انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔اس لیے سماج سے الگ ہوکر زندگی نہیں گزارا جاسکتا۔اس کی تمام تر مشکلات کا حل سماج میں موجود ہے۔مال ودولت کی وسعتوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہےاس لیے ایک دوسرے کی محتاجی کو دور کرنے کے لیے آپسی تعاون،
حالات کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم تمام انسانوں کی مدد کریں کیونکہ حالات نے انھیں مجبور کردیا ہے۔وہ ہمارے تعاون،
صرف پیسوں ہی سے مدد نہیں ہوتی۔علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کتاب الفوائد ص 250 میں لکھتے ہیں کہ مسلمان کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کی کئی شکلیں ہیں: مال کے ذریعہ،
نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ سب سے زیادہ ہمدرد وغمگسار تھے چنانچہ ہمیں بھی اسی طرح آپ کی امت کے لیے غمگسار ہونا چاہیے۔
ہمارے وہ بھائی جو اس معاملے میں ایک دوسرے کے معاون،
أنا أغني الشركاء عن الشرك من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه (مسلم رقم 2985)
میں شرک والوں کے شرک سے بے پرواہ ہوں جو آدمی میرے لیے کوئی ایسا کام کرے جس میں میرے علاوہ کوئی میرا شریک ہو تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ ریا والا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں بلکہ وہ عمل کرنے والے کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔جب کسی عبادت میں ریا شامل ہو یعنی وہ عبادت محض دکھلاوے کے لیے کی جائے تو وہ ساری عبادت باطل ہوجاتی ہے اور وہ عمل کرنے والا دکھلاوے کی وجہ سے گنہگار اور شرکِ خفی کا مرتکب ہوتا ہے۔اگر کوئی بندہ اپنے کسی صالح عمل میں اللہ کی رضا کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی خوشنودی کا خواہشمند بھی ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شرک سے مستغنی ہے وہ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو محض اس کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے۔
اللہ سے دعا ہے کہ سب کو اخلاص کی توفیق دے،





