" سیٹھ جی،
" تو پھر آگیا رے حرامی! آج کتنی چاۓ بڑھا لی ہے رے بہن...!" سیٹھ جی نے گولو کو موٹی موٹی گالیوں سے نوازا.
" یقین کیجیے،
" چل رے مادر.... جانتا ہوں تم لوگوں کو،
" سیٹھ جی،
" ٹھیک ہے،
گولو کے ساتھ یہ روز کا معاملہ تھا. سولہ سال کا گولو چاۓ کی ایک دوکان پر ملازم تھا. آس پاس کی دوکانوں پر چاۓ پہونچانا اور حساب کروانا اس کا کام تھا. کام تو آسان تھا لیکن ذلت بے انتہا تھی. 'سیٹھوں' کے اس محلہ میں اس جیسے غریب سے کوئی بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا. بات بات پر ماں بہن کی گالی ملتی تھی. لیکن کر بھی کیا سکتا تھا،
" پیٹ کے لیے سب کچھ سہنا پڑتا ہے." سولہ سال کا بوڑھا گولو زور سے بڑبڑاتا،
لیکن آج گولو کچھ الگ دکھائی دے رہا تھا. چہرہ ستا ہوا تھا،
" پانچ ہزار روپیہ ایڈوانس لے چکا ہے،
بادل نخواستہ ایک ہاتھ میں چاۓ کی کیتلی اور دوسرے ہاتھ میں 'چوپڑی' تھامے گولو سیٹھ جی کے کارخانے کی طرف چل دیا!!!
" سیٹھ جی،
" حرامی کا پلا! پھر اپنی منحوس 'چوپڑی' دکھا رہا ہے،
" خبردار،
پہلے تو سیٹھ جی کو اپنی کانوں پر یقین نہیں آیا پھر چہرہ پر مصنوعی سنجیدگی اوڑھ کر اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو دیکھا. آخر میں نگاہیں گولو کے چہرے پر مرکوز کر کے ٹھٹھے مار مار کر ہنسنے لگا. ارد گرد بیٹھے لوگ بھی ہنسنے لگے.
" لاٹ صاحب کو دیکھو. کہہ رہے ہیں کہ ماں کی گالی مت دینا،
سیٹھ جی اپنا جملہ پورا بھی نہ کر پایا تھا کہ اس کے حلق سے بڑی بھیانک چیخ نکلی بالکل ویسی ہی جیسی کہ کسی تنومند بھینسے کو ذبح کرتے وقت اس کے حلق سے نکلتی ہے.
گولو نے کیتلی کی کھولتی ہوئی ساری چاۓ سیٹھ جی کے چہرے پر انڈیل دی تھی!
اس واقعہ کے بعد سے گولو تو اس محلہ میں نہیں دکھائی پڑا لیکن اس کی چاۓ آج بھی سیٹھ جی کے چہرے پر دکھائی دیتی ہے،





