سوشل نیٹ ورک نے جہاں معاشرے پر بہت سے مثبت و منفی اثرات مرتب کیے ہیں وہیں دانشوروں کی ایک ایسی جماعت بھی تیار کردی ہے جو گھر بیٹھے بڑی آسانی سے ملکوں و شخصیتوں کی وہ خبریں بھی ڈھونڈھ نکالتے ہیں جس کی خود صاحب معاملہ کو بھی بھنک نہیں ہوپاتی۔اپنے گھر تک کی سدھ بدھ نہ ہونے کے باوجود ایران و توران کے سیاسی و معاشی تجزیوں پر ان لکھاڑیوں کی وہ باریک بیں نظر ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑے سیاسی پنڈت اور کوکھیات ارتھ شاستری بھی ان کے آگے زانوۓ تلمذ تہ کرنے کو مجبور ہوجائیں۔اسی مخصوص صنف کی ایک ٹکڑی تعصبی عینک چڑھاۓ آج کل حب علی میں اس قدر غلو کا شکار ہے کہ بغض معاویہ میں اس کے لیے ہر سرحد پار کرجانا عام سی بات ہوگئی ہے۔
چونکہ وطن عزیز میں انتخابات ختم ہوچکے ہیں اور دوبارہ وہی حکومت بھی آچکی ہے جسے یہ نہیں چاہتے تھے اس لیے اب ان کے یہاں تجزیہ نگاری کو بھی کچھ نہیں بچا ہے۔جب کہ یہ امر واضح ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کے ترجمان یا پیشہ ور خطیب کو اگر آپ بولنے سےاچانک روک دیں تو ان کے وتھڈراول سمپٹمس اسی طرح سامنے آئیں گے جیسے کہ کسی افیمچی کو اچانک نشے سے دور کردینے پر ظاہر ہوتے ہیں۔۔۔ایسے ہی دانشوران لکھاڑیوں کے پاس کوئی خاص کام اور موضوع نہ ہونے کا نتیجہ سامنے یوں آیا ہے کہ ان دنوں سوشل نیٹ ورکس پر ہم کچھ تصویریں اور ان سے لگے عجیب عجیب قسم کے کیپشنز دیکھتے ہیں۔مثلا دو متوازی تصویریں،
"لا تبكي يا صغيري لقد اشترينا ميكروفون من الذهب لكي ندعو الله أن يطعمك"
یعنی 'میرے بچے! رو مت،
میں گزشتہ تقریبا ایک دہائی سے سعودیہ عربیہ میں ہوں اور یہاں کے مثبت و منفی دونوں ہی پہلؤں کو قریب سے دیکھ رہا ہوں۔نوکری پیشہ انسان ہوں اور اپنی محنت و قسمت کی اجرت پر جیتا ہوں اس لیے قاری میرے اوپر 'ریال بھکتی' کا لیبل لگانے کی قطعی کوشش نہ کرے۔مجھے اس اعتراف سے کوئی گریز نہیں کہ اس ملک میں جہاں ہزارہا خوبیاں ہیں،
اس ملک کے ایثار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک،
• رمضان کا مہینہ ہے۔آپ کو افطار کے وقت کئی ٹریفک سگنلس پہ پولیس اہلکار یا ان کے عام اشخاص افطار پیکٹس لے کر آپ کی گاڑی کے شیشے پر دستک دیتے ہوۓ نظر آجائیں گے۔آپ مکہ یا مدینہ یا اور کسی شہر کی طرف جارہے ہوں آپ کو ہائی وے کے اطراف جگہ جگہ افطار کے انتظامات ملیں گے۔حرمین کی تو بات ہی مت پوچھیں،
• سال کے بارہ مہینے سعودی محلوں میں اکثر جگہوں پر آپ کو گھروں کے باہر بڑے بڑے فریجرز مل جائیں گے جس میں لوگ زائد یا ایسے ہی کھانے لاکر رکھ دیتے ہیں تاکہ ضرورت مند وہاں سے نکال کر استعمال کرسکیں۔مساجد میں تو پانی اور کھجوروں کی فراہمی تو ایک معمول کی چیز ہے۔
• ہر شہر میں جگہ جگہ کیبنس رکھی ہوتی ہیں جس میں آپ اپنے پرانے کپڑے،
• آپ بیشتر ممالک اور بالخصوص ہندوستان میں چراغ لے کر ڈھونڈھنے پر بھی ایسا خوبصورت منظر نہیں دیکھ پائیں گے جہاں پینتالیس پچاس ڈگری گرمی میں کسے ہائی وے کے کنارے کوئی پولیس اہلکار آپ کی پنکچر گاڑی کی اسٹیپنی بدل رہا ہو۔جی ہاں،
• کہاں اور کب آپ نے کسی اعلی فوجی کو کسی عام شہری کے ساتھ کھاتے پیتے دیکھا ہے؟۔انتخابات کے ایام میں دلتوں کی بستیوں میں نیتا بغرض مفاد فوٹو کھنچوانے ضرور چلے جایا کرتے ہیں جبکہ تحقیق پر اس کے پس پردہ بھی بے شمار کہانیاں چھپی ہوتی ہیں۔آپ اس ملک میں ہر سال ایسے درجنوں واقعات معلوم کرسکتے ہیں جہاں یہ اہلکار اپنی تعنیاتی کے علاقے میں کسی عام اجنبی گروپ کے ساتھ بنا کسی سیاسی مفاد کے افطار و سحور کا لطف لیتے نظر آئیں گے۔
