جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سلفی جامعات ومدارس کے ذہین طلبہ کی توجہ درکار ہے

تحریر: شیخ رفیق احمد رئیس سلفی19 مارچ، 20191,814قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

برصغیر کی جماعت اہل حدیث اور اس سے وابستہ علماء کی متنوع خدمات سے واقفیت ان کتب سیر و تراجم سے ہوتی ہے جو ہمارے بعض علماء نے جماعت کی تاریخ اور جماعت کے علماء کی حیات و شخصیات پر تحریر فرمائی ہیں۔تمام تر کوششوں کے باوجود ماضی کی تاب ناک تاریخ کو کسی کتاب میں اس وجہ سے سمیٹا نہیں جاسکا کہ درمیان سے کئی ایک کڑیاں گم ہیں اور سلسلہ وار تاریخ موجود نہیں ہے۔مستقبل کے مورخ کو بھرپور مواد فراہم کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہماری ہر نسل اپنے معاصر علماء کی حیات اور خدمات کو قلم بند کرتی جائے۔بنیادی معلومات موجود رہیں گی تو ان کے سہارے تفصیل لکھی جاسکتی ہے۔

میں درخواست کروں گا سلفی جامعات و مدارس کے ان ذہین طلبہ سے جو لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور جن کے اندر صحافتی ذوق پایا جاتا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اپنی جامعات اور اپنے مدارس کے اساتذہ کرام کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کردیں۔کوئی ایک طالب بھی یہ خدمت انجام دے سکتا ہے اور کئی ایک ساتھی اجتماعی طور پر بھی اپنے اساتذہ کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔عنوان اس طرح قائم کریں: جامعہ اسلامیہ سنابل،نئی دہلی کے اساتذہ کرام،جامعہ عالیہ عربیہ،مئو کے اساتذہ کرام۔ہر استاذ کے بارے میں جو بنیادی معلومات ان سے معلوم کرکے قلم بند کرنے ہیں،ان کو مندرجہ ذیل فارم کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے:

اسم گرامی مع ولدیت:

تاریخ پیدائش:

مقام پیدائش:

مکتب اور جامعات کے نام جہاں تعلیم پائی:

مکتب کے اساتذہ کرام:

عربی درجات کےاساتذہ کرام:

کس فن سے خصوصی لگاؤ ہے:

کن کتابوں کی تدریس تفویض کی گئی:

دعوت وتبلیغ کی کن ذمہ داریوں سے وابستگی ہے:

تنظیم اور جماعت کا کوئی منصب:

ممتاز تلامذہ کے اسمائے گرامی:

تصنیفی خدمات:

مضامین ومقالات:

رابطے کے پتے: (پوسٹل ایڈریس،فون نمبر،ای میل وغیرہ)

مزید کوئی خاص بات:

میرے مخاطب یہاں صرف جامعات کے ذہین طلبہ ہی نہیں بلکہ وہ اساتذہ کرام بھی ہیں جو کہیں دور دراز کے گاؤں دیہات میں تدریس اور دعوت کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں،وہ خود اپنے بارے میں اور اپنے ساتھیوں اور معاصر علماء کے بارے میں یہ معلومات فراہم کردیں تو جماعت کی تاریخ کا ایک حصہ محفوظ ہوجائے گا۔

مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ہمارے بعض محترم اساتذہ کرام اخلاص،تواضع اور خاکساری کے پیش نظر نہیں چاہیں گے کہ کوئی ان کے نام اور ان کی خدمات کا چرچا کرے۔ہم آپ کے ان مقدس جذبات کی قدر کرتے ہیں،اللہ آپ کو اس کی جزا عطا فرمائے لیکن یہاں ہماری اپنی جماعت کی سلسلہ وار تاریخ کا مسئلہ درپیش ہے،آپ کی بھی یقیناً خواہش ہوگی کہ جماعت کی تاریخ ہر دور میں سلسلہ وار مرتب ہوتی رہے۔لیکن یہ کام آپ کے تعاون کے بغیر نہیں ہوپائے گا۔آپ کی سہولت کے لیے میں نے اسی لیے ذہین طلبہ سے درخواست کی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر یہ کام خود انجام دیں۔امید ہے کہ آپ اپنے طلبہ کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں گے بلکہ مطلوبہ معلومات انھیں املا کرادیں گے۔ اس سلسلے کے سارے مضامین دی فری لانسر پورٹل کے ای میل thefreelancermumbai@gmail.com  اور editor@thefreelancer.co.in ہی پر بھیجے جائیں تاکہ یہاں اپلوڈ ہو اور اس طرح ہر شخص ان کو محفوظ بھی کرسکے اور بوقت ضرورت ان سے استفادہ بھی کیا جاسکے۔ذمہ داران بعد میں اگر سوانحی سلسلے کے یہ سارے مضامین پورٹل کے کسی ایک کالم کے اندر جمع کردیں تو اہل علم کو مزید سہولت ہوگی۔

واٹس ایپ استعمال کرنے والے احباب سے درخواست ہے کہ یہ مضمون اپنے اپنے گروپس میں زیادہ سے زیادہ شیئر کردیں تاکہ تمام ریاستوں کے علمائے اہل حدیث تک یہ پیغام پہنچ جائے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ھ
ھلال ھدایت
25 مارچ، 2019
بہت خوب شیخ محترم اچھا مشورہ ہے کاش کہ اس پر عمل ہوتا
R
Rasheed salafi
20 مارچ، 2019
شیخ محترم کے اس پیغام کوبہت زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے،علماء ایک طویل مدت دعوت دین اور خدمت دین کی راہ میں گذار دیتے ہیں لیکن انکی رحلت کے چندسالوں بعد وہ نسیا منسیا ہوجاتے ہیں آپ نے اس کمی کو شدت سے محسوس کیا ہےاور اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے،مدارس کے طلبہ خاص طور پر اپنے مقالوں کا اسے موضوع بھی بنا سکتے ہیں۔جزاک اللہ خیراشیخناالفاضل۔۔۔
ع
عامر انصاری
19 مارچ، 2019
بہتر سجھاؤ ہے

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سلفی جامعات ومدارس کے ذہین طلبہ کی توجہ درکار ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر