جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مرے شعور کی تعمیر سے پریشاں ہیں

کلام: ثناء اللہ صادق تیمی30 اکتوبر، 20191,605قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مرے شعور کی تعمیر سے پریشاں ہیں
غریب ذہن کی زنجیر سے پریشاں ہیں
سویرے جب ملے تو خواب سے پریشاں تھے
ہوئی ہے شام تو تعبیر سے پریشاں ہیں
تمہیں جو دیکھ لیں تو ہوش ہی نہ کھوبیٹھیں
یہ لوگ جو تری تصویر سے پریشاں ہیں
ہمارے عہد کے اربابِ دانش و بینش
خود اپنے ہاتھ کی تحریر سے پریشاں ہیں
خطا معاف!مگر سچ یہی ہے شیخ کہ ہم
حضورِ والا کی تقریر سے پریشاں ہیں
کھلا یہ راز کہ تدبیر ہی رہی کوتاہ
سمجھتے ہم رہے تقدیر سے پریشاں ہیں
ہماری قوم میں بھکتی کی جڑ ہے اندر تک
تمام لوگ ہی تاثیر سے پریشاں ہیں
تمام اپنی ہی خصلت کے لوگ ہیں ساگر
تمام لوگ ہی تاخیر سے پریشاں ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

M
Moinul Haque
12 نومبر، 2019
ماشاء اللہ کیا کلام ہے, انمول تخلیق
ف
فوزیہ ردا اختر
1 نومبر، 2019
بہت خوب اشعار۔۔ واہ!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مرے شعور کی تعمیر سے پریشاں ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر