صحابۂ کرام ہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و مصاحبت کا مرتبۂ عظیم حاصل ہے،
صحابۂ کرام کے طریقہ عمل کو رسول اکرم ﷺ نے اپنا طریقہ عمل بتایا اور ان سے بغض و عداوت کو خود نبی سے بغض و عداوت بتایا اور صحابہ کا طریقہ عمل اور منہج خالص کتاب و سنت کا اتباع و پیروی ہے۔اس منہج سے ہٹ کر کوئی اور راہ اختیار کرنا شدید گمراہی و ضلالت ہے۔اس منہج پر جو امت قائم ہے اسے سلف نے ’’أہل السنۃ والجماعۃ‘‘ اور اہل الحدیث کے لقب سے یاد کیا ہے اور یہی جماعت تاقیامت باقی رہنے والی ہے۔اللہ امت بیضاء کو سیدھی راہ پر قائم رکھے۔
صحابی:
معنی و مفہوم:
صحابی کی تعریف میں اہل علم نے کافی اختلاف کیا ہے۔ذیل میں مشہور تعریفات کے ساتھ راجح تعریف کا ذکر کیا جارہا ہے:
۱-صحابی لغوی اعتبار سے ’’الصحبۃ‘‘ سے ماخوذ ہے۔علامہ باقلانی کہتے ہیں: ’’صحابی کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو کسی کی صحبت میں رہے،
اصطلاحاً:
قال ابن الصلاح نقلاً عن البخاری:
۲-انه کل مسلم رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
’’ہر وہ مسلمان جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو۔‘‘
۳-ان من طالت مجالسته علی الطریق التبع۔
صحابی وہ ہے جس نے کسی کی طویل مجالست کی ہو اور اس سے استفادہ بھی کیا ہو۔(قالہ أصحاب الأصول)
۴-إنه لا یعد صحابیا إلا من أقام مع رسول اللہ ﷺ سنة أو سنتین أو غزا معه غزوۃ أو غزوتین۔
صحابی وہ ہے جس نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک یا دو سال گزارے ہوں یا ایک یا دو غزوہ کیا ہو۔(2)
راجح:
من لقی النبی مومناً ومات علی الإسلام۔
صحابی وہ ہے جس نے حالت ایمان میں نبی ﷺ سے ملاقات کی ہو اور اسی پر اس کی وفات ہوئی ہو۔(3) قالہ ابن حجر (4)
صحابۂ کرام کے فضائل و مناقب:
ایک مومن پر واجب ہے کہ وہ صحابۂ کرام سے عقیدت و محبت رکھے اور ان کی اطاعت کا جذبہ ہمہ وقت دل میں بسائے رکھے۔ان سے بغض و عداوت موجب کفر اور غضب الٰہی کو دعوت دینا تصور کرے،
جملہ صحابۂ کرام کی اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مقدس میں بڑے عمدہ پیرائے میں مدح سرائی کی ہے۔تعریف و توصیف کے انتہائی اور کمال درجے کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔چنانچہ مہاجر صحابۂ کرام جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ صبر آزما مراحل کو برضا ورغبت طے کیا۔اللہ کے نام پر بے عزتی کو غیر اللہ کے نام کی عزت پر ترجیح دی۔اللہ کے نام پر بھوک کو غیر اللہ کے نام کی شکم سیری پر ترجیح دی۔انہوں نے محض اللہ و رسول کی خوشنودی کے لیے اپنا مال و متاع سب کچھ چھوڑکر مدینہ ہجرت کی،
اسی طرح انصار نے مہاجرین کے لئے اپنا سب کچھ وقف کردیا،
قرآنی آیات و احادیث نبویہ میں مناقب صحابہ:
۱-وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُo (التوبۃ: ۱۰۰)
’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں،
۲-إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجَاہَدُوْا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ آوَوْا وَّنَصَرُوْا أُوْلٰـئِکَ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ۔(الأنفال: ۷۲)
’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی،
۳-أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنثٰی بَعْضُکُم مِّنْ بَعْضٍ فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَأُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقَاتَلُوْا وَقُتِلُوْا لأُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئَاتِہِمْ وَلَأُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ ثَوَاباً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ۔
