ہم نے کبھی کسی سے عداوت بھی نہیں کی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہم نے کبھی کسی سے عداوت بھی نہیں کی
سچ بولتے رہے ہيں حمایت بھی نہیں کی
الزام آرہا ہے کہ ہم نے تمام عمر
جھیلا ہے ظلم اور بغاوت بھی نہيں کی
حضرت یہ کہہ رہے تھے بڑے آن بان سے
ہم نے کبھی کسی سے محبت بھی نہيں کی
تصویر کھلاتے ہوئے لوگوں کی لی تم نے
بس نام کمایا ہے عبادت بھی نہیں کی
موم بتی جلانے کو کہا اس نے کرونا!
اور ساتھ یہ کہا کہ جہالت بھی نہیں کی
ہم خود کبھی جو اپنی حقیقت رقم کریں
نماز پڑھائی ہے امامت بھی نہيں کی
پھر تیری غزل کیسے کوئی رنگ جمائے
اشعار لکھ دیے ہیں ریاضت بھی نہيں کی
دولت کے باوجود سکوں کا نہیں گزر
قرآن طاق میں ہے تلاوت بھی نہيں کی
ساگر ہمارے عہد کے قائد ہیں مقتدی
پیچھے چلا کیے ہیں قیادت بھی نہيں کی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