اس جیسی بے شمار ان کی وہ پیاری عادات ہیں جن کی وجہ سے ہزارہا نظریاتی اختلافات کے باوجود ان کے حق میں دعائیں دینے کو دل چاہتا ہے۔ان احباب کے لیے جو اکثر عالم اسلام کی زبوں حالی اور مفلسی کا ٹھیکرا سعودیہ کے سر پھوڑتے رہتے ہیں کچھ اعدادوشمار سے روشناس کرانا چاہتا ہوں۔یقین جانیے یہ ملک پوری دنیا میں رفاہی و فلاحی کاموں کے لیے جس اعلی پیمانے پر شراکت کرتا ہے اسے چند صفحات میں گنانا دشوار امر ہے پھر بھی میں چند انفرادی کوششوں کا یہاں شمار کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔
• 1996 سے 2018 کے دوران صرف ریلیف فنڈ کے تحت سعودیہ نے 79 ممالک میں 76.7 بلین امریکی ڈالر کی امداد دی ہے۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی 489 این جی اوز کو تقریبا 929 ملین امریک ڈالر کا تعاون فراہم کیا ہے۔
• 13 مئی 2015 میں قائم شدہ کنگ سلمان ہیومنیٹیرین رلیف فنڈ کے ذریعے بیالیس مختلف ممالک میں 482 پراجیکٹس پر تقریبا 925 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے جس کا 76% حصہ یمن میں گیا ہے۔اسی ملک سلمان رلیف فنڈ نے عورتوں کی بہبود پر 206 پروجیکٹس پر $ 341,481,000 اور بچوں کی فلاح کے 171 پروجیکٹس پر $504,962,000 کی رقم تقسیم کی ہے۔
• 2018 کے اواخر تک سعودیہ نے 561,911 یمنی،
• 1975 سے 2002 کے درمیان صرف Overseas Development Aid کے تحت اس ملک نے 70 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تعاون دیا ہے۔
• گزشتہ ماہ UNHCR (United Nations High Commission for Refugees) نے پناہ گزینوں کے ضمن میں سعودی عرب کے تعاون کو بڑے اچھے لفظوں میں سراہا ہے۔اس تعلق سے ان کے کارناموں کی لمبی فہرست ہے جسے کوئی بھی قاری اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر بآسانی ملاحظہ کرسکتا ہے۔
• مختلف پروگراموں کے تحت اب تک صرف یمن 11.88 بلین ڈالر کی مدد سعودیہ سے پاچکا ہے۔
ابھی مختلف ممالک میں صرف رمضان ایڈ کے نام پر 1.8 بلین ڈالر کا تعاون دیا گیا ہے۔
• فلسطین کے لیے یہ ملک اپنی سیاسی پالیسیوں اور جدو جہد کے ساتھ ساتھ سیکڑوں رفاہی پرگرام چلا رہا ہے۔فلسطین کے لیے اس کی خصوصی رعایات کا اندازہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ یہاں موجود فلسطینیوں کے لیے ان کے پاس خصوصی درجے ہیں جو ہم جیسے ہندوستانی یا دیگر ممالک کے یہاں کام کرنے والوں کو نہیں حاصل ہیں۔
• مختلف امور میں اقوام متحدہ کو رفاہی فنڈ دینے والے چند سرفہرست ممالک میں سے سعودی عرب ایک ہے۔
• حج و عمرہ کے دوران ان کے رفاہی و امدادی کاموں سے ہر کسی کی واقفیت ہے۔
• آج شاید ہی دنیا کا کوئی مسلم گھر ایسا ہوگا جس میں ملک فھد قرآن پروگرام کے تحت شائع شدہ قرآن کے وقف نسخے موجود نہ ہوں۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی لائبریری ہو جس میں سعودی سے وقف شدہ کتب احادیث وغیرہ کا ایک ذخیرہ موجود نہ ہو۔شاید ہی دنیا کی کوئی ایسی معروف زبان باقی رہ گئی ہو جس میں قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث و مبادیات اسلام پر کتابوں کی اشاعت اور پھر تقسیم عمل میں نہ آئی ہو۔
• نہ صرف ہند و پاک و بنگلہ دیش بلکہ بیشتر کمزور مسلم خطوں میں مساجد و مدارس یا اداروں کا جال کلی یا جزوی طور پر اسی ملک کی مرہون منت ہے۔
فہرست بہت طویل ہے،
اختتام سے قبل ایک بار پھر اعادہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ اس بات سے انکار نہیں کہ اس ملک میں،
اور ہاں،
دو باتوں پر گفتگو ختم کررہا ہوں۔۔۔حب علی ضروری ہے بالکل کریں مگر اس کے ساتھ بغض معاویہ کو مشروط نہ بنائیں۔سعودیہ کی متعصبانہ تنقید و گرفت سے زیادہ ہم اپنی اور اپنے قرب و جوار کی فکر ضروری سمجھیں۔۔۔پرخلوص و مؤدبانہ التماس ہے کہ تو اگر میرا نہیں بنتا،