(آل عمران:۱۹۵)
’’تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت،
۴-لٰـکِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا مَعَـہٗ جَاہَدُوْا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ وَأُوْلٰـئِکَ لَہُمُ الْخَیْْرَاتُ وَأُوْلٰـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَo أَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُo (التوبۃ: ۸۸-۸۹)
’’لیکن خود رسول (ﷺ) اور اس کے ساتھ ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں،
مذکورہ بالا آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کے اصحاب کی بڑی واضح تعریف کی ہے۔ان کی جانثاریوں و فداکاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔پھر بدلہ میں اس بدلہ اور انعام کا ذکر کیا ہے جو انہیں جنت میں داخل ہونے کی صورت میں ملے گا۔کیا ہی بے مثال کا میابی ہے یہ۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار احادیث میں اپنے صحابہ کی تعظیم و تکریم کا امت کو سبق دیا ہے۔ان سے بغض و عداوت نفاق و کفر کی علامت ہے۔اور ان کی ناراضگی اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہے۔ملاحظہ کیجئے:
(۱) عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ خیر أمتی القرن الذین بعثت فیھم ثم الذین یلونھم۔(6)
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین افراد وہ لوگ ہیں جن کے درمیان مجھے بھیجا گیا پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں۔‘‘
(۲) عن أبی موسیٰ رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم رفع رأسہ إلی السماء و کان کثیراً ما یرفع رأسہ إلی السماء فقال: النجوم أمنۃ للسماء فإذا ذھبت النجوم أتی السماء ماتوعد،
’’ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے،
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام کا دور بعد کے ادوار کے بالمقابل احسن و افضل ہے،
صحابۂ کرام کو طعن و تشنیع کرنے کی ممانعت و حرمت:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
لا تسبو أصحابی،
’’میرے صحابہ کو جرح و تنقید اور برائی کا ہدف نہ بنائو۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،
وقال ابن عمر رضی اللہ عنہما:’’ لاتسبوا أصحاب محمدصلی اللّٰہ علیہ وسلم فلمقام أحدھم ساعۃ یعنی مع النبی ﷺ خیر من عمل أحدکم أربعین سنۃ۔‘‘(9)
’’ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: صحابۂ کرام کو برا بھلا مت کہو،
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں بڑی تفصیلی بحث کی ہے۔ذیل میں خلاصہ پیش خدمت ہے:
(۱) جس نے صحابۂ کرام کو سب وشتم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ کو الوہیت کا درجہ دے دیا اور ابلاغ وحی میں جبرئیل علیہ السلام کی غلطی ٹھہرائی تو اس کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔
(۲) جس نے گمان کیا کہ آیات قرانی میں نقص ہے،
(۳) جس نے کہا تمام صحابۂ کرام سوائے چند (علی الاکثر ۲۰ کی تعداد) کے سب مرتد ہوگئے۔یا اس نے عام صحابہ کی تفسیق کی،
ماحصل اینکہ طعن و تشنیع کی کمی و زیادتی کے بقدر ان کی تکفیر و عدم تکفیر یا ان کے مابین کا فیصلہ کیا جائے گا۔(10)
صحابۂ کرام کے بارے میں اہل سنت کا موقف:
