بتاريخ: 2019-01-03
مترجم: ساجد اختر
دسمبر 2019 کو پریورتن چوک لکھنؤ میں جب میں نے احتجاج میں شرکت کیا تو میرا یہ احتجاج محض اس نام نہاد قانون سی اے اے کے خلاف نہیں تھا۔
اس سی اے اے کے خلاف تو تھا ہی مگر اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے اسباب تھے جو ایک طویل مدت سے میرے جیسے مسلمان کے دل میں ابال مار رہے تھے۔وہ وہاں اس لیے بھی جمع ہوئے تھے کیونکہ وہ چھ سال کے اس طویل عرصہ میں مودی حکومت کے مسلم مخالف ایجنڈا کے خلاف بھی اپنا احتجاج درج کرانا چاہ رہے تھے۔ان کا یہ احتجاج محمد اخلاق،
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی یہ ایجنڈا 2014 سے ہی جاری تھا تو پھر مسلمانوں کو اسے محسوس کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟
بطور وزیر اعظم مودی کے پہلے ٹرم میں مسلم مخالف ایجنڈا کو باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ نافذ کیا گیا۔جس نے اجتماعی احتجاج کو روک لیا،
جبکہ دوسرے ٹرم میں مئی 2019 ہی سے حکومت نے اپنے مسلم مخالف ایجنڈا کو اپگریڈ کرنا شروع کردیا اور اس کو باقاعده قانونی حیثیت دی جانے لگی۔جس کا آغاز طلاق ثلاثہ بل کے پاس ہونے سے ہوا۔جو مسلم مرد کی اپنی بیویوں کو فوری طلاق دینے پر قید کیے جانے کی دھمکی دیتا ہے،
جب ایجنڈا قانون کی شکل اختیار کرنے لگے تو محاذ آرائی نہ کرنے والی عقلمندی آپ کو نہیں بچا سکتی۔جب آپ کو کسی دیوار کی جانب دھکیلا جانے لگے اور آپ کے پاس مزید پیچھے ہٹنے کی گنجائش باقی نہ رہ جائے تو آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
لہٰذا مسلسل اکسائے جانے کے اور چھ سال کے طویل عرصہ کے صبر کے بعد مسلمان مختلف شہروں میں کثیر تعداد میں ہاتھوں میں پلے کارڈ لیے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج میں نکل پڑے۔
یہ مظاہرات الزامی طور پر بی جے پی اقتدار ریاستوں میں پر تشدد ہونے لگے۔جس نے مظاہرین پر پولس کے مظالم کے لیے ایک عذر پیش کر دیا۔یہی وہ خوف تھا جس نے مسلمانوں کو مودی کے پہلے ٹرم میں احتجاج کرنے سے روک دیا،
کتنے غیر مسلم اس احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں اور ہندوتوا کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
جن میں سے کچھ لوگوں نے مسلم مظاہرین کے اسلامی نعروں سے اپنی تکلیف کا اظہار كيا ہے مثلا "الله اكبر" اور "لا اله الا الله" ششی تھرور نے ٹویٹ کیا
“You can’t fight Hindutva communalism by promoting Muslim communalism. Identity politics will destroy India.”
یعنی: آپ ہندوتوا کی عصبیت کا مقابلہ مسلم عصبیت کی تشہیر سے نہیں کر سکتے۔شناختی سیاست ہندستان کو برباد کر دے گی۔
مسلمان اپنی مذہبی شناخت اور دینی نعروں کو بلند کر رہے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کو اس عصبیت کا نشانہ ان کے مذہب کی بنا پر ہی بنایا جا رہا ہے۔اگر حکومت مجھ کو میرے اعتقاد کی وجہ سے نشانہ بناتی ہے تو میں اس پر اجتماعی طور پر زور دوں گی ہی۔ایک یہودی سیاسی مفکر ہنا آرینٹ جس نے 1930 میں جرمنی سے نازی کو بھگایا تھا۔لکھتا ہے
“If one is attacked as a Jew, one must defend oneself as a Jew. Not as a German, not as a world-citizen, not as an upholder of the Rights of Man.”
اگر کسی فرد پر حملہ یہودی کے طور پر ہو،
جمہوریت آپ کو آپ کے نقطۂ نظر سے احتجاج کا حق دیتی ہے۔ایک غیر متاثر اکثریت صرف بطور ہندوستانی احتجاج کر سکتی ہے۔اور ایک متاثر اقلیت کو یہ حق ہے کہ وہ بطور ہندوستانی اور ساتھ ہی ساتھ بطور اقلیت بھی احتجاج کر سکے۔
لكهنؤ میں 16 دسمبر 2019 کو ایک چھوٹے سے احتجاج میں مجھ کو اللہ اکبر کا نعرہ لگانے سے روک دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاملہ ہندستان کے متعلق ہے نہ کہ مذہب کے۔
میں اس مظاہره سے واپس لوٹ آئی جہاں مجھ کو بحیثیت مسلمان احتجاج کرنے سے منع کر دیا گیا۔
کچھ لوگوں نے یہ عذر پیش کیا کہ مذہبی نعرہ حکومت کے ایجنڈا کو تقویت پہنچائےگی اور آئیڈیا آف انڈیا کو نقصان۔
کیوں مسلمانوں کو ہی آئیدیا آف انڈیا کے نام پر نشانہ بنایا جاتا ہے خواہ وہ احتجاج ہو یا ووٹ دینے کے وقت۔
مسلمانوں کو احتجاج سیکولر بنائے رکھنے کے بجائے غیر مسلم "میں بھی مسلمان" کا پلے کارڈز بھی تو لا سکتے تھے،
ہندستان کو اکثریتی تانا شاہی سے بچائے رکھنے کی ذمہ داری تو اکثریتی طبقہ پر ہی ہونی چاہیے نہ کہ اقلیتوں پر۔
کچھ عام ہندؤوں نے اس ذمہ داری کو انجام دیا جو تعریف کے قابل ہیں،
کتنی ہی مسلم خواتین جو حجاب نہیں لگاتی تھیں انھوں نے اسے محض اس لیے لگانا شروع کردیا تا کہ وہ اپنی شناخت کی حفاظت کرسکیں۔میں نے بھی ایسا ہی کیا،
تب سے میں عوامی جگہوں پر حجاب پہننے لگی ہوں۔حکومت مجھ کو میرے مسلم ہونے کی وجہ سے نشانہ بنا رہی ہے تو مجھے چاہیے کہ میں اپنے کمفرٹ کے لیے مسلم بن جاؤں۔





