ایک مسلمان خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ اللہ سبحانہ و تعالی کی مبارک کتاب قرآن مجید کے حوالے سے اس کی سب سے بڑی تمنا اور آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس کتاب سے جڑجایے،
وہ