اس سلسلہ میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول کا اختصار حسب ذیل ہے:
اہل سنت و الجماعت کے اصول یہ ہیں: اہل وسنت والجماعت کے دل و ز بان صحابۂ کرام کے لئے بغض و حسد سے پاک و صاف اور محبت سے مملو ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’والذین جاؤوا من بعدھم … الآیۃ (11) اور اللہ کے رسول ﷺ کے صحابۂ کرام کے سلسلہ میں قول: لاتسبو أصحابی … الحدیث(12) پر پوری طرح قائم ہیں۔اور صحابۂ کرام کے سلسلہ میں کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت شدہ فضائل و مناقب اور درجات مراتب پر سر تسلیم خم کرتے ہیں۔اسی طرح ’’صلح حدیبیہ‘‘ سے قبل انفاق و قتال کرنے والے اصحاب رسول ﷺ کو اس کے بعد کے لوگوں پر فوقیت دیتے ہیں۔(13) اسی طرح مہاجرین کو انصار پر فضیلت دیتے ہیں۔(14) ان کا اس بات پر اعتقاد ہے کہ اہل بدر کے جملہ گناہ معاف کردیے گئے ہیں اور بیعت رضوان میں شریک صحابہ میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔(15) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مبشرین بالجنۃ کے جنتی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔(16) اور اس منقول بالتواتر حدیث کا کہ ’’اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں‘‘(17) کا اقرار کرتے ہیں۔پھر عثمان رضی اللہ عنہ کو تیسرے اور علی رضی اللہ عنہ کو چوتھے درجہ پر رکھتے ہیں۔جیسا کہ احادیث و اجماع سے ثابت ہے(18) لیکن عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ میں افضل کون ہے،
منہج صحابہ اور اس سے انحراف:
اسلامی شریعت کی بنیاد کتاب وسنت پرقائم ہے۔انہیں دونوں کی خالص اتباع وپیروی عین اسلام وایمان ہے،
’’علیکم بسنتـی و سنـۃ الخلفاء المھدیین الراشدین۔(24)
’’میری سنت اور ہدایت یاب خلفاء راشدین کے طریقہ کو لازم پکڑو۔‘‘
منہج صحابہ قیامت تک باقی رہے گا اور وہ تمام فرقے جومنہج صحابہ پرقائم نہیں مغلوب اور خائب وخاسر ہوں گے۔ارشاد نبوی ہے:
لاتزال طائفۃ من أمتی ظاہرین علی الحق،
’’ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا،
امت ۷۳ فرقوں میں بٹ جائیگی،
تفترق أمتی علیٰ ثلاث وسبعین ملۃ کلھم فی النار إلا ملۃ واحدۃ۔قالوا: ومن ھی یا رسول اللہ؟ قال: ما أنا علیہ وأصحابی۔(26)
’’ میری امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی سوائے ایک کے سارے فرقے جہنمی ہوں گے،
حاصل یہ کہ اس امت کواگرراہ مستقیم پرآنا ہے اور سعادت کا حصول مطلوب ہے تو اسے منہج صحابہ کواختیار کرنا ہوگا۔
اب ذیل میں ہم مختلف ابواب و گوشہ ہائے حیات میں مناہج صحابہ کاتذکرہ کرنامناسب سمجھتے ہیں:
(۱) ’’اعتقاد میں‘‘صحابۂ کرام کامنہج:
عقائد کے باب میں سب سے بنیادی اہمیت اوراساسی مقام ایمان کوحاصل ہے۔ایمانیات کی تصحیح اوراس سے متعلقہ مباحث کی تنزیہ ہی میں اخروی سعادت وکامرانی کاراز مضمرہے،
’’إذا صلحت صلح الجسد کلہ وإذا فسدت فسد الجسد کلہ‘‘
اس سلسلہ میں صحابہ کامنہج وہی تھا جو کتاب وسنت میںبیان کیاگیاہے،
أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ،
گویا اللہ،
(۲) ’’اعمال میں‘‘ صحابۂ کرام کا منہج:
عقائد کے بعد انسانی زندگی میں دوسری چیز ’’اعمال صالحہ‘‘ ہے۔صحابۂ کرام کا طریقۂ کار اس سلسلہ میں بہت واضح تھا،
(۱) صحت عقیدہ
(۲) اخلاص فی العمل
(۳) موافقت کتاب و سنت (28)
اگر کوئی شخص کوئی عمل کررہا ہے تو اس کی قبولیت انہیں تینوں چیزوں پر منحصر ہے۔عمل کرنے والا عقیدئہ خالص کا حامل اور عمل شرک و بدعت سے خالی و پاک ہونا چا ہیے۔اسی طرح وہ عمل ریاء و نمود اور جذبۂ شہرت سے دور خالصتاًللہ ہونا چاہیے۔اور اس میں کسی امام کی تقلید نہ ہوبلکہ خالص کتاب و سنت کے موافق ہو۔صحت عقیدہ اور اخلاص فی العمل کے معاملہ میں صحابۂ کرام کی نظیر نہیں،
عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال: بینما رسول اللہ یصلی بأصحابہ إذ خلع نعلیہ فوضعھما عن یسارہ فلما رأی القوم ذالک ألقوا نعالھم،
’’ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: دریں اثناء کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو صلاۃ پڑھا رہے تھے،
آپ کی موافقت فی الاعمال کا صحابہ کرام کس درجہ اہتمام کرتے تھے۔
(۳) اتباع و امتثال میں صحابۂ کرام کا منہج:
اتباع و امتثال اور انقیاد کی جو مثال صحابۂ کرام نے قائم کی پوری انسانی تاریخ اس کو پیش کرنے سے قاصر ہے۔صحابۂ کرام سنت رسول کی ادنیٰ سی مخالفت بھی برداشت نہیں کرتے تھے:
عن عمارۃ بن دویبۃ رضی اللہ عنہ قال رأی بشر بن مروان علی المنبر رافعا یدیہ فقال: قبح اللّٰہ ہا تین الیدین،
’’عمارہ بن دویبہ رضی اللہ عنہ نے مروان کے بیٹے بشر کو (دوران خطبۂ جمعہ) منبر پر دونوں ہاتھ اٹھاتے دیکھا تو فرمایا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو خراب کرے میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے زیادہ کرتے نہیں دیکھا،
اس کے علاوہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے قول یا فعل کے خلاف کسی قسم کی بات سننا یا اسے حقیر سمجھنا سخت ناپسند کرتے تھے:
عن ابن عمر رضی اللہ عنھما أن رسول اللّٰہ ﷺ قال: ’’لاتمنعوا إماء اللہ أن یصلین فی المسجد‘‘ فقال ابن لہ انا لنمنعہُنّ فغضب غضباً شدیداً وقال أحدّثک عن رسول اللہ ﷺ وتقول إنّا لنمنعھنّ۔(31)
’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگ اللہ کی بندیوں (عورتوں) کو مسجد میں آنے سے نہ روکو۔‘‘ان کے بیٹے نے کہا: ہم تو روکیں گے۔عبد اللہ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: ’’میں تیرے سامنے حدیث رسول بیان کررہا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے۔‘‘
اتباع کا عالم یہ تھا کہ علم ہوجانے کے بعد اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا تو صحابہ سخت ناراض ہوجاتے:
عن الحارث بن عبد اللّٰہ بن أوس رضی اللہ عنہ قال: أتیتُ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فسالتُہ عن المرأۃ تطوف بالبیت یوم النحر ثم تحیض قال: لیکن آخرُ عہدِھا بالبیت قال: فقال الحارث: کذالک أفتانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال،
’’حارث بن عبداللہ بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور ان سے پوچھا: اگر قربانی کے دن طواف زیارت کرنے کے بعد عورت حائضہ ہوجائے تو کیا کرے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (طہارت حاصل کرنے کے بعد) آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے۔حارث نے کہا: رسول ﷺ نے بھی مجھے یہی فتویٰ دیا تھا،
صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع من و عن کرتے تھے،
پہلی مثال:
عن زید بن أسلم عن أبیہ أنّ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال للرّکن: أما واللہ إنی لأعلم أنک حجر لاتضرُّ ولاتنفع ولولا أنّی رأیتُ النبیﷺ استلمک ما استلمتُک فاستلمہ ثم قال: فمالنا وللرمل إنّما کنّا رأینا بہ المشرکین وقد أھلکھم اللّٰہ ثم قال: شیء صنعہُ النبی ﷺ فلا نحُبّ أن نترکہ۔(33)
’’زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو مخاطب کرکے کہا: واللہ! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے،
