عام لوگوں کے مابین یہ بات بے حد مشہور ہے کہ حجرۂ عائشہ صدیقہ میں ایک چوتھی قبر کی جگہ خالی ہے جس میں عیسی علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صاحبین کے بغل میں دفن کیا جائےگا۔
بلا شبہ اس پر ہمارا ایمان وعقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام کو اللہ رب العالمین نے زندہ اٹھا لیا ہے،
پھر آپ کو بھی دوسروں کی طرح موت کا مزہ چکھنا ہے جس سے کسی کو رستگاری نہیں۔لیکن آپ کی وفات کہاں ہوگی اور آپ کی قبر کہاں ہوگی؟ اس کے متعلق کوئی بھی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔اس لیے آپ کے بارے میں یہ کہنا کہ آپ کو حجرۂ عائشہ میں دفن کیا جائےگا محتاج دلیل ہے۔
ہاں اس سلسلے میں بعض روایتیں پیش کی جاتی ہیں لیکن وہ ثابت نہیں ہیں۔نیچے ان روایات کا مختصر حال بیان کیا جا رہا ہے:
پہلی روایت:
عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ينزل عيسى ابن مريم إلى الأرض،
(عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے،
اسے ابن الجوزی نے العلل المتناہیہ (2/433،
أنبأنا أبو القاسم الحريري قال أنبأنا أبو طالب العشاري قال أنا ابن أخي ميمي قال حدثنا أبو علي بن منصور قال نا عبد الله ابن عبيد الله بن مهدي قال نا أبو عبد الرحمن قال نا محمد بن يزيد عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عبد الله بن يزيد الحبلي عن عبد الله بن عمر۔
اس میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی پر علما نے سخت کلام کیا ہے۔[دیکھیں: میزان الاعتدال (2/561-563)]۔
ابن الجوزی اسے روایت کرنے کے بعد فرماتےہیں: "هذا حديث لا يصح والإفريقي ضعيف بمرة"۔(یہ حدیث صحیح نہیں اور افریقی ایک دم ضعیف ہیں۔)
اور حافظ ذہبی بشمول اس روایت کے ان کی بعض منکر روایتوں کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:"فهذه مناكير غير محتملة"۔ (یہ ایسی منکر روایتیں ہیں جو چلنے کے قابل نہیں۔)
اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ (14/141،
دوسری روایت:
عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «مكتوب في التوراة صفة محمد وعيسى ابن مريم يدفن معه» (تورات میں محمد کی صفت مکتوب ہے،
اسے امام ترمذی نے اپنی «جامع» (5/588،
آجری کے یہاں عثمان بن الضحاک کے بجائے الضحاک بن عثمان ہے،
ترمذی کی روایت میں اس کی سند کے ایک راوی ابومودود فرماتے ہیں: "وقد بقي في البيت موضع قبر"۔ (حجرہ میں ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔)
لیکن یہ سند ضعیف ہے،
1–عثمان بن الضحاک بن عثمان الاسدی ضعیف ہیں۔[دیکھیں: الکاشف للذہبی (2/8،
2- محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام الاسرائیلی کی توثیق کسی معتبر امام جرح وتعدیل کی جانب سے نہیں ملتی۔ابن حبان نے انھیں "الثقات" (5/368) میں ذکر کیا ہے۔اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقبول کہا ہے،
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی سوانح میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور کہا ہے: "هذا لا يصح عندي،
3–یہ اسرائیلی روایت ہے۔اسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا ہے۔اسے حکمًا بھی مرفوع نہیں کہا جاسکتا کیونکہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اسرائیلیات روایت کرنے میں معروف ہیں۔نیز اس روایت میں "مکتوب فی التواراۃ" کہہ کر اس کا مصدر بھی انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ایک اسرائیلی روایت ہے۔اور اسرائیلی روایات کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ ان کی نہ ہم تصدیق کریں نہ جھٹلائیں۔لہذا یہ روایت اگر عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی ہوتی پھر بھی اس مسئلہ کی دلیل نہیں بن سکتی تھی،
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے موقوفًا ضعیف کہا ہے۔[الضعیفہ (حدیث نمبر 6962)]۔
تیسری روایت:
عن عائشة قالت: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم: إني لا أراني إلا سأكون بعدك, فتأذن لي أن أدفن إلى جانبك, قال: وأنى لك ذاك الموضع, ما فيه إلا قبري وقبر أبي بكر وقبر عمر وقبر عيسى بن مريم صلى الله عليه وسلم.
(عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرا خیال ہے میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔آپ اجازت دیں کہ آپ کے بغل میں میں بھی مدفون ہوں۔تو آپ نے فرمایا: تمھیں وہاں کہاں جگہ مل سکتی ہے۔وہاں پر تو صرف میری اور ابوبکر وعمر اور عیسی بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہوگی۔)
اسے ابن عساکر نے «تاریخ دمشق» (47/522-523) اور ابن الابار نے «التکملہ لکتاب الصلہ» (1/20) میں روایت کی ہے۔بظاہر دونوں کی سند ایک ہی ہے سوائے بعض فروق کے جن کا ذکر آگے آرہا ہے:
ابن عساکر کی سند درج ذیل ہے:
أخبرنا أبو الحسن السلمي حدثنا أبو محمد التميمي أنبأنا تمام بن محمد البجلي وعقيل بن عبيد الله الأزدي قالا أنبأنا محمد بن عبد الله بن جعفر الرازي حدثنا أبو أمية الأحوص بن المفضل حدثنا أبي المفضل بن غسان حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد العزيز العمري عن صالح بن شعيب بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبي بكر عن عائشة۔
محمد بن عبد الله بن عبد العزيز العمری کا ترجمہ مجھے نہیں ملا۔شاید یہ محمد بن عبد اللہ بن عمر العمری ہوں جیسا کہ ابن الابار کے یہاں ہے۔
اسی طرح صالح بن شعیب کا بھی ترجمہ نہیں ملا،
اور ابن عساکر کی سند میں اماں عائشہ سے روایت کرنے والے ابوبکر کون ہیں اس کا مجھے پتہ نہ چل سکا۔ابن الابار کے یہاں راوی کی حیثیت سے ان کا ذکر نہیں آیا ہے،
"حدثنا شعيب بن طلحة من ولد أبي بكر الصديق رضي الله عنه عن أبيه عن جده عن عائشة رضي الله عنها"۔
درج ذیل علتوں کی بنا پر اس کی سند ضعیف ہے۔
1–محمد بن عبد اللہ بن عمر العمری کو عقیلی نے ضعیف راویوں میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہوتی اور نہ روایت حدیث کے باب میں یہ معروف ہیں۔اور ابن حبان فرماتے ہیں: کسی بھی صورت میں ان سے احتجاج جائز نہیں۔اسی طرح دار قطنی اور ابن مندہ نے بھی ان پر کلام کیا ہے۔[دیکھیں: المجروحین لابن حبان (2/282)،
2–شعیب بن طلحہ مختلف فیہ ہیں۔ابوحاتم رازی نے انھیں "لاباس بہ" کہا ہے۔اور ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔جب کہ ابن معین فرماتے ہیں "میں انھیں نہیں جانتا"،
3–اور ان کے والد طلحہ بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابی بكر کی توثیق مجھے کسی معتبر امام جرح وتعدیل کی جانب سے نہ مل سکی۔ابن حبان نے انھیں "الثقات" (4/392) میں ذکر کیا ہے۔جب کہ یعقوب بن شیبہ ان سے مروی ایک حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: "ورجال إسناده معروفون،
لہذا یہ روایت ثابت نہیں۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی فتح الباری (7/66) میں اسے غیر ثابت شدہ کہا ہے۔
چوتھی روایت:
قال سعيدُ بنُ المسيب: فيه يُدْفَنُ عيسى بنُ مريمَ عليه السلام.
(سعید بن المسیب فرماتے ہیں: وہاں پر–یعنی حجرہ عائشہ میں-عیسی بن مریم علیہ السلام کو دفن کیا جائےگا۔)[الدرة الثمينہ في أخبار المدينہ لابن النجار (المتوفی 643ھ) (ص404،
یہ سعید بن المسیب سے معلقا مروی ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔[فتح الباری (7/66)]۔
خلاصہ کلام یہ کہ ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے جس پر اعتماد کرتے ہوئے یہ دعوی کیا جا سکے کہ عیسی علیہ السلام کو حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفن کیا جائےگا۔جب کہ اس کے برخلاف ایسے قرائن ہیں جن کی بنا پر یہ دعوی درست معلوم نہیں ہوتا۔
سب سے پہلا قرینہ تو یہ کہ کس کی وفات کب اور کہاں ہوگی اس کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں جیسا کہ سورہ لقمان کی آخری آیت میں ہے۔اس لیے یہ کہنا کہ عیسی علیہ السلام کی قبر حجرۂ عائشہ میں ہوگی اس بات کی طرف قوی اشارہ ہے کہ ان کی وفات مدینہ میں ہوگی۔اور یہ دعوی نص قرآنی سے ٹکراتا ہے،
دوسری بات یہ کہ حجرۂ عائشہ میں کیا اتنی جگہ باقی ہے کہ اس میں ایک اور قبر بنائی جاسکے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قصہ شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں پر صرف تین قبروں کی گنجائش تھی،
"كنت أريده لنفسي،
(یہ جگہ میں خود اپنی قبر کے لیے چاہتی تھی،
لیکن ایک دوسری روایت سے اس کا تعارض لازم آتا ہے۔وہ یہ کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی تھی کہ مجھے ان کے ساتھ (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صاحبین کے ساتھ) دفن نہ کرنا،
اس وصیت سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ وہاں پر ان کی قبر کی گنجائش تھی ورنہ یہ وصیت کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان دونوں روایتوں میں یہ تطبیق دی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کا اندازہ یہی تھا کہ وہاں پر صرف ایک قبر کی گنجائش ہے لیکن جب انھیں دفن کر دیا گیا تو مزید ایک قبر کی گنجائش باقی رہی۔[فتح الباری (7/66)]۔
لیکن اس کے باوجود اس واقعہ سے زیر بحث مسئلہ میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ حجرۂ عائشہ میں عیسی علیہ السلام کی قبر کی بات درست نہیں،
خلاصہ کلام یہ کہ حجرۂ عائشہ میں عیسی علیہ السلام کے دفن ہونے کی بات ثابت نہیں ہے۔اور یہ ایک غیب کی خبر ہے کہ ان کی وفات اور قبر کہاں ہوگی،





