"ماہنامہ دارالعلوم،
مسلکی منافرت میں اکثروبیشتر ایسی آلودہ اور غلیظ تحریریں سامنے آتی رہی ہیں،
منافرت اور عقلی زوال کی یہ سب سے نچلی سطح ہے کہ انسان غم و غصہ میں اپنے ہی اعضاء کو چبا جائے یا اپنا ستر کھول کر گلی یا چوراہے پر ننگا کھڑا ہوجائے۔یا پھر اپنے خارش زدہ حصہ پر مرہم لگاکر اسے چھپانے کی بجائے اسے کھجلا کھجلا کر مزید چھیل دے اور اپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کے لیے بھی اپنے اس مرض کو متعّدی بنادے۔
اپنی عورتوں کو مساجد سے دور رکھ کر سلفی خواتین کے ساتھ کفار و مشرکین سے بھی زیادہ بے غیرتی کا ثبوت دینے والے بھائیو! ہماری عزت و ناموس آپ کی عزت کا ہی ایک حصہ ہے۔امت کی ہر خاتون جاننا چاہتی ہے،
(١) دنیا کی تمام خواتین بے راہ روی اور جنسی انارکی میں مبتلا ہیں جس کے لیے انھیں مسجد سے محفوظ اور بہترین جگہ کوئی اور نہیں دکھائی پڑتی اس لیے خواتین مسجد جانا چاہتی ہیں؟
(٢) مسجد جانے والی ہر عورت خوف خدا سے عاری نافرمان اور بدکرادر ہے؟
(٣) مان لیا کہ فتنوں بھرے اس دور میں خواتین کی بے راہ روی اور فحاشی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن کیا یہ انصاف ہے کہ اس کے بدلے بقیہ نیک خواتین کو اللہ کے گھر سے روک دینا چاہیے؟ مریض کو اس کے مرض کی دوا دینے کی بجائے اسے تنگ و تاریک کمرے میں پابند سلاسل کردینا یہ علاج کی کون سے قسم ہے؟
(٤) دوران سفر مرد راستے میں ٹھہر کر مسجد میں نماز ادا کرلے اور اس کے ساتھ موجود خواتین اپنی نماز کو قصدا ترک کردیں کیونکہ مسجد میں ان کا داخلہ ممنوع ہے۔وہ سکون سے مسجد میں عبادت کی بجائے وہ فرض نمازیں چھوڑدیں؟
(٥) ایک مخدوش معاشرے کے ڈھانچہ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ایسا بالکل نہیں کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کی وجہ خال خال عورتوں کی بے پردگی اور فحاشی ہے بلکہ مردوعورت دونوں سے متعلق کئی ایک مسائل ہیں جو امت کو لاحق ہیں تو کیا ان کی اصلاح کے لیے مسلمان مرد و عورت کو دین کے دوسرے اعمال وفرائض کی ادائیگی سے روک دیا جائے گا؟
اگر سو مسائل کے ساتھ مرد نماز کو جاسکتے ہیں،
فرمان خداوندی سے زیادہ واضح پیغام کوئی اور نہیں کہ
(وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمۡ اَنۡ یَّدۡخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ ۬ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں پر اس بات کی بندش لگا دے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے،
عورتوں کے مساجد جانے کے تعلق سے ان حدیثوں سے زیادہ تفصیلی روایات کہیں نہیں:
• عن ابن عمر رضي الله عنه،
جب تم سے کوئی عورت مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے منع نہ کرو۔
((لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ الله مَسَاجِدَ الله))
اللہ کی بندیوں کو اللہ کے گھروں سے نہ روکو۔
ایک روایت میں بات کچھ اور واضح ہوجاتی ہے
((ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ))
عورتوں کو رات کے وقت مسجد جانے کی اجازت دے دیا کرو۔
(حديث ابن عمر فأخرجه مسلم (442)،