دوسری مثال:
عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال: اتخذ النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتما من ذہب فاتخذ الناس خواتیم من ذھب فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إنّی اتخذت خاتما من ذھب فنبذہ وقال: إنی لن ألسبہ أبدا،
’’ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
تیسری مثال:
عن جابر رضی اللہ عنہ قال لمّا استوی رسول اللہ ﷺ یوم الجمعۃ قال: اجلسو۔فسمع ذلک ابن مسعود رضی اللہ عنہ فجلس علی باب المسجد فرآہ رسول اللہ ﷺ فقال: تعال یا عبد اللہ بن مسعود۔(35)
’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) منبر پر تشریف لائے تو فرمایا: لوگو بیٹھ جائو۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا تو مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ گئے۔رسول اللہ نے دیکھا تو فرمایا: عبد اللہ! مسجد کے اندر آکر بیٹھ جائو۔‘‘
صحابۂ کرام جملہ امور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع وپیروی کرتے تھے،
منہج صحابہ سے انحراف کا تاریخی پس منظر
قدیم انحراف:
حق وباطل کی کشاکش کی تاریخ بڑی قدیم ہے۔اہل باطل نے حق کو کتاب وجود سے مٹانے کے لئے اپنی توانائیاں اور قوتیں صرف کردیں،
شریعت مطہرہ کے تئیں صحابہ کے منہج کی وضاحت کے بعد اس سے انحراف کی سرسری تاریخ کی وضاحت ضروری ہے،
پہلا دور:(تا۳۷ھ)
قرآن مجید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ۲۳ سالوں میں نازل ہوا،
دوسرا دور: (۳۷ھ تا ۱۰۰ھ)
یہ دور علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بعد شروع ہوتا ہے،
خوارج کے یہاں صحابہ کے منہج سے انحراف یہ تھا کہ انہوں نے علی ومعاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین ہونے والی جنگ میں صلح کے وقت حکمین کے فیصلہ کا انکار کرکے ’’إن الحکم إلا للّہ‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔(37)
دوسرے یہ کہ مرتکب کبیرہ کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ کافر اور ’’مخلّد فی النار‘‘ ہے،
٭ اہل تشیع ابتدا میں تو معتدل تھے،
٭ قدریہ: ان کا انحراف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ماسبق تقدیر کو اللہ تعالیٰ نہیں جانتا،
٭ مرجئہ: یہ منہج صحابہ سے منحرف تھے،
تیسرا دور: (۱۰۰ھ تا۱۵۰ھ)
اس دور میں چار اشخاص ایسے پیدا ہوئے جو منہج صحابہ سے انحراف کے سرخیل تھے:
(۱) واصل بن عطاء
(۲) جعد بن درھم
(۳) جہم بن صفوان
(۴) مقاتل بن سلیمان
(۱)واصل بن عطاء: بانی معتزلہ،
۱۔مرتکب کبیرہ نہ مومن ہے،
(۲) متحاربین میں سے ایک فریق(کوئی بھی ہوسکتا ہے تحدید نہیں کی) فاسق ہے،
(۲) جعد بن درہم: اس نے منہج صحابہ سے انحراف کرتے ہوئے درج ذیل بدعتیں ایجاد کیں:
۱۔قرآن مجید کلام الٰہی نہیں بلکہ مخلوق الٰہی ہے۔
۲۔اللہ تعالیٰ نے نہ تو موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور نہ ہی ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا۔
۳۔یہ پہلا شخص ہے جس نے صفات الٰہی کا انکار کیا۔(47)
(۳)جہم بن صفوان: اس کے انحرافات:
۱۔ماسبق تینوں چیزوں میں اس نے جعدکی اتباع کی۔
۲۔انسان مجبور محض ہے،
۳۔ایمان معرفت الٰہی کا نام ہے،
۴۔جنت وجہنم فانی ہیں۔
۵۔اللہ کا علم حادث ہے،
(۴)مقاتل بن سلیمان: اس کے منہج صحابہ سے انحرافات:
اس کا انحراف یہ تھا کہ اس نے صفات الٰہی کے باب میں حددرجہ غلوکیا،
چوتھا دور: ( ۱۵۰ھ-۲۳۲ھ)
اس دور میں کوئی نئی بدعت ایجاد نہیں ہوئی۔بلکہ مختصر تبدیلیوں کے ساتھ سابقہ باتیں دہرائی گئیں اور یہ کل چار فرقوں میں منحصر تھیں:
