جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کورونا جہاد!

تحریر: ریاض الدین مبارک31 مارچ، 20201,738قارئین4 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کورونا جہاد!
فل اسکرین دیکھیں

کورونا وائرس نے میڈیا کے منہ پر لگام اچھی طرح کس دیا تھا اور کئی دنوں سے ان کی آواز حلق سے باہر گھٹ گھٹ کر نکل رہی تھی۔تقریبا دو ہفتے بیت چکے تھے یہاں ذرائع ابلاغ کو اپنی دال بگھارنے کے لئے کوئی خاص تڑکا مل ہی نہیں رہا تھا جس کے ناطے ٹی وی چینلز سست روی کی پگڈنڈی پہ چلتے چلتے بزدلی کا شکار ہو رہے تھے۔مگر آج ٹی وی اینکروں اور سوشل میڈیا کے بھانڈوں کو مرکز نظام الدین کا ایسا مسالہ مل گیا کہ ان میں بے پناہ پھرتی آگئی اور گلا پھلا پھلا کر بھونکتے بھونکتے ان کی سانسیں پھولنے لگیں۔ممکن ہے COVID-19 نے انہیں اپنی بانہوں میں جکڑ لیا ہو۔بڑی بڑی ہیڈلائنز میں مسلم مخالف حکایت بنانے کے لئے آر ایس ایس کو سنہری موقعہ جو مل گیا۔ادھر کورونا وائرس میں ہورہی سبکی کو چھپانے کے لئے وزارت داخلہ کی قیادت میں بھاجپا کو بلی کا بکرا مل ہی گیا۔

میڈیا کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی بھی اس ہندو مسلم گیم میں اپنا رول اپنے انداز میں نبھا رہی ہے۔کیجریوال کا بھاشڑ سن کے ایسا لگا کہ ہندوستان میں کورونا کی وباء مرکز کے لوگوں کی دین ہے تبھی تو انہوں نے ایل جی سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکز کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرائیں۔ادھر میڈیا میں مرکز نظام الدین کو بلا وجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ان کا انٹرنیشنل اجتماع لاک ڈاؤن سے کافی پہلے ہوا اور لاک ڈاؤن کے فورا بعد 25 مارچ کو مرکز نے وہاں کی پولیس کو اپنے مہمانوں کے بارے میں اطلاع بھی دے دی تھی اور انہیں وہاں سے اپنے ٹھکانوں تک جانے کی اجازت بھی مانگی تھی مگر انتظامیہ نے ان کی ایک نہیں سنی اور آج ان پہ اعلانیہ تہمت لگائی جارہی ہے۔

کتنی بڑی حماقت ہے کہ ویشنو دیوی مندر میں لوگ موجود ہیں تو وہ پھنسے ہوئے ہیں اور مرکز میں لوگ جمع ہیں تو وہ چھپے ہوئے ہیں۔اس طرح یہ میڈیا لفظوں کی بازیگری دکھا کر نیا افسانہ بنا رہی ہے جبکہ مرکز نے سرکار کو مدد حاصل کرنے کے لئے لیٹر بھی لکھا تھا۔اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ ضرور ہونی چاہئیے تبھی تو سرکار پھنسے گی اور یہ پتہ چلے گا کہ سرکار کتنی ڈھکوسلہ باز ہے۔

لاک ڈاؤن کی مخالفت میں مذہبی رسوم کی ادائیگی کرتے ہوئے جو بھی ملا اسے خاطر خواہ سزا دی جائے گی،اس قانون کی رو سے صرف مرکز نظام الدین ہی کٹگھرے میں کیوں،اجودھیا میں یوگی کے ساتھ پوری پلٹن کیوں نہیں؟ جو لوگ تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کو قید کرنے کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں وہ کانیکا کپور کو جیل بھیجنے کی مانگ کیوں نہیں کر رہے ہیں جو کورونا پوزیٹیو ہونے کے باوجود تفریحی پروگراموں میں تھرکتی رہی اور اس کے ارد گرد کئی VIPs طواف کرتے رہے؟ اسی دوران مدھیہ پردیش کے تمام ایم ایل اے حکومت سازی کے لئے دل بدل کا اجتماعی گیم کھیل رہے تھے ان کی گرفتاری کیوں نہیں ہونی چاہئیے؟ اسی طرح لاک ڈاؤن میں دونوں ہاؤسیز کے سینکڑوں ایم پی جو پارلیمنٹ کا سیشن چلا رہے تھے انہیں کیوں نہیں گرفتار کرنا چاہئیے؟

میڈیا کو چاہئیے کہ اس طرح ایک مذہب کے لوگوں کو ہمیشہ کی طرح ٹارگٹ نہ کرے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیا متعصب ہے وہ جسے کٹگھرے میں کھڑا کرنا چاہتی ہے پہلے ہی طے کرلیتی ہے۔

واقعی کورونا متاثرین کا علاج تو ممکن ہے مگر اسلاموفوبیا کے بیماروں کا مرض لا علاج ہے!

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (4)

A
Abbas Alam
2 اپریل، 2020
Umda akkasi h Hey Almighty Allah you give strength to all human kind (properly to all Muslims) And destroy to all rancorous and jealous
م
محمد انیس خان
1 اپریل، 2020
صرف لکھنے سے کچھ نہیں ہونے والا اقدام کی ضرورت ہے
ا
ابوعفراء سراجی
31 مارچ، 2020
انسان کامنہج جو بھی ہو، لیکن اس کی باتیں غیر جانب دارانہ ہونی چاہئیں، جو کہ آپ کی تحریر اس پر دلالت کررہی ہے - اللہ آپ کے علم وعمل اور عمر میں برکت عطا فرمائے_ آمین
S
Sagheer
31 مارچ، 2020
ما شاء اللہ بہترین تجزیہ

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کورونا جہاد! - دی فری لانسر | دی فری لانسر