جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کیا آپ کو بھی مدد کی ضرورت ہے؟

تحریر: جویریہ سعید25 دسمبر، 20191,338قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

مینٹل ہیلتھ پر الحمدللہ اب اتنی گفتگو ہونے لگی ہے کہ لوگ سوچنے بھی لگے ہیں اور مدد بھی ڈھونڈتے ہیں اس لیے کہ:

مجھے ڈر لگتا یے۔

مجھے شدید گھبراہٹ کے دورے پڑتے ہیں۔

میں بہت اداسی اور تھکن میں مبتلا ہوں۔

میرے ساتھ زیادتی ہوئی جس کی وجہ سے میری خود اعتمادی ختم ہوگئی،میری عزت نفس کچلی گئی۔

شاید میں ڈیپریشن میں مبتلا ہوں۔

میرے بدن پر نیل ہیں اور میری روح بدزبانی سے مجروح ہے۔

مگر مجھے لگتا ہے کہ ایک اور حوالے سے آگاہی عام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کو بھی مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے اگر آپ:

دوسرے کو اذیت پہنچا کر سکون محسوس کرتے ہیں۔

کسی کی تعریف یا خوشی سے دل میں شدید بے آرامی اور نفرت محسوس کرتے ہیں۔

دوسروں کو زبانی،جسمانی یا جذباتی اذیت رسانی کی اکساہٹ محسوس کرتے ہیں۔

خواتین یا معصوم بچوں کو غلط نظر سے دیکھتے ہیں۔

دوستوں،ازواج،رشتے داروں کو باہم محبت اور خوشی سے ملتا جلتا دیکھنے پر جلتے کڑھتے ہیں۔

اگر آپ کا ذہن منفی اور نقصان پہنچانے والے خیالات سے بھرا رہتا ہے۔

نازیبا فلمیں دیکھنے کی لت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

محسوس کرتے ہیں کہ آپ سے وابستہ اہم لوگوں کو اکثر آپ سے شکایات رہتی ہیں۔یا وہ آپ سے ڈرے ہوئے رہتے ہیں۔

اکثر شدید غصہ آتا ہے اور چیزوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

آپ کو دوسروں کے درد کا احساس نہیں ہوتا اس لیے وہ بار بار آپ کو احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارا دین ہمیں لوگوں کے لیے اچھا سوچنے اور حسن اخلاق کی دعوت بھی دیتا ہے اور اس کی تربیت بھی کرتا ہے۔اور آپ کو ان تربیتی ذرائع سے خود کو جوڑ کر اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔لیکن اگر آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ کوشش کے باجود ان عادات پر قابو نہیں کر پارہے تو ضروری ہے کہ آپ کسی سے مدد کے لیے رجوع کریں۔اس میں کوئی برائی نہیں۔

دیکھیے جب کوئی بھنور میں پھنس جائے تو اس کے لیے کسی خارجی سہارے کو تھامنا ضروری بھی ہوتا ہے اور مفید بھی۔

ذاتی تجربات کے حوالے سے

ایک مرتبہ ایک ایسے صاحب نے مدد کے لیے ایک ماہر سائکائٹرسٹ سے رجوع کیا جن کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کو پڑھاتے ہیں مگر انھیں ان بچوں کے بارے میں نامناسب خیالات آتے ہیں۔اس لیے وہ مدد چاہتے ہیں۔اگرچہ موقع پر موجود ڈاکٹر خواتین و حضرات کو غصہ آیا مگر راقم کا یہی خیال تھا کہ ان صاحب کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ مدد کے لیے خود آئے ہیں۔ورنہ کتنے ہی لوگ یا تو اکیلے لڑتے ہیں یا پھر نفسانی خواہشات کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں۔

ایک صاحب نے رجوع کیا کہ وہ اپنی بیوی پر تشدد کرتے ہیں اور بعد کو انھیں افسوس ہوتا ہے اس لیے وہ اس عادت بد سے چھٹکارا پانے کے لیے واقعی مدد چاہتے ہیں۔

بہادر بنیے۔اپنے اندر ایسی علامات محسوس ہوں جن سے کوشش کے باوجود چھٹکارا ممکن نہ ہوتا ہو تو مدد کے لیے رجوع کیجیے۔آپ بھی ایک ایسی مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں جہاں سکون دوسروں کو اذیت دے کر نہیں بلکہ حسن عمل سے کشید کیا جاتا ہے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ح
حماد
30 دسمبر، 2019
ماشاءاللہ بہترین تحریر۔ لیکن ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کی مدد کرنے سے زیادہ ایسے لوگوں کا مذاق بنانا پسند کرتا ہے۔ اور ایک ایسی خود اعتمادی میں جیتا ہے جس میں لوگ خود کو کسی معذور کے ساتھ جڑا ہوا دیکھنا پسند نہیں کرتے چاہے وہ آپ سے کتنے ہی قریب کیوں نا ہوں۔
H
Hamid ur Rehman
27 دسمبر، 2019
میرے خیال میں مجھ سے 70 سے 80 فیصد پاکستانی کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں کیوں ہم جن حالات میں زندگی بسر کر رہے جن آزمائشوں کا شکار ہیں انزائٹی، ڈپریشن، فسٹریشن غصے یا کسی اور صورت میں اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں خود محسوس بھی کرتے ہیں لیکن کہتے اس لیے ڈرتے ہیں کہ لوگ ہمیں نفسیاتی یا پاگل کہیں گے، بہت سے دوستوں کو جانتا ہوں جنہیں ایسے مسائل کا سامنا ہے نہ وہ کہہ سکتے نہ میں نشاندہی کرسکتا۔ ہم سب ہی بزدل ہیں ماشاء اللہ بہت اچھی تحریر ہے سب سے بڑھ کر ایک ایسے موضوع جس پر بات کرتے لوگ ڈرتے ہیں۔۔۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کیا آپ کو بھی مدد کی ضرورت ہے؟ - دی فری لانسر | دی فری لانسر