"کیب CAB" سی اے بی اس کے ذریعہ سے تمام گھس پیٹھیوں کو جو دیگر ملکوں سے آئے ہیں ان کو شہریت دینے کا بل اور مسلم قوم کو اس سے محروم رکھنے کی پالیسی.
شہریت ترمیمی بل جس انداز سے مسلمانوں کو گوناگوں مسائل سے گھیر کر انہیں پریشان کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے. یہ بل جہاں ایک طرف ملک کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دشمنی و عناد پیدا کرے گا وہیں ملک کی سالمیت کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے. کیا موجودہ حکومت اپنے تعداد کے بل پر جو چاہے وہ کرے،
موجودہ حکومت دراصل اپنے وہ تمام کارنامے جو اس نے ملک میں اپنے دوران حکومت انجام دئے ہیں جس میں ہر محاذ پر ناکام ہوئے ہیں اسی ناکامی اور شرمندگی کو چھپانے کے لئے نت نئے شوشے چھوڑ کر ملک کی عوام کو گمراہ کرنا اور ملک کی سالمیت کو تباہ کرنا اپنا حقیقی ایجنڈہ بنا لیا ہے. مسلم دشمنی اس قدر ان کے سر پر سوار ہے کہ پورے ملک کو اہل دنیا کے سامنے رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا.
اس بل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہندوستان کی گوناگونی تہذیب اور اخلاقیات پارہ پارہ ہو جائیں گے،
ٹھیک ہے آپ دیگر ممالک کے پریشان حال ہندوؤں کو اپنے ملک میں پناہ دیں لیکن صرف ہندوؤں کو کیوں اپنا ملک تو عالمی گرو بننے جا رہا ہے دنیا کا واحد ملک ہے جو تمام مذاہب کی قدر کرتا ہے اور سب کو ایک ساتھ رکھتا بھی ہے تو کیوں نہ ان تمام پریشان حال باشندوں کو بھی ملک میں جگہ دی جائے جو کسی بھی مذھب ذاتی دھرم کے ہوں،
دنیا کو جہاں ہمارے وزیر اعظم یہ دکھاتے ہیں کہ ہمارا ملک وہ ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں جہاں نفرت و عداوت نہیں ہے ہم اس ملک سے ہیں جہاں کسی مذھب کو نہیں بلکہ قانون کو دسترس حاصل ہے،
شاعر کچھ یوں کہتا ہے کہ
فساد،
سفید پوشوں کی باتیں ہیں کیا بتاؤں
اچھی خبر یہ ہے کہ ملک کی عوام بیدار ہے اور اپنے بیداری کا بھرپور ثبوت بھی دے رہی ہے،
امریکی وفاقی کمیشن برائے بین الاقوامی مذھبی آزادی نے وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف امریکی تحدیدات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس بل سے مسلمانوں کو ان ہی کی سرزمین میں اجنبی بنا دیا جائے گا اور انہیں ملک بدر کرنے کی سازشیں رچی جا رہی اس پر وقت رہتے ہی ٹھوس اقدام کرنا ملک کے عوام کی ذمہ داری ہے. (سیاست 11 دسمبر 2019 صفحہ 3).
اسی سے متعلق ایک سابق آئی ایس آفیسر کا بھی بیان آج سیاست اردو حیدرآباد میں پڑھنے کو ملا:
"11 دسمبر 2019،
سابق آئی اے ایس آفیسر و مشہور انسانی حقوق جہد کار جناب ہرش مندر نے منگل کو بیان دیا کہ اگر شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں منظور ہوتا ہے تو وہ سرکاری طور پر اپنے آپ کو مسلمان ہوجانے کا اعلان کریں گے. اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ وہ این آر سی پر اگر عمل ہوتا ہے تو وہ اس کے لئے دستاویزات داخل نہیں کریں گے اور وہ اپنے لئے وہی سزا کا مطالبہ کریں گے جو کسی مسلم کو عدم دستاویزات پر سزا ملے گی یا پھر حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا. "
ملک کے اندر ڈر و خوف کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے لوگ شکوک و شبہات میں پڑے ہوئے زندگی گذار رہے ہیں الگ الگ اندیشے الگ الگ خیالات زندگی مین اسٹریم سے کٹ کر ان چیزوں میں الجھ کر رہ گئی ہے،
این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزن آف انڈیا) جو کہ آسام میں لاگو کیا گیا تھا یہ کہہ کر کہ وہاں پر 2 کروڑ سے زیادہ بنگلہ دیسی گھس آئے ہیں انہیں نکال پھینکنا ہے 1600 کروڑ روپئے اس کے پیچھے خرچ ہوئے عوام کے کتنے پیسے خرچ ہوئے اس کی کوئی رپورٹ نہیں ہے کتنے سرکاری آفیسرز رشوت کھائے کتنے کروڑ وہ اپنا بنائے کچھ خبر نہیں تقریبا تین سال تک وہاں کہ عوام کی زندگی اسی کے اردگرد گھومتی رہی اور نتیجہ کیا نکلا کہ 19 لاکھ لوگ فائنل نتیجے میں این آر سی لسٹ سے باہر پائے گئے اور ان میں اکثریت ہندو بھائیوں کی ہے مسلم تقریبا 5 لاکھ پائے گئے جن میں سے ابھی کافی لوگ قانونی چارہ جوئی سے اپنا نام رجسٹر کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں.
اس نتیجے سے بوکھلائی حکمراں پارٹی اپنے فیلیور پر شرمندہ ہونے کے بجائے اب اسے پورے ملک پر تھوپنے کی بات کر رہی ہے،
ایک آنسو بھی حکومت کے لئے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
"منور رانا"
بڑے بڑے نیتا اس کے شکار ہیں ان پر ریپ بلاتکار کڈنیپنگ و اسمگلنگ قتل و خونریزی کے مقدمات ہیں،
دیکھوگے ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
"ملک زادہ منظور"





