رمضان کی چھٹی ختم ہوئی،
والدین ایسے مدارس کا انتحاب کر رہے ہیں جہاں کا ماحول خوشگوار ہو،
استاد و شاگرد کے رشتوں میں کمزوری اس وقت پیدا ہوتی ہے،
اس کمزوری کے متعدد اسباب ہیں ان میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
(۱) شاگرد سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو استاد اسے برا بھلا کہتا ہے اور مذاق اڑانے والے اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے جس سے شاگرد کی شخصیت پامال اور اس کی نفسیات ذلت سے دوچار ہوجاتی ہے۔اس ناطے شاگرد کے دل میں استاد سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جو محبت وقار،
علاج: شاگرد سےاگر کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو استاد کو برا بھلا کہنے کے بجائے شفقت و محبت کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ طلبہ کے جذبات مجروح نہ ہوں اور ان کی عزت نفس پر حرف نہ آئے۔طلبہ کا مذاق اڑانے سے پرہیز کرنا چاہیے اللہ عزوجل نے فرمایا:
"یاایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکون خیرا منھم" (سورۃ الحجرات: ۱۱)
اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم سے مسخرا پن نہ کرے ممکن ہے کہ یہ اس سے بہتر ہو۔
اساتذہ کو ایسا انداز اپنانا چاہیے کہ طلبہ کو خود اپنی غلطی کا احساس ہو جائے جیسا کہ معلم انسانیت جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کے ساتھ برتاؤ کیا جس نے مسجد کے اندر داخل ہو کر پیشاب کرنا شروع کردیا تھا۔
(۲) استاد،
علاج: غلطی پر خفا ہونا ایک فطری چیز ہے ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لمبی لمبی نمازیں پڑھانے کے باعث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر شدید ناراض ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا: "أفتان أنت یامعاذ؟" کہ اے معاذؓ! تو لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں:
"باب الغضب فی الموعظه والتعلیم اذا رای ما یکره"
یعنی وعظ و تعلیم میں ناپسندیدہ بات دیکھنے پر غصہ ہونے کا باب قائم کیا ہے اور ناپسندیدہ عمل پر تنبیہ کو صحیح قرار دیا ہے،
(٣) بعض اساتذہ کا انداز کلام اور طرز تخاطب بالکل بھدا ہوتا ہے،
علاج: استاد کی ذات طلبہ کے لیے اسوہ اور نمونہ ہوتی ہے۔لہذا اسے ہمہ وقت محتاط رہنا چاہیے،
{ولا تنابزوا بالالقاب} (سورہ الحجرات:۱۱)
کسی کو برے القاب نہ دو۔اس لیے اساتذہ کو اچھے القاب سے شاگرد کو پکارنا چاہیے،
"یا غلام سم اللہ" (صحیح بخاری: کتاب الاطعمه،
(٤) طلبہ اپنے اساتذہ کی تعظیم و تکریم نہیں کرتے اور انھیں وہ عزت و توقیر نہیں دیتے جو ایک استاد کا حق ہوا کرتا ہے بلکہ فی زمانہ وہ اخلاق حسنہ سے عاری ہوچکے ہیں،
علاج: طلبہ کو استاد کی ادنیٰ سی بھی بے ادبی اور بے عزتی سے پرہیز کرتے ہوئے استاد کا ادب و احترام اور تعظیم و تکریم کرنی چاہیے،
"لم یوقر کبیرنا" (جامع ترمذی،
جو ہمارے بڑوں کی تعظیم و توقیر نہ کرے۔
استاد معلم ہونے کے لحاظ سے باپ کے درجے میں ہوتا ہے۔اس لیے بھی شاگرد کو اپنے اساتذہ کی تعظیم وتوقیر کرنی چاہیے،
"إنما انا لكم بمنزلة الوالد أعلمهم"(سنن ابو داؤد،
میں تمھارے لیے بھی منزلہ والد ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں۔
(٥) اب استاد و شاگرد میں وہ خلوص نہ رہا جو دین کو سیکھنے اور سکھلانے میں ہونا چاہیے۔آج دین کا سیکھنا،
علاج: علم کو بجائے تجارت کے عبادت سمجھتے ہوئے سیکھنا اور سکھانا چاہیے اور استاد و شاگرد دونوں کو وقت گزاری کے لیے حاضری دینے کے بجائے اپنے فرائض کماحقہٗ پورا کرنا چاہیے۔اساتذہ کو چاہیے کہ علم کو امانت سمجھتے ہوئے "بلغو عنی ولو آیہ" (سنن ترمذی،
خلاصہ کلام: استاد و شاگرد کے رشتوں کی کمزوریاں اس وقت ناپید ہوں گی اور الفت و محبت کی کلیاں کھلیں گی جب استاد و شاگرد دونوں اپنے فرائض کماحقہٗ ادا کریں گے اور علم کو دین سمجھ کر سیکھیں اور سکھائیں گے نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ اور نمونہ بنا کر آپ کے فرمان کے مطابق تعلیم و تعلم کا فریضہ انجام دیں گے اور پھر وہی ماحول ہو گا جو ہمارے اسلاف کے دور میں استاد و شاگرد کے درمیان ہوا کرتا تھا۔
آخر میں دعا ہے کہ الٰہی استاد و شاگرد میں جو دوری پیدا ہوگئی ہے اسے دور کرنے اور دونوں کو اپنے حقوق ادا کرنے اور نبی کے فرمان کے مطابق تعلیم و تعلم کا فریضہ انجام دینے کی توفیق بخشے۔آمین





