ملک کی موجودہ صورت حال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے تشویش ناک ہے۔برسر اقتدار جماعت آمریت کی جانب تیزی سے قدم بڑھا رہی پورے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرداں ہے اور ملک کی دیگر آئینی اداروں کی خود مختاری کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے غور و فکر کے بعد ۲۰۰۵ء میں نافذ حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) میں ترمیم کی جارہی ہے۔آر ٹی آئی جیسا ایک کامیاب قانون جس کے تحت ملک کے ہر شہری کو حکومت کے کسی بھی عمل اور احکامات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کا حق تھا اب حکومت اس بل میں ترمیم کرکے عوامی حقوق کے دائرے کو محدود اور حکومت کے دائرۂ اختیار میں اضافہ کی کوشش کررہی ہے۔
مرکزی حکومت کا یہ عمل بلا شبہ ملکی عوام اور جمہوری ڈھانچے کے لیے غیر معمولی اور ناقابل تلافی نقصان کا ضامن ہوگا۔اس بل میں ترمیم کے بعد جہاں اس شعبے کے اختیارات کو محدود کرنا مقصود ہے وہیں حکومت اب عوامی سوالات اور گرفت سے بچنے کی تدبیر کررہی ہے۔ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال ملک کے جملہ شہریوں کے لیے یکساں نقصان دہ ہے تاہم اقلیتوں اور خصوصا مسلمانوں کے مسائل اور مصائب میں مزید اضافے کا ذریعہ بھی ہے۔قومی تفتیشی ایجنسیاں پہلے بھی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتی رہی ہیں۔موجودہ حکومت نے انہیں اور موقع دے دیا ہے۔بی جے پی حکومت نے این آئی اے ترمیمی بل میں اس آئینی ادارے کو مزید اختیارات فراہم کرکے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔حیرت انگیز بات ہے کہ ایک طرف بااختیار ادارہ آر ٹی آئی کے اختیارات کو محدود کیا جارہا ہے دوسری جانب مبینہ انسداد دہشت گردی کے نام پر این آئی اے کو مزید اختیارات دئے جارہے ہیں۔مذکورہ دونوں بل کے تجزیاتی جائزے سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ دونوں بل میں ترمیم موجودہ این ڈی اے حکومت کے مفاد سے براہ راست یا بالواسطہ وابستہ ہے۔وزارت داخلہ امت شاہ نے گرچہ کہا ہے کہ اس قانونی اختیار کا غلط استعمال نہیں ہوگا تاہم ان کی یہ بات غیر معتبر ہے کیونکہ اسی پارلیمنٹ میں دوران اجلاس انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قانون کا غلط استعمال نہیں ہوا حالانکہ ان کی وہ بات بھی غیر درست تھی کیونکہ ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں جن میں ٹاڈا اور پوٹا کا غلط استعمال کیا گیا بلکہ مذکورہ دونوں قانون کا استعمال صرف آدیواسیوں،
اس وقت ہندوستان میں جو سیاسی ہیرا پھیرا جاری ہے اس میں حاشیہ پر مسلمان ہیں۔اکثریتی طبقہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ ملک ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن ملک فی الوقت صرف آمریت کی جانب گامزن ہے جس میں دائرہ ٔ اختیارات سمٹ کر برسراقتدار پارٹی کی ہائی کمان کے ہاتھوں تک محدود ہوجائے گا اور ملک کے کسی بھی شہری کو ان کےخلاف بولنے لکھنے،