مقام حیرت ہے کہ اتنے واضح فرامین کے بعد بھی کچھ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں۔اور وقتا فوقتا خواتین کے مسجد جانے پر ہنگامہ آرائیاں کرتے رہتے ہیں۔اللہ کے رسول ﷺنے اگر خواتین کو مسجد میں آنے سے کبھی کسی حال میں نہیں روکا تو پھر آج چودہ سو سال بعد خواتین کو نماز جیسے فریضہ کو مسجد میں ادا کرنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟
اللہ کے نبی ﷺ دوران نماز بچوں کے رونے کی آواز سن کر قرات کو ہلکی اور مختصر فرمادیتے۔کیا آپ کا یہ عمل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ اللہ کے نبی نے اس وجہ سے بھی عورتوں کو مسجد آنے سے روکنے کی بجائے اپنی قرات کو مختصر کردیا اور یہ نہیں کہا کہ اے خواتین کی جماعت اب تم مسجد میں آنے کی بجائے اپنے گھر پر ہی نماز ادا کرلیا کرو۔
افلا تعقلون؟؟؟
مسجد میں اپنی خواتین کو نماز کی ادائیگی سے روکنے والوں کے لیے میرا ایک مشورہ ہے کہ اگر واقعتا مسجد سے روکنا عین پرہیزگاری اور تقوے کا اعلی ترین مظہر ہے تو پھر اپنی خواتین کو حرمین شریفین کی مساجد کے فتنوں سے محفوظ کرلیجیے کیونکہ اس سے بڑی مسجد دنیا میں کوئی نہیں اور اس سے بڑا مرد و زن کا اختلاط کسی اور مذہبی مقام پر دیکھا نہیں جاتا۔
لیکن ایک کڑوی حقیقت تو یہ ہے کہ جب دین کے اصولی اور بنیادی احکامات پر مسلکی رنگ چڑھاکر فریق مخالف کی ہر رائے پر شعوری طور پر 80 کا اینگل قائم کرلیا جائے تو پھر اللہ اس کے رسول کے فرمودات،
میں اسے آپ لوگوں کا ظلم کہوں؟
یا اسے ذہنی جذام تسلیم کرلوں؟
کہ آج کے مہذب و متمدن دور میں تمام دنیاوی سطحوں پر خواتین مردوں کے شانہ بشانہ پھریں بلکہ ان سے دس قدم آگے بھاگتی پھرتی ہوں تو انھیں روکنے سمجھانے کی بجائے اپنی ان دوسری بہنوں کو ہی مسجد سے روک دینا کہاں کی دانش مندی اور دین کا کون سا پہلو ہے۔
غور کرنے کی بات ہے کہ ہندوستانی مسلم معاشرہ جس قدر تیزی سے غیر اسلامی کلچر میں رنگا ہوا ان سے مرعوب ہوتا جارہا ہے اس کی انتہا کا کوئی کنارہ نہیں۔جس ماحول میں الحاد و ارتداد کے تیز و تند تھپیڑے دین و ایمان کو خس و خاشاک کی طرح بہائے لے جارہے ہوں ان حالات میں خواتین اسلام کے لیے ایسی فضا تیار کی جانی چاہیے جو ان کی ذہنی آبیاری کے لیے سازگار ہو،
اپنے آس پاس نظر ضرور ڈالیے،
علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ؒاپنی مشہور کتاب انکار المنن فی تنقیدآثار السنن ص:١٠١پر فرماتے ہیں: "قول عائشہ ؓکی بنا پر مساجد میں عورتوں کی حاضری کا حکم متغیر نہیں ہوسکتا اس لیے کہ حضرت عائشہ نے اسے جس شرط کے ساتھ معلق فرمایا وہ پائی نہیں گئی۔
انھوں نے یہ گمان کیا کہ اگر آنحضرت ﷺ دیکھتے تو منع فرمادیتے۔تو کہا جاسکتا ہے کہ نہ آپ نے دیکھا،
ایک نہاہت سادہ لیکن بڑی بات یہ ہے کہ آیات و احادیث کے مقابلے میں کسی بھی شخص کی رائے پر عمل نہیں ہوسکتا۔خواتین کے لیے مساجد میں الگ انتظام نہ کرنا بھی اس ضمن کا ایک بہت بڑا کام ہے۔لیکن یہاں جانتے بوجھتے حدیث کی مخالفت چل رہی ہے باعث فتنہ بننے والی خواتین کو خیر و اصلاح کی طرف دعوت دینے کی بجائے دوسری مذہبی مزاج رکھنے اور خیر کی متلاشی بہنوں کو روک دینا یہ ایک طرح سے خدائی فوجدار بن کر خواتین کو دین سے روک دینے کے مترادف ہے اور اپنے ہاتھوں بھلائی کے مواقع ختم کرنے جیسا ہے۔