(۱) خوارج
(۲) شیعہ
(۳) معتزلہ
(۴) مرجئہ
اس دور میں معتزلہ نے غیر معمولی ترقی حاصل کی،
پانچواں دور: (۲۳۲ھ-۳۲۴ھ)
اس دور میں دو منحرف شخص پیدا ہوئے:
(۱) عبد اللہ بن سعید بن کلاب ( ت ۲۴۲ھ) کلابیہ کا بانی
(۲) محمد بن کرام السجستانی (ت ۲۵۵ھ) کرامیہ کا بانی
ابن کلاب کے دو منحرف عقائد تھے:
۱-صفات اختیاریہ کی نفی۔
۲-کلام لفظی و کلام نفسی کی تقسیم کا انحراف۔
ابن کرام کے منحرف عقائد:
۱-اللہ تعالیٰ کی جسمیت ثابت کرنا۔(50)
۲-اللہ تعالیٰ پہلے صفت سے متصف نہیں تھا اب ہوگیا ہے۔(51)
۳-ایمان صرف ’’اقرار باللسان‘‘ کا نام ہے۔(52)
سابقہ سطور میں جو منحرف عقائد ذکرکئے گئے ان سب کا تعلق دور قدیم سے ہے۔صحابہ کے منہج سے انحراف کی یہ قدیم تاریخ ہے۔اس کے اثرات آج بھی معاشرہ میں مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔لہٰذا آگے ہم دور جدید میں منہج صحابہ سے انحراف کی تاریخ کا تذکرہ نہایت اختصار سے کریںگے،
منہج صحابہ کے سلسلہ میں جدید دورکے انحرافات:
مرورِ زمانہ کے ساتھ انحراف کی نوع بہ نوع شاخیں نکلتی رہیں۔انحرافات کی یہ شکلیں کبھی تو اہل باطل کی طرف سے برسرعام نشر واشاعت کے مراحل سے گزریں اور کبھی اہل حق سے قدم بہ قدم اہل سنت کی پوشاک زیب تن کرکے باطل افکار و نظریات کو خاموش ہوا دی گئی۔ان معتقدات باطلہ کی ترویج وتعمیم میں ایک طرف یہودی وسبائی ذہنیت کار فرما تھی جو دین حنیف کی خالص اور شدید و کٹر دشمن ہے۔جس کی اساس ہی اسلامی تعلیمات کو ہدف تنقید بنانے اور اس کے اصول و مبادی کی اہمیت و معنویت کو ختم کرنے پر ہے۔دوسری طرف اس ذہنیت سے فریب خورہ اور ان کی عیارانہ چالوں کے شکا رسادہ لوح مسلمان تھے۔جن کے ہاتھوں غیر ارادی وغیر شعوری طور پر اسلام کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔جس کا نتیجہ و انجام آج مختلف تحریکات وتنظیمات اور مسالک و مذاہب کی شکل میں اقوام عالم کے مابین ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
قرن اول میں مسلمانوں کا مرجع خالص کتاب و سنت تھا۔اس کے بعد فقہاء کا دور آیا۔شریعت کے مسائل میں اجتہادات و استنباطات کئے گئے۔مختلف ائمۂ کرام نے شرعی مسائل میں خاصا توسع پیدا کردیا۔امام مالک،
انحرافات کے امت پر برے اثرات:
منہج صحابہ یعنی خالص کتاب و سنت پر عمل بالکل واضح وعیاں ہے،
۱-فرقہ بندی اور گروہی تعصب:
امت نے جب کتاب و سنت سے تمسک و اعتصام اور عمل ترک کردیا تو اس امت میں ایک خطرناک بیماری فرقہ بندی اور اختلاف و انشقاق کی پھیلی،
کتاب وسنت میں بے شمار مقامات پر اتحاد پیدا کرنے اور اختلافات کو جڑ سے اکھاڑنے کی الٰہی تلقین کی گئی ہے۔ارشاد ربانی ہے:
’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولاتفرقوا۔۔۔‘‘(آل عمران: ۱۰۳)
(اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو) ایک دوسری جگہ اختلافات کی ممانعت میں فرمایا:
’’ان الذین فرقوا دینھم وکانو شیعاً لست منھم فی شیء‘‘ (الأنعام: ۱۵۹)
(جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے آپ کو ان سے کوئی سروکار نہیں) اسی طرح حدیث رسول میں ’’ستفترق ہذہ الأمۃ‘‘ کہہ کر اختلاف کی طرف اشارہ کے ساتھ ہی ’’ما أنا علیہ وأصحابی‘‘ کہہ کر صحیح منہج کی طرف رہنمائی بھی کردی۔کاش کہ امت مسلمہ نبی کے اس فرمان پر عمل پیرا ہو کر صحابہ کرام کا عہد زرّیں لوٹا دیتی۔
شراب کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
۲-کتاب وسنت سے دوری:
