جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

زندگانی جو یہ ہماری ہے

کلام: حمود حسن مبارکپوری15 اکتوبر، 20262,065قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگانی جو یہ ہماری ہے
فل اسکرین دیکھیں
زندگانی جو یہ ہماری ہے
پوچھ مت کس طرح گزاری ہے
اس لیے تجھ سے دوست داری ہے
دل کو امید زخم کاری ہے
آنکھ میں کچھ نہیں لہو کے سوا
وہ لہو مستقل جو جاری ہے
بے خودی نے بھلا دیا کہ یہاں
کیوں سکون اور بے قراری ہے
خشک ہو جائے شاخ دل نہ کہیں
سینہ محروم اشکباری ہے
صرف آواز سے نہ ٹوٹے گا
اے حسن! وہ سکوت طاری ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

زندگانی جو یہ ہماری ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر