کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا نبرد آزما ہے،
اس بیماری نے اتنے ہی دنوں میں دنیا کی معیشت کو تہ وبالا کردیا ہے اور اس کی اقتصادیات کا جنازہ نکال دیا ہے،
اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی ملکوں نے اپنے شہریوں کے تحفظ اور راحت رسانی کے لیے ضروری قدم اٹھائے جو ان کا فرض تھا۔اس سلسلہ میں حکومت سعودی عرب نے جو مثالی راحتی اقدامات کیے اور اپنے شہریوں اور اجانب کو طبی و اقتصادی پیکج دیے اور ان کے تحفظ اور آرام وراحت کو یقینی بنایا دنیا کا کوئی اور ملک اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکا،
سعودی عرب دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے اس خطرہ کو سب سے پہلے محسوس کیا اور سنجیدہ حفاظتی اقدام کیے جن میں عمرہ پر پابندی اور حرمین شریفین میں داخلہ اور وہاں باجماعت نمازوں کو انتہائی حد تک محدود کیا جانا سب سے اہم تھا۔پھر مملکہ کی تمام مساجد کو باجماعت نمازوں کے لیے بند کرنے کا بروقت فیصلہ جب دنیا کے بیشتر مسلمان ان فیصلوں پر تنقید کر رہے تھے،
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو اس بیماری سے لڑنے کے لیے اسی نے سب سے پہلے ایک خطیر رقم کا عطیہ دیا جس کا ڈبلو ایچ او نے بھی اعتراف کیا۔
سب سے پہلے سعودی عرب نے اس بیماری سے عالمی معیشت اور مستقبل میں خود اس کی اقتصادیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس کے نقصانات کے ازالہ یا اسے کم سے کم کرنے کے لیے انتہائی مؤثر اور فوری ضروری اقدامات کیے۔
بیس مارچ کو جب اس کے یہاں متاثرین کی تعداد سو تک بھی شاید نہیں پہنچی تھی اور ہلاکت ایک بھی نہیں ہوئی تھی اس نے اس بیماری سے مقابلہ اور اس کے اثرات سے نپٹنے کے لیے ایک کھرب بیس ارب ریال کا فنڈ جاری کیا جس کے لیے خادم حرمین شریفین نے وزیر کامرس اور وزیر مالیات کو بذات خود احکامات صادر کیے جس میں سے ستر ارب ریال اس بیماری سے لڑنے کے لیے درکار ضروری میڈیکل آلات اور اسپتالوں کو وینٹی لیٹر سمیت دیگر طبی سازوسامان اور ضروری ادویات کی فراہمی کے ساتھ ڈاکٹروں کی پروٹیکشن کے لیے حفاظتی ملبوسات وغیرہ کے لیے مختص کیے گئے۔
جبکہ پچاس ارب ریال اس بیماری سے مستقبل قریب میں ہونے والے اقتصادی خسارہ سے نپٹنے کے لیے مخصوص کیے گئے۔اس میں کرفیو،
اس نے جہاں سرکاری سیکٹر کے مستقل ملازمین کی ملازمتیں برقرار رکھیں بلکہ ان کی سیلری میں کسی طرح کی تخفیف بھی نہیں کی،
سعودی حکومت نے اس مسئلہ کے حل کے لیے جو پیکیج جاری کیا ہے اس سے اس کے خزانہ پر نو ارب ریال کا اضافی بوجھ پڑے گا جو ہندوستانی سکہ میں تقریباً ایک کھرب پچہتر ارب روپیہ ہوتا ہے اور اس اسکیم کا فائدہ ان بارہ لاکھ سعودی ملازمین کو ہوگا جوپرائیویٹ سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ان کی سیلری کے فی کس نو ہزار ریال ماہانہ تک کی ادائیگی کی ذمہ داری سعودی حکومت نے لی ہے اور اس کا اطلاق اسی ماہ اپریل سے ہوگا جو آخر جون تک جاری رہے گا اور ان کی کمپنیوں کو اس بات کے لیے بھی پابند کیا گیا ہے کہ اس دوران کمپنیاں ان ملازمین سے کوئی بھی کام نہیں لے سکتیں۔
رہ گیا مسئلہ باہری ملازمین کا تو ان کو کئی طرح کی فوری سہولیات و مراعات دینے کے ساتھ ان کمپنیوں کو جہاں یہ کام کر تے رہے ہیں پابند کیا گیا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی تنخواہیں بلا توقف اور بلا تخفیف جاری رکھی جائیں البتہ ان کمپنیوں کو ہونے والے نقصانات کے لیے کوئی لائحہ عمل اور روڈ میپ جلد تیار کیا جائے گا۔
اسی طرح منسٹری آف ہیومن رسورسز اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ کو بھی شاہی فرمان صادر کیا گیا جس کے تحت لوگوں کی راحت رسانی کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات کرنے کے لیے کہا گیا جن میں کام کے اوقات اور کام کے بوجھ میں کمی،
مکہ،
ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے ایک طرف جہاں کئی وزارتیں اپنی اپنی فیلڈ اور دائرہ کار میں مستعد اور چاق و چوبند راحت رسانی کے لیے موجود ہیں وہیں رفاہی ادارے بھی مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو یقینی بنا رہے ہیں۔ایک ایک شہر میں کئی درجن پک اپ اور چھوٹی بڑی گاڑیاں سامان کے ساتھ گشت کرتی رہتی ہیں اور جہاں کہیں بھی جس کو بھی ضرورت ہو اسے ڈلیور کرتی رہتی ہیں۔قیمتا یا بلا قیمت اس کے لیے کسی کو اپنی غربت یا محتاجی کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں پیش کرنا پڑتا۔سامان مفت حاصل کرنے کے لیے صرف اس کا یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند ہے یا قیمت کی ادائیگی سے قاصر ہے جس کا نتیجہ ہے کہ اشیاء خورد ونوش کی ایسی بہتات اور فراوانی ہے کہ عام دنوں میں ایسی نہ تھی۔سامان بھی نہایت معیاری اور عمدہ کوالٹی کا ہوتا ہے اور کھچڑی یا دال روٹی نہیں یعنی فقراء و مساکین کا کھانا نہیں بلکہ متوسط اور اونچے طبقہ کی ضرورت کا ہوتا ہے حتی کہ کئی کئی کلو گوشت مفت ملتا ہے۔غرض کہ حکام وقت کی نیک نیتی اور رعایا پروری کا نتیجہ ہے کہ چار سو برکتوں کا نزول ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قلت نہ کوئی بدامنی و بے چینی۔ایسے میں کس کو یاد رہ جائے گا کہ کورونا وائرس ایک خطرناک اور جان لیوا وبا ہے۔یہاں کی طرح نہیں کہ لوگ کورونا وائرس سے زیادہ فقرو فاقہ،





