آج صبح بیگم کے ساتھ سبزی لینے اترا۔نیچے کافی گہما گہمی تھی۔اچھی خاصی تعداد میں لوگ ضروری اشیاء کی خریداری کر رہے تھے۔میں نے بیگم سے کہا آپ سبزیاں خریدیں تب تک میں دودھ اور بسکٹ وغیرہ لے لیتا ہوں۔
میں جب واپس آیا تو بیگم سامان لے چکی تھیں۔میں نے پوچھا کچھ اور لینا ہے؟ بولیں: نہیں۔لیکن ایک بات بیگم نے مجھ سے بتائی کہ جب وہ سامان خرید رہی تھیں تو دور سے ایک ٹھیلے والا بہت دیر سے گھور کر ان کی طرف ہی دیکھے جارہا تھا۔میں اس کے پاس گیا اور شکل دیکھتے ہی واپس لوٹ آیا۔بیگم نے کہا اسے کچھ بولے بغیر ہی واپس چلے آئے؟ میں نے کہا بیگم میں اسے پہچانتا ہوں وہ کباڑیا ہے،
ایک خوبی ہے بیگم کے اندر جس کی ستائش ہونی چاہیے۔بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں وہ مجھے بھلے ہی ڈانٹ ڈپٹ دیتی ہیں لیکن پیٹتی کبھی نہیں ہیں جب کہ میرے ایک پروفیسر دوست کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔کئی عینی شاہدین موجود ہیں جن کا دعوی ہے کہ بھرے بازار میں پروفیسر کو بیگم سے پٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔میرا پروفیسر دوست بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے اور کہتا ہے یہ تو اعزاز کی بات ہے گھر میں تو ہر کوئی پٹتا ہے مگر بازار میں مار کھانے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔
یہی کوئی دو مہینے پہلے کی بات ہے بیگم کے ساتھ امرت نگر مارکیٹ جانا ہوا،
قسمت اچھی تھی کہ مجھ سے پہلے بڑا بیٹا گھر میں داخل ہوا رات کا وقت تھا،
بیگم جتنی جلدی بھڑکتی ہیں اتنی ہی جلدی سرد بھی ہوجاتی ہیں۔وہ بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں مگر سینے میں ایک درد مند دل بھی رکھتی ہیں اس لیے انھیں سمجھانے میں زیادہ دقت نہیں ہوتی ہے۔
گھر آنے کے بعد میں نے سمجھایا کہ ہوسکتا ہے وہ ٹھیلے والا اس لیے تمھیں دیکھ رہا ہو کہ کچھ سامان اس کے یہاں سے بھی لے لو۔
اب یہی دیکھو نا اپنا وہ بغل والا حجام کام کاج بند ہونے کی وجہ سے پریشان تھا۔پھر اس نے سوچا کہ اس درمیان سبزی وغیرہ بیچ کر ہی بچوں کا پیٹ پال لے۔
وہ واشی مارکیٹ گیا وہاں سے سبزیاں خرید کر لایا اور ساری سبزیاں اسی دن بک بھی گئیں۔دوسرے دن وہ اور بھی زیادہ سبزیاں لے کر آگیا لیکن اس دن پورے دن میں صرف بیس ہی روپئے کا مال بکا جس کی وجہ سے اس کو کافی نقصان ہوا،
بیگم میری بات سن کر فورا کھڑی ہوگئیں اور بولیں چلو واپس اس ٹھیلے والے کے پاس چلتے ہیں۔
تھوڑی دیر میں ہم واپس ٹھیلے والے کے پاس کھڑے تھے۔بیگم کو دیکھ کر اس نے پوچھا آپا کیا چاہیے؟ بیگم وہاں سے کچھ مرچی،
سامان ضرور خریدیں مگر اس بات کا خیال رکھیں کہ صرف بڑی دکانوں سے ہی سامان خریدنے پر اکتفا نہ کریں ان کا کاروبار بڑے پیمانے پر ہوتا ہے اس لیے وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ دوچار مہینہ یا اس سے زیادہ دنوں تک ان کے گھروں میں راشن یا کھانے پینے کی قلت نہ ہو مگر جو ٹھیلے والے ہیں وہ روز کنواں کھودتے ہیں تبھی پانی پیتے ہیں۔اس لیے جب بازار میں نکلو تو یہ دھیان رہے کہ ان ٹھیلے والوں کے پاس بھی بال بچے ہیں اور ان کا پیٹ اس وقت بھرے گا جب ان کا سامان بکے گا۔





