آج کافی لوگ بھارت کی موجودہ سرکار کو ہٹلر کی طرز پر چلنے والی فاشسٹ حکومت کا نام دیتے ہیں۔اور پھر ایک بڑی تعداد یہ سوچ کر اطمینان سے بیٹھ جاتی ہے کہ ہٹلر کے فاشزم کی طرح اس کا بھی ایک دن خاتمہ ہوجائے گا۔ہٹلر کی نازی پارٹی کی طرح بھارت کی فاشسٹ پارٹی بھی اپنی موت آپ مر جائے گی۔یہ ایک خام خیالی بھی ہو سکتی ہے۔ہاں ہٹلر کے فاشزم اور بھارت کی موجودہ سرکار کے رویوں میں بڑی حد تک مماثلتیں موجود ہیں۔لیکن جو بنیادی فرق ہے وہ نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہے۔یہ فرق ہمارے ملک میں فاشزم کو وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جو جرمنی میں فاشزم کو نہ مل سکی۔
جرمنی میں ایک دائیں بازو کی بے وقعت سی پارٹی ہوا کرتی تھی۔1919 میں تیس سالہ سابق فوجی ایڈولف ہٹلر نے اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔آگے چل کر اس پارٹی کا نام نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (نازی) پڑا۔1928 تک نازی بہت بڑی پارٹی نہیں تھی۔لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب جرمنی معاشی بحران سے گزر رہا تھا۔بے روزگاری عام تھی۔عوام موجودہ حکمرانوں سے مایوس ہو چکے تھے۔ہٹلر بلا کا خطیب تھا۔اس نے صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔اس نے پارٹی میں وہ روح پھونکی کہ یہی بے وقعت پارٹی چند سالوں کے اندر اندر جرمنی کی مقبول ترین پارٹی بن گئی۔اور ہٹلر اس پارٹی کا اکیلا روح رواں تھا۔وہ اپنی مقبولیت کی بنا پر 1933 میں جرمنی کا چانسلر بن گیا۔اس نے چانسلر بنتے ہی اپوزیشن کو بالکل مفلوج کر کے رکھ دیا۔اپوزیشن لیڈران کو یا تو قتل کروا دیا یا ان کی آواز بالکل دبا دی۔قتل کے لیے عدالت جانے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی تھی۔اس کے باوجود جرمنی میں اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے جرمنی کو معاشی بحران سے کافی حد تک باہر نکال دیا تھا۔اور جرمنی سے بے روزگاری کا خاتمہ کر دیا تھا جس سے جرمن عوام اس کے دیوانے ہو گئے۔اس نے جو بات کہی سب نے من وعن تسلیم کر لی۔ہٹلر ایک متشدد قسم کا نسل پرست تھا۔اس نے سامی النسل اقوام کی نسل کشی شروع کر دی۔خصوصاً یہودیوں کی۔یہود کے علاوہ اس نے روسیوں اور ادیواسیوں کا بھی قتل عام کروایا۔ایسا نہیں ہے کہ یہ نسل کشی دوسری عالمی جنگ میں بے ساختہ سرزد ہوگئی تھی۔بلکہ نسل کشی کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔لوگوں کو قتل کرنے کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔قتل کیے جانے والوں کی لسٹ تیار کی جاتی تھی۔ان کی لاشوں کو صابن وغیرہ بنانے کے لیے استعمال بھی کیا جاتا تھا۔مرنے والوں کے قیمتی سامان،
اب ہم جرمنی کے عوام کی طرف آتے ہیں جن کو ہٹلر نے گمراہ کر رکھا تھا،
مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب "سو عظیم آدمی" میں ہٹلر کے تذکرہ کے دوران لکھا ہے کہ "اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ 1920ء یا 1930ء کی دہائیوں میں جرمنیوں کی خواہش یہی رہی کہ ان کی حکومت ایسی شدید حکمت عملیاں اختیار کرے،