منہج صحابہ سے انحراف کا امت پر ایک برا اثر یہ ہوا کہ یہ امت کتاب و سنت کے منبع صافی اور اصل سرچشمہ سے دور ہوگئی۔اختلافات کی وجہ سے مختلف جماعتوں نے اپنے اپنے ائمہ کی اتباع وپیروی شروع کردی۔اقوال ائمہ کو احادیث رسول و آثار صحابہ پر ترجیح دی جانے لگی۔اس طرح رسول کے انقیاد و اتباع کے بجائے ائمہ کے اتباع و امتثال کی راہیں ہموار ہوگئیں۔اور امت کتاب و سنت سے دور ہوتی چلی گئی۔اگر امت کا یہی حال رہا اور اس کی اصلاح نہ کی گئی تو اتباع کتاب وسنت خواب و خیال بن کر رہ جائے گا۔
۳-بدعات و خرافات کا ظہور:
منہج صحابہ سے انحراف کا امت پر ایک برا اثر یہ بھی ہوا کہ خالص کتاب وسنت سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے اس میں بہت ساری بدعات و خرافات در آئیں جن سے خوف کا اظہار آپ ﷺ نے اپنے دور ہی میں کردیا تھا۔مظاہر شرک اور بدعات و خرافات کی وجہ سے امت کا ایک بڑا طبقہ اپنے صحیح عقائد و نظریات سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
۴-عقل کو نقل پر مقدم کرنا:
منہج صحابہ سے انحراف کا ایک اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے کتاب وسنت کو فیصل بنانے اور انہیں عقل پر مقدم کرنے کے بجائے عقلوں کو ان پر مقدم کرنا شروع کردیا۔اس کی ابتداء در اصل معتزلہ اور دیگر فرق ضالہ کے ہاتھوں زمانۂ قدیم میں ہوئی کہ انہوں نے صفات الٰہی کے باب میں عقل کو دخل دیا۔اس کی کیفیتوں کا ادراک کیا جانے لگا۔’’استواء علی العرش‘‘ اور ’’نزول‘‘ کے طریقوں پر بحثیں کی جانے لگیں۔حالانکہ اس باب میں عقل کو دخل دینا بجز گمرہی کے اور کچھ بھی نہیں۔امام مالک کا یہ قول اس باب میں اہم ہے:
’’الاستواء معلوم،
اور پھر یہ اسی کے اثرات تھے جنہوں نے ’’حدیث مصراۃ‘‘ اور صحیحین کی دیگر احادیث کے انکار کی احمقانہ جرأت پیدا کی۔پھر اخبار آحاد کے شوشے چھوڑے گئے اور صحت حدیث کے لئے فقہ راوی وغیرہ کی پھسپھسی شرطیں لگائی گئیں۔
۵-صحابۂ کرام پر طعن و تشنیع:
صحابۂ کرام کے منہج سے انحراف کا ایک برا اثر یہ ہوا کہ خود صحابۂ کرام پر زبانِ طعن دراز کی جانے لگی۔اس کا م میں کئی جماعتوں نے باقاعدہ حصہ داریاں نبھائیں۔ان تمام کا مرجع اہل تشیع و خوارج اور معتزلہ فکر کے حامل افراد تھے۔اور دور حاضر میں بھی غیر شعوری طور پر ہی صحیح بہت سارے لوگوں میں یہ بیماری سرایت کرچکی ہے اور بہت سارے ’’مفکرین‘’ نے صحابۂ کرام کے سلسلے میں نازیبا کلمات کہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
۶-خواہش نفس کی پیروی:
جب امت صحابۂ کرام کے منہج سے دور ہوئی تو ان میں عملی انحراف شدید تر ہوگیا۔کسی قسم کی کوئی حد بندی نہیں رہ گئی اور طبیعتوں کو شریعت بنادیا گیا۔جو بھی دل کہے اسے کر گذرنے کے تمنا پیدا ہوگئی۔شریعت پر خالص عمل کا دروازہ بند کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کتاب وسنت پر عمل کا و ہ مذاق مفقود ہوگیا جو دورصحابہ کی شان تھا۔
صراط مستقیم سے وابستگی کی ضرورت:
ان تمام انحرافات سے ہٹ کر اگر امت کو سیدھی راہ کی تلاش ہے تو وہ صرف اور صرف صراط مستقیم ہے اور صراط مستقیم خالص اتباع کتاب و سنت کا نام ہے۔کتاب وسنت میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ شرک برداشت نہیں،
———
1 ؎ قاضی ابوبکر باقلانی المالکی،
2 ؎ یہ تعریف سعید بن مسیب کی جانب منسوب ہے،
3 ؎ نقلاً عن: ریاض الجنۃ بشرح أصول السنۃ (ص۳۹۰) وتیسیر مصطلح الحدیث (ص ۱۹۸)
4 ؎ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ۱-الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ لا بن حجر۔۲-أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن الأثیر الجزری ۳-الاستیعاب فی أسماء الصحابۃ لابن عبدالبر