ملّی بھائیوں سے میری درخواست ہے کہ شیخ طریقت اور اپنے پیرومرشد کی پیروی سے وقت نکال کر،
اللہ کے نبی ﷺ نے ہر طرح کے حالات میں خواتین کو مسجد آنے کی اجازت دی ہے کبھی انھیں منع نہیں فرمایا۔آپ کی نظروں سے زیادہ صواب دیدہ نظریں دنیا میں کس نے پائیں؟؟؟؟ شارع علیہ السلام بخوبی واقف تھے کہ آئندہ آبادی بڑھے گی،
خدارا!! اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھیں۔آج تک ایسی کوئی نص نہیں آئی جس نے یہ ثابت کردیا ہو کہ علماء اپنی عقل و مرضی کے مطابق معاشرے کے حالات کو دیکھتے ہوئے کتاب و سنت کے واضح احکام میں تبدیلی لاسکتے ہیں یا ان کے احکام کو وقتی مصلحت کے تحت ممنوع قرار دے سکتے ہیں۔
اگر بات فتنوں کی ہے تو کیا فتنے مردوں کے لیے کم ہیں؟ دہشت گردانہ بم دھماکے،
خواتین کے مسجد جانے کے تعلق سے شریعت نے بعض مقامات پر تاکیدی حکم دیا ہے جیسے عیدین کے موقعے پر مسلمانوں کی اجتماعی دعاوں میں شرکت کرنا وغیرہ۔خواتین کو اس بڑے خیر سے عملا روک دیا گیا ہے۔مذہبی ٹھیکیداروں کو ایسی روش اختیار نہیں کرنی چاہیے جس سے ایک واضح حکم کو مجموعی طور پر ترک کردیا جائے۔
کیسی مضحکہ خیز بات ہے نا،
تو یہاں سمجھا جاسکتا ہے کہ خواتین اگر مذکورہ اسباب کے لیے گھر سے بغیر قید و بند کے نکل سکتی ہیں تو نماز جمعہ،
خواتین کو مسجد سے جانتے بوجھتے دور رکھنا یا ظلما دور رکھنا دراصل مغربی پروپیگنڈوں کا آلہ کار بننا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق بھی عطا نہیں کرتا۔
یاسمین پیرزادہ کا مسجد داخلہ کے معاملے میں قانونی چارہ جوئی کرنا دراصل آپ کی غیرت کو ایک دستک ہے اور آپ اگر نہیں جاگے تو کب جاگیں گے۔۔۔۔مسلمانوں کے دو اہم شرعی معاملات میں ہندوستانی حکومت کی مداخلت کو میں ہرگز خوش آئند معاملہ نہیں سمجھتی۔عجیب مسئلہ ہے ایسے کم ظرف لوگوں کا جنھیں دنیا کا سب سے بڑا فتنہ اللہ کے گھر میں نظر آتا ہے۔ہمیشہ سے ایسی واہیات بکواسیں مسجد جانے والی سلفی خواتین پر بھونکی جاتی ہیں۔
نتیجہ کیا ہوا؟
اوپر کی جانب تھوکا گیا تھوک خود آپ کے منہ پر ہی آگرا۔آپ نے مسجد جانے والی خواتین کو بے آبرو کرنے کی باتیں منبر ومحراب پر کیں،
واللہ خیرالماکرین
اب ان شاءاللہ مسجدوں میں عبادت کی غرض سے صرف سلفی خواتین نہیں جائیں گی آپ کی اپنی نازنینیں اور مہ جبینیں بھی جائیں گی وہ بھی پولس سیکیوریٹی کے ساتھ۔
مسجد جانے کی بات کو لے کر آپ کی ہٹ دھرمی اس بات کا مظاہرہ کررہی ہے کہ آپ لوگ معاشرے کی بے راہ رو خواتین کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور باپردہ شریف عورتوں کی حوصلہ شکنی کررہے ہیں اور آپ کو اس سے اجتناب ضرور کرنا چاہیے۔عورت گھر پر نماز ادا کرے یا مسجد میں اس فیصلہ کو ہم مکمل طور پر اس پر چھوڑدیں۔عورت حالات کے پیش نظر اگر خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو وہ اپنے گھر پر ہی نماز ادا کرے اور اگر وہ مسجد آنے کے لیے مامون ماحول پاتی ہو تو اسے مسجد آنے سے نہیں روکنا چاہیے۔