اب اپنے دیش بھارت کی طرف آتے ہیں۔ہم اگر ماضی میں زیادہ پیچھے نہ جائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے دیش میں بھی ایک دائیں بازو کی کمزور سی پارٹی ہوا کرتی تھی۔اسے عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں تھی۔لیکن اچانک ایک ہوشیار لیڈر نے پورے ملک میں رتھ یاترا نکال کر اس بے جان پارٹی میں روح پھونک دی۔دیش کا سارا متشدد دایاں بازو اس کی طرف کھنچا چلا آیا۔اور وہ مردہ پارٹی زندہ ہو گئی۔اس نے حکومت بھی حاصل کر لی۔لیکن پھر بھی اسے وہ اکثریت حاصل نہ ہوئی جو ہٹلر کو حاصل تھی۔ایک عرصہ حکومت کرنے کے بعد یہ پارٹی حکومت سے بے دخل کر دی گئی۔لیکن اس کے حکومت سے بے دخل ہونے کے بعد نہ تو وہ پارٹی مری۔نہ ہی اس کے لیڈران میدان سیاست سے بے دخل ہوئے۔نہ تو متشدد دائیں بازو سے دیش کو نجات ملی۔بلکہ دیش میں فرقہ واریت بڑھتی گئی۔اقلیتوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں۔خصوصاً مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے جاتے رہے۔جن میں انھیں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔دایاں بازو اندر اندر کام کرتا رہا۔حکومتیں ان کی ریشہ دوانیوں کو نظر انداز کرتی رہیں۔کیونکہ خود حکومتوں اور تمام تر سرکاری اداروں میں ان کی پشت پناہی کرنے والے افراد موجود تھے۔ملک ایک طرف معاشی ترقی کے راستے پر تیزی کے ساتھ گامزن تھا تو دوسری طرف کرپشن نے عوام کی کمر توڑ رکھی تھی۔مہنگائی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔عوام موجودہ حکومت سے بیزار ہو چکے تھے۔اسی بیچ دائیں بازو کی پارٹی کو پھر موقع مل گیا۔عوام کے مذہبی جنون اور بلاؤ کی خواہش نے پھر حکومت ان کے ہاتھ میں تھما دی۔ملک کا بھائی چارہ جو آزادی بعد سے ہی شدت پسند اکثریت کی نفرت کا شکار ہوتا چلا آیا تھا اپنی آخری سانسیں لینے لگا۔ملک کی معاشی حالت بہتر ہونے کے بجائے بد سے بدتر ہونے لگی۔اور ہوتی جا رہی ہے۔بینک ڈوبتے جا رہے ہیں۔بڑی بڑی کمپنیوں کا دیوالیہ نکلتا جا رہا ہے۔لاکھوں لوگ بے روزگار ہوتے جا رہے ہیں۔دوسری طرف مذہبی جنون بھی اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ملک کی اکثریت کے دلوں میں اقلیتوں کے خلاف،
اب ہم دیکھیں کہ کس طرح ہماری فاشسٹ حکومت ہٹلر کی فاشسٹ حکومت سے مختلف ہے۔ہٹلر کی فاشسٹ حکومت وقتی تھی جو ہٹلر کے ساتھ فنا ہو گئی۔لیکن ہمارے ملک کی جو سیاسی صورتحال ہے وہ کوئی آٹھ دس سال کی پیداوار نہیں ہے۔اس کے پیچھے صرف دو چار لوگوں کا ہاتھ نہیں ہے۔بلکہ اس کے پس منظر میں لگ بھگ سو سال پرانی تاریخ ہے۔اور جہاں تک بھارتی عوام کا تعلق ہے یہ جرمن عوام سے بہت مختلف ہیں۔جرمن قوم بہر حال سیاسی اور سماجی شعور کے حوالے سے آج کے بھارتیوں سے درجہا بہتر تھے۔جہاں تک بھارتی عوام کا تعلق ہے،
بلکہ ہمارے دیش کے فاشزم کے پس منظر میں جو تاریخ ہے اس پر نگاہ ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے لیے اصل چیلنج تو وہ نظریہ ہے جو ملک کی آزادی کے پہلے سے ہی ملک میں پاؤں پسار رہا ہے۔ملک کی تقسیم کا سانحہ اسی نظریہ کی نتائج میں سے ایک تھا۔پھر تقسیم کے بعد سے اب تک کے مسلم کش فسادات،