5 ؎ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: منھاج المسلم للجزائری (ص ۶۴-۶۵) و شرح العقیدۃ الطحاویۃ ( ص ۴۷۷)
6 ؎ أخرجہ مسلم (۲۵۳۴)،
7؎ أخرجہ مسلم (۲۵۳۱) وأحمد (۴؍۳۹۹)
8 ؎ أخرجہ البخاری (۳۶۷۳) و مسلم (۲۵۴۱)
9؎ أخرجہ احمد (۲۰) بسند حسن
10؎ الصارم المسلول لابن تیمیۃ (۳؍۱۰۵۰-۱۱۱۳)
11؎ اہل سنت کے موقف پر استدلال ہے سورۃ الحشر آیت نمبر ۱۰ سے
12؎ ’’میرے صحابہ کو گالی مت دو‘‘ (تخریج گزر چکی ہے)
13؎ دلیل: لایستوی منکم من أنفق من قبل الفتح وقاتل: الحدید ۱۰
14؎ التوبۃ (۱۰۰) میں اللہ تعالیٰ نے سابقین اولین کا ذکر کرتے ہوئے مہاجرین کو مقدم کیا ہے۔
15 ؎ دلیل ’’اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم‘‘ رواہ البخاری،
بیعت رضوان میں شریک صحابہ کی تعداد ۱۴۰۰ سے زائد تھی۔سورئہ فتح میں تفصیلی تذکرہ ہے: لقد رضی اللہ عن المؤمنین… (الفتح: ۱۸-۱۹)
16؎ جیسے عشرۂ مبشرہ،
17 ؎ رواہ البخاری کتاب فضائل الصحابۃ باب فضل أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
18 ؎ صحابہ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے باجماع پہلے بیعت کی۔
19؎ اس سلسلہ میں چار رائیں معروف ہیں۔مشہور رائے: (۱) ابوبکر،
20؎ خلافت کے باب میں اہل سنت کی قائم کردہ ترتیب معتبر ہے۔اس کا مخالف احمق اور جاہل ہے۔(ایضاً ۶۰۶)
21 ؎ قال النبی ﷺ: أذکرکم اللہ فی أہل بیتی۔رواہ مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔
22؎ اہل سنت کہتے ہیں: نزاعات صحابہ کی حدیثیں یا تو کذب پر مبنی ہیں یا ان میں اضافہ و کمی کی گئی ہے۔ان میںجو صحیح ہیں تو اس میں صحابہ معذور ہیںکہ اجتہاد میں خطاء بھی ہوسکتی ہے اور صواب بھی۔
23؎ بتقاضائے بشریت گناہوں کا سرزد ہونا عین ممکن ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم کی افضلیت،
24؎ أخرجہ أبوداؤد (۴۶۰۷)
25؎ أخرجہ البخاری کتاب المناقب باب سؤال المشرکین أن یریھم النبی۔۔۔ومسلم کتاب الإمارہ باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’لاتزال طائفۃ…‘‘
26؎ رواہ الترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فی افتراق الأمۃ۔
27؎ رواہ مسلم کتاب الایمان باب بیان أرکان الإیمان والإسلام
28؎ تفصیل کے لیے دیکھئے: أصول الدعوۃ لعبدالکریم زیدان ص۳۹ وغیرہ
29؎ سنن أبی داؤد وصححہ الالبانی (رقم ۶۵۰) باب الصلاۃ فی النعل۔
30؎ رواہ مسلم کتاب الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ۔
31؎ أخرجہ ابن ماجہ کتاب السنۃ باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ رقم ۱۶ حدیث صحیح۔
32؎ أخرجہ أبوداؤد،
33؎ صحیح بخاری کتاب الحج باب الرمل فی الحج والعمرۃ۔
34؎ أخرجہ البخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب الاقتداء بافعال النبی ﷺ رقم ۷۲۹۸
35؎ سنن أبی داؤد باب الإمام یکلم الرجل فی خطبتہ رقم ۱۰۹۱
36؎ اعلام الموقعین ۱؍۴۹
37؎ تاریخ الطبری ۱؍۵۷،
38؎ الملل ۱؍۱۱۴،
39؎ النبوات ص ۲۳۲
40 ؎ فرق الشیعۃ ص ۴۰ والفرق بین الفرق ص ۲۳۵ والنبوات ص ۲۳۲ والملل ۱؍۷۴
41؎ النووی فی شرح مسلم ۱؍۱۵۶
42؎ فتح الباری ۱؍۱۱۹
43؎ الفرق بین الفرق ص ۲۰۲ .
44؎ تہذیب التہذیب ۲؍۲۳-۳۲۱
45؎ الملل ۱؍۴۷،
46؎ الفرق بین الفرق ص ۱۴۰
47؎ الفتاوی لابن تیمیۃ ۵؍۲۰
48؎ الفرق بین الفرق ص۲۱۱،
49؎ دیکھئے: تذکرۃ الحفاظ ص۱۵۹-۱۶۰۔
50؎ الفتاویٰ ۶؍۳۵
51؎ الفتاوی ۶؍۳۲۵
52؎ مقالات الاسلامیین ۱؍ ۲۲۳





