی کوئی مثال ڈھونڈتے تو اس وقت علمائے کرام یہ بتاتے کہ عہد صحابہ میں دادی کو میت کے مال کا چھٹا حصہ دینے پر اجماع ہوا تھا۔لیکن جب یہ اعتراض کیا جاتا کہ کیا تمام مجتہدین صحابہ اس وقت یکجا تھے اور کیا ان سب نے صراحۃ یہ فیصلہ دیا تھا یا امیر المومنین کے فیصلے پر سب نے اتفاق کر لیا تھا؟ چنانچہ اس زمانے میں سعودی حکومت نے عورت کے لیے ڈرائیونگ کی اجازت مرحمت کردی ہے تو کیا یہ کہا جائے کہ اس مسئلے میں سعودی علما کا اجماع ہے؟ تو پھر خاموشی اور یہ کہہ دینے کے علاوہ کہ اجماع کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے بس اتنا سمجھ لیں کہ اجماع امت شرعی حجت ہے،کوئی بات نہ بن پاتی۔

اور جب ہم اجماع سکوتی کی تعریف پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ اجماع سکوتی عہد رسالت کے بعد کسی شرعی مسئلے کے سلسلے میں کسی حکم پر امت مسلمہ کے بعض مجتہدین کا متفق ہوجانا اور دیگر مجتہدین کا اس مسئلے میں ان کی مخالفت نہ کرنا اجماع سکوتی کہلاتا ہے۔

اجماعات کا اکثر بلکہ مکمل ذخیرہ اسی قبیل سے ہے۔مگر یہاں بھی بے شمار اعتراضات سینہ تانے کھڑے ہیں۔پہلا تو یہ کہ کیا خاموشی کا مطلب حدیث تقریری کی طرح موافقت ہے؟ ہو سکتا ہے کسی مجتہد نے اختلاف رائے کے باوجود کسی خاص سبب کی بنا پر کچھ نہ کہا ہو۔اسی طرح بذات خود اجماع کی تعریف پر بھی اعتراض واشکال ہے کہ آیا تمام مجتہدین میں شیعہ،خوارج،روافض،معتزلہ،جہمیہ،اشاعرہ اور اہل الظواہر بھی شامل ہیں یا صرف اہل سنت و جماعت؟؟؟ حالانکہ یہ بھی اسلامی فرقے ہیں گرچہ گمراہ اور بدعتی ہوں! کیونکہ اللہ کے رسول نے "ستفترق أمتي إلى ثلاث وسبعين فرقة" چنانچہ اللہ کے رسول نے "أمتي" کہہ کر ان تمام فرقوں کو مسلمانوں میں شامل کیا ہے۔

مگر جب کورونا وائرس کا معاملہ سامنے آیا اور لاک ڈاؤن کی وجہ ترک جمعہ وجماعت کی بات آئی اور بلا تفریق مسالک دنیا کے تمام مجتہدین نے جواز ترک جمعہ و جماعت کا فتویٰ دیا اور غیر مجتہد علما نے بھی بسر وچشم اسے قبول کر کے اس کی موافقت و تائید کی تواس طرح کے تمام اعتراضات واشکالات کا تار و پود بکھر گیا اور اعتراضات سے بالا تر موانع سے معدوم اور شروط کا جامع اجماع صریحی کی ایک عمدہ اور ناقابل انکار مثال مل گئی۔

اور اس طرح دور صحابہ کے بعد وقوع اجماع کے منکرین کا مسکت جواب بھی فراہم ہو گیا۔

فللہ الحمد والمنۃ علی ذلک

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اجماع صریحی کی عمدہ اور نادر مثال - دی فری لانسر | دی فری لانسر