جس سَمے لوگ سر کھجاتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جس سَمے لوگ سر کھجاتے ہیں
علم والے ہی کام آتے ہیں
بوجھ سارا غریب اٹھاتے ہیں
اہل کرسی مزے اڑاتے ہیں
اک مصیبت سے جنگ لڑنے کو
ہم فقط تالیاں بجاتے ہیں
موت آتی نہیں کسی کو بھی
موت تک چل کے ہم ہی جاتے ہیں
کیا کہا تم نے وہ اکیلے میں
میرے اشعار گنگناتے ہیں
لوگ رکھتے ہیں دو دو چہرے عطا
اک دکھاتے ہیں اک چھپاتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





