٢٥ اکتوبر ٢٠١٩ کو اکانامکس ٹائمز (انٹرنیٹ ورژن) میں چھپی خبر کے مطابق امیزن کے مالک جیف بیزوس اب دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں اول نہیں رہے۔مائکروسافٹ کے مالک بلک گیٹس نے انہیں دوسرے نمبر پر ڈھکیل دیا ہے۔
گرچہ میرا آخری جملہ اردو زبان کے مطابق درست ہے،
تو اس خبر کا اصل مبتدا (یعنی جیف بیزوس کو دوسرے نمبر پر لے جانے والا سبب) کچھ اور ہے۔اور یہ سبب ہم مسلمانوں کے لئے ایک سبق،
وہ سبب یہ ہے کہ جیف بیزوس کی کمپنی امیزن کے شیئرز کی قیمت ٧٪ کم ہو گئی ہے۔جس سے ان کی کل جائداد میں کمی واقع ہو گئی ہے۔مثلا امیزن کے ایک شیئر کی قیمت ١٠٠ روپئے تھی،
عام انسان جب اپنی جمع پونجی گنتا ہے تو وہ اصل پیسے گنتا ہے،
ممکن ہے ماہرینِ معاشیات کی اکثریت اس سے متفق نہ ہو،
جن کا پاسپورٹ نہیں بنا ہے وہ انل امبانی کی مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔٢٠٠٧ میں انل امبانی ٤٥ بلین ڈالرز کے مالک تھے (بلین یعنی عدد کے بعد ٩ صفر)۔جبکہ ٢٠١٩ میں ان کے پاس ٢ بلین ڈالرز بھی نہیں رہے۔یعنی ١٣ سالوں میں ہر دن تقریباً ١٠ ملین ڈالرز (٧٠ کروڑ روپئے) کی کمی۔ایسا نہیں کہ انہوں نے پانی کی طرح پیسے بہائے۔لیکن وہی بات کہ وہ عدد ٢٠٠٧ میں (بھی) مجازی تھا۔اور ٢٠١٩ میں بھی (اس کا بیشتر حصہ) مجازی ہی ہے۔
انشا جی تو پہلے ہی کہہ گئے ہیں:
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانا کیا
ہمیں یاد ہے کہ اوپر ہم نے مسلمانوں کے لئے ایک سبق،
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ وَّزِيۡنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٌ فِى الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِؕ كَمَثَلِ غَيۡثٍ اَعۡجَبَ الۡكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيۡجُ فَتَرٰٮهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَكُوۡنُ حُطٰمًاؕ وَفِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال واوﻻد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے،
دیکھئے،
تو،
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿١٨٥﴾
ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے،
یاد رکھئے! یہ دنیا خود منزل نہیں،
یہ جو دنیا ہے جیل خانہ ہے
اک نہ اک دن یہاں سے جانا ہے
اک ٹھکانے کا راستہ ہے یہ
نہ کہ خود آپ ہی ٹھکانہ ہے
(شوکتؔ پرویز)
ہم یہاں رہبانیت کی دعوت قطعی نہیں دے رہے۔ہماری دعوت صرف اتنی ہے کہ ان نمبروں سے مرعوب نہ ہوا جائے۔اور نہ ان کے حصول کے لئے آخرت قربان کر دی جائے۔
بلکہ اللہ پر توکل اور بساط بھر کوشش کرتے ہوئے جتنی دنیا ملے اسے ضرور لیں،
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ﴿٧٧﴾
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو،





