اس کی خواہش تھی کسی جنگ میں مارا جاؤں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
چیختے،شور مچاتے ہی پکارا جاؤں
اس کی خواہش تھی کسی جنگ میں مارا جاؤں
پھینک دو لاش اٹھا کر کسی ویرانے میں
میں کوئی گل نہیں زلفوں میں سنوارا جاؤں
آشنا ہو نہ سکا آج تلک میں خود سے
نکتہ دانوں کی جماعت سے نکارا جاؤں
حوصلے آج بھی قائم ہیں اسی تاب کے ساتھ
اب کسی اور اذیت سے گزارا جاؤں
نہ ہی آواز کسی نے دی نہ دامن تھاما
بول کیا سوچ کے اس در پہ دوبارہ جاؤں
بے ثباتی کی حقیقت کا بھرم توڑنا ہے
بے خیالی کے سمندر میں اتارا جاؤں
اب تو وہ دور سیاست ہے جہاں میں مخلصؔ
منہ سے اک لفظ نکالوں بھی تو مارا جاؤں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
زمرہ:مشق سخنمحمد وسیم مخلصؔٹیگز:#اردو شاعری#مخلصؔ کی غزل#بہترین اردو غزل#اردو ادب#جدید اردو شاعری#شاعری کا مجموعہ
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





