آج صبح دروازے پہ دستک ہوئی دروازہ کھولا تو دیکھا کہ بابا چرسی کا بیٹا سورج نشیڑی سامنے کھڑا ہے۔مجھے دیکھتے ہی اس نے زوردار سلام ٹھونکا تو میں نے بھی اسی انداز میں جواب دیا اور اسے اندر آنے کو کہا۔
بابا چرسی ایک زمانے سے ہمارے محلے میں رہتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ میں ان کے محلے میں رہتا ہوں۔وہ چرس نوشی اور بھانگ فروشی کے علاوہ کوکین اور افیم کے بڑے ڈیلر ہیں۔وہ بھارت نشہ مکت ابھیان تنظیم کے جنرل سکریٹری بھی ہیں اس لیے نشہ مخالف ریلیوں کی نہ صرف قیادت کرتے ہیں بلکہ اپنی دھواں دھار تقریروں کے ذریعے نشہ مکت سماج کا سنکلپ بھی لیتے ہیں۔ان کی نشہ مخالف خدمات کو دیکھتے ہوئے کئی بار انھیں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے،
کبھی کبھار میری ان سے ملاقات ہوتی ہے۔وہ جب بھی مجھے نظر آتے ہیں میں اتنے زور سے سلام کرتا ہوں جتنے زور سے میں نے کبھی مسجد میں اذان بھی نہیں دیا ہے۔ان کے اعراض اور چہرے پہ ناگواری کے اثرات کے باوجود بھی میں ان سے تگڑا معانقہ کرتا ہوں جس کا مجھے خاطر خواہ فائدہ بھی ملتا ہے۔علاقے کے سارے لوگ مجھے ان کا خاص آدمی سمجھتے ہیں اور اسی لیے تیس کلو وزن کے باوجود کسی کی مجال نہیں جو مجھ سے ٹکرائے سوائے اکلوتی بیگم کے۔
سورج نشیڑی بابا چرسی کا اکلوتا وارث ہے۔وہ بچپن سے ہی چھرے بازی اور چاقو زنی کا شوقین تھا۔اپنے اسکول بیگ میں کتابیں کم عمدہ قسم کے رامپوری چاقو زیادہ رکھتا تھا اسی لیے نو اور نو بارہ بتانے کے باوجود کوئی بھی استاذ اسے فیل کرنے کی جرات نہیں کرسکا۔سورج نشیڑی پڑھنے لکھنے میں کمزور تھا اس لیے وہ دوسرے لوگوں کی طرح پچیس سال کی عمر میں پروفیسر نہیں بن سکا لیکن سرکاری اسکیموں کے بارے میں وہ اچھی جانکاری رکھتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ یو پی اے حکومت نے جب پہلی بار یہ اعلان کیا کہ ابتدائی سے لے کر آٹھویں جماعت تک کسی کو فیل نہیں کیا جاسکتا تو وہ سیدھا پرنسپل کے آفس میں جا دھمکا اور مطالبہ کرنے لگا کہ پانچویں کے بجائے اس کا نام نویں کلاس میں درج کر لیا جائے۔وہ اس بات پر بضد تھا کہ آٹھویں تک آپ جب مجھے فیل نہیں کرسکتے تو میرا تین سال برباد کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔پرنسپل کی آنا کانی کے بعد جوں ہی اس نے رامپوری چاقو ٹیبل پہ رکھا اس کا نام چشم زدن میں نویں کلاس میں درج ہوچکا تھا اور اس طرح اپنے حق کی لڑائی میں وہ کامیاب رہا۔
سورج نشیڑی سے میں نے گھر آنے کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگا کہ وہ بارہویں پاس ہوچکا ہے اور اب لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہتا ہے۔اس کے جملے سے ایک لمحے کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مستقبل کا وزیر میرے غریب خانے پہ جلوہ افروز ہے۔میں نے کالر کو درست کیا اور بیک وقت کئی سیلفیاں نکال لیں۔میں نے بچے کو بلایا اور اسے زور سے ڈانٹنا شروع کیا اور بولا کہ تمھیں پتہ نہیں یہ کون صاحب ہیں؟ جاؤ اور جاکر ٹھنڈا پانی لاؤ۔بچے نے جب کہا کہ ابو پانی تو ٹھنڈا ہی ہے تو میں نے اس کو اور زور سے ڈانٹا کہ باپ سے زبان لڑاتا ہے دفع ہوجاؤ یہاں سے،
بیگم کو شانت کرنے کے بعد میں واپس سورج نشیڑی کے پاس آکر بیٹھ گیا لیکن اس درمیان میرے من میں ایک سوال چبھتا رہا کہ جس شخص کے قدم پڑتے ہی گھر کی شانتی بھنگ ہوگئی ملک کی قیادت جب ان جیسوں کے ہاتھوں میں آئے گی تو اس دیش کا انجام کیا ہوگا؟
