دلوں میں الفتیں کم ہیں خلش زیادہ ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
گمانِ بد کی جہاں پرورش زیادہ ہے
حسد،غرور،انا،چپقلش زیادہ ہے
سزائے قتل سے بڑھ کر ہمارے مذہب میں
فساد کرنے پہ کچھ سرزنش زیادہ ہے
کسی کے سرد رویے سے سرد ہے موسم
کسی کے حسن کے صدقے تپش زیادہ ہے
تمام چہروں پہ پژمردگی نہیں یوں ہی
دلوں میں الفتیں کم ہیں خلش زیادہ ہے
پڑا ہے سابقہ ان سے کہ جن کی فطرت میں
فریب،مکر،دغا اور غش زیادہ ہے
یہ کس خیال نے بے چین کر دیا ہے انھیں
عیاں ہے چہرے سے دل مرتعش زیادہ ہے
کسی نظر میں محبت کی کچھ نہیں قیمت
سبھی سمجھتے ہیں زر میں کشش زیادہ ہے
جو جی حضوری میں رہتے ہیں صبح و شام ان پر
امیرِ شہر کی داد و دہش زیادہ ہے
میں کر و فر سے بہت دور ہوں سحر محمود
مرا مزاج حقیقت منش زیادہ ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





