یہ بات عیاں ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اروند کیجریوال کی قیادت میں دلی الیکشن کو بھاری اکثریت سے جیت کر بی جے پی کے غرور کو محض آتھ سیٹوں میں سمیٹ کر قابل عبرت بنادیا۔اس عظیم الشان فتح پر واقعی وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔دلی والوں کو بھی پوری آشا ہے کہ حسب وعدہ وہ پوری امانت داری کے ساتھ ان کی خدمت کرتے رہیں گے!
یوں تو وکاس اور ڈیویلوپمنٹ کا نعرہ ہندوستانی سیاست میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن اس سلوگن کے پیچھے چھپی نفرت اور مکمل فساد کا فاسد مادہ نکال کر پیش کرنا ضرور نیا ہے۔کیجریوال نے وہی کیا ہے۔اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ ایک ہندو اور راشٹر بھکت ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے ڈیویلوپمنٹ ایجنڈے کو نئی شکل عطا کی ہے۔پچھلے ٹرم میں اسی عام آدمی پارٹی نے اپنے اعلان کردہ منشور کے مطابق کتنے ترقیاتی کام کئے اور کتنا بڑھا چڑھا کر اس کا پرچار کیا،
ہندوستانی ووٹر ابھی اتنے بالغ نہیں ہوئے کہ انہیں کسی ایک کسوٹی پر پرکھا جا سکے! یہاں ہر چناؤ نئے رنگ وروپ کا ہوتا ہے اور فتح نصیب پارٹی ووٹروں کے حسب منشا اپنا لائحہ عمل پیش کرتی ہے۔تجزیہ نگار کا اپنا الگ زاویہ نگاہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ کچھ ظاہر اور کچھ مخفی عوامل تلاش کرکے اپنا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔یہاں لوک سبھا سے اسمبلی انتخابات تک کے محدود سفر میں لوگوں کی ترجیحات بدل جایا کرتی ہیں! یہی دلی جہاں تقریبا نو ماہ قبل لوک سبھا الیکشن میں اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو دھول چاٹنی پڑی تھی اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے سرفراز ہوئی اور کل جسے عوام نے کلی طور پر مسترد کردیا تھا آج اسے سینے سے لگایا ہے اور دوسری پارٹیوں کو دھول چٹائی ہے!
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر لوک سبھا میں شرمناک ہزیمت اور اسمبلی میں قابل فخر جیت کے پیچھے کون سے اسباب کار فرما رہے؟
ایک طرف کیجریوال اینڈ کمپنی کے مطابق یہ الیکشن کام کی بنیاد پر لڑا اور جیتا گیا ہے۔بات اگر کام کی ہی تھی تو اسی پارٹی کے آٹھ ہارنے والے امیدواروں کو چھوڑئے خود ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کو اپنے ہی حلقے سے جیتنے میں کیوں ناکوں چنے چبانے پڑے؟ آخری راؤنڈ کی گنتی تک پوری پارٹی کی سانس جہاں تھی وہیں رک سی کیوں گئی تھی؟ دوسری طرف تجزیہ نگاروں کی جانب سے ایک عام بات یہ کہی جا رہی ہے کہ اس الیکشن میں نفرت اور فرقہ واریت کی سیاست کو مات دی گئی ہے! پولارائزیشن بری طرح ناکام رہا،
ان سب کے باوجود اس ہار جیت میں دو سب سے اہم اور نمایاں عناصر تھے:
۱-Freebies یعنی مفت کی چیزیں
۲-ہندو آئیڈیولوجی
ہندوستان میں سب جانتے ہیں ووٹروں کی اکثریت مڈل کلاس یا مزدور طبقہ ہی ہے جس کے لئے بجلی،
دوسرا فیکٹر جس نے اپنا بڑا رول ادا کیا وہ ہے کیجریوال کا کھلے عام ہندو آئیڈیولوجی کو سراہنا اور بغیر شور مچائے اسے عملی طور پر ثابت کرنا۔بی جے پی کے پاس اگر اپنے ‘رام’ کا ٹیگ تھا تو کیجریوال کے پاس رام جی کے سب سے معتمد لیفٹینینٹ ‘ہنومان’ تھے۔بی جے پی نے دھارا 370 منسوخ کیا تو کیجریوال نے فورا اس کی تائید کی۔اجودھیا میں بابری مسجد کو کالعدم قرار دے کر رام مندر تعمیر کا فیصلہ آیا،
حالیہ شہریت ترمیمی ایکٹ CAA یا NRC کے خلاف کیجریوال نے آج تک کوئی رسمی بیان نہیں دیا،
اس کے علاوہ ایک اور اہم چیز جو بطور خاص حالیہ دلی کے اسمبلی الیکشن میں نظر آئی وہ تھی کیجریوال کا کسی مسلم حلقۂ انتخابات میں شریک نہ ہونا۔ظاہر ہے کیجریوال کے سوا مسلمان اور کاے ووٹ دیتا چنانچہ اس بار سبھی مسلم حلقوں سے عام آدمی پارٹی کے پانچوں امیدوار منتخب ہوئے لیکن کیجریوال نے ان کے کسی انتخابی مہم کی ریلیوں میں جانے سے مکمل احتراز کیا تاکہ ہندو ووٹ اثرانداز نہ ہوسکے۔
کل گیارہ فروری کو الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اروند کیجریوال نے پارٹی ہیڈ کوارٹر کی چھت پر اپنے کارکنوں کو مبارکباد دی،
ہنومان اور بھارت ماتا کا ریفرینس اپنی اہمیت کے اعتبار سے معنی خیز بھی ہے اور قابل توجہ بھی! عام آدمی پارٹی کی حریف بی جے پی نے اب تک عوامی پیغام میں ہندوتوا اور نیشنلزم کی سماگری کا ہی تڑکا لگایا ہے لہذا کیجریوال نے بھی انہیں اجزائے ترکیبی کو چنا مگر اس کی حکایت بدل دی۔کیجریوال نے ٹی وی سیٹ پر بیٹھ کر ہنومان چالیسا کا وظیفہ پڑھا اور ہندوؤں کو باور کرایا کہ وہ بھی دیوتا بھکت ہے،
عین ممکن ہے دلی سے باہر نکل کر دوسرے صوبوں میں بلکہ ملکی سطح پر جانے کے لئے کیجریوال کا یہ نیا طریق کار اور نئی اسٹریٹیجی ہو۔یہ تجربہ دلی میں تو خوب کارگر رہا اور کہا جا سکتا ہے کہ گجرات ماڈل کی طرح دلی ماڈل ابھر رہا ہے!