میں دوبارہ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہ رہا تھا لیکن میرے دماغ سے یہ بات نکل چکی تھی کہ کس سوال پہ ان کو چھوڑ کر بھاگا تھا؟ مجبورا میں نے ایک نیا سوال ٹھونک دیا کہ آپ نے ہائی اسکول کب پاس کیا؟ سورج نشیڑی نے میرے سوال کے جواب میں جب بتایا کہ ابھی تو وہ بارہویں پاس ہوا ہے اور دو سال کے اندر ان شاءالله وہ ہائی اسکول بھی کرلے گا تو میرے حیرت کی انتہا نہیں رہی۔میں نے برجستہ کہا کہ بھارت کے تعلیمی نظام کے حساب سے پہلے تو ہائی اسکول پاس کرنا چاہیے تو اس نے جواب دیا بیلن انکل آپ سسٹم کی بات کرتے ہیں اسی لیے ابھی تک دس بائی دس کے روم میں رہتے ہیں۔اس نے مجھ سے نصیحت بھرے انداز میں کہا کہ یہ سسٹم وسٹم کے چکر میں پڑو گے تو بچے بھوکے مرجائیں گے اور پھر اچانک ہی اس نے مجھ سے الٹا سوال داغ دیا کہ کیا آپ نریندر مودی کو جانتے ہیں؟ میں نے جھلا کر کہا یہ کیسا سوال ہے؟ بھلا ان کو کون نہیں جانتا ہے وہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں،
سورج نشیڑی نے میرے گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے مشیر خاص مٹھو دارو والا کو میرے پاس ہی رکنے کو کہا اور تاکید کی کہ بیلن انکل کے کچھ سوالات رہ گئے ہیں ان کا جواب دے کر تم پارٹی آفس پہنچو۔میں نے کہا کہ مجھے سوال آپ سے کرنی تھی یہ کیسے جواب دے سکتے ہیں اس پر سورج نشیڑی نے کہا کہ اس ملک کے وزیر دفاع کو آپ جانتے ہیں؟ میں نے کہا وہ ایک خاتون ہیں،
سورج نشیڑی نے میری طرف طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا کہ شاید آپ کو جواب مل گیا ہوگا اور اللہ حافظ کہتے ہوئے مٹھو دارو والا کے ساتھ وہ رخصت ہوگیا۔
دو دن کے بعد رات بارہ بجے میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔میں نے ہیلو کہا تو سامنے سے آواز آئی کہ میں سورج نشیڑی کے آفس سے رشید شرابی بول رہا ہوں،
آفس پہنچنے کے بعد مجھے ایک مدھم روشنی والے کمرے میں بیٹھایا گیا جہاں شریف چکلا والا نے ایک اسٹیپلر بند لفافہ تھماتے ہوئے مجھ سے کہا کہ بچوں کی مٹھائی کے لیے اسے آپ رکھ لیں۔میں نے چہرے پر مصنوعی غصہ لاتے ہوئے کہا کہ یہ کیا ہے؟؟ پھر اچانک خیال آیا کہ زیادہ شرافت دکھانے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہاتھ آیا ہوا مال بھی واپس چلا جائے اس لیے پہلی فرصت میں لفافے کو بائیں ہاتھ سے دبوچ کر جیب میں ڈال لیا لیکن اس درمیان میں برابر ناراضگی کا اظہار کرتا رہا۔میں نے زور دے کر کہا کہ یہ اچھا نہیں ہوا میں بے ضمیر ٹائپ کا آدمی نہیں ہوں سماج و معاشرے میں میری عزت ہے میں ایک متدین شخص ہوں اس طرح کے پیسوں کو میں حرام سمجھتا ہوں میں چوری کرسکتا ہوں لیکن حرام خوری نہیں کرسکتا۔اپنے بھاشن کے دوران میں نے خاموشی سے جیب میں بایاں ہاتھ بھی گھسا دیا اور لفافے کو مضبوطی سے جکڑ لیا میں وہاں سے فورا نکل بھاگنا چاہتا تھا تاکہ کسی اندھیری جگہ جاکر لفافہ کھول کر دیکھوں۔اجازت لے کر جب میں واپس ہونے لگا تو ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ میرے کانوں سے ایک معقول گالی کی آواز ٹکرائی جو غالبا شریف چکلا والے نے میرے بھاشن سے متاثر ہوکر مجھے دیا تھا۔لفافہ ملنے کی خوشی میں وہ الفاظ میں یاد نہیں رکھ سکا البتہ کتا جیسا کوئی مہذب لفظ انھوں نے کہا تھا۔
میں پارٹی آفس سے دور نکل آیا لیکن سوئے اتفاق اس دن علاقے میں بجلی تھی اس لیے لفافہ چیک کرنے میں دقت ہورہی تھی۔اچانک میری نظر سورج نشیڑی پر پڑی جو قریب کی ایک گلی سے نکل رہا تھا۔اس کو دیکھتے ہی میں نے فلک شگاف نعرہ لگایا:
سورج نشیڑی آگے بڑھو،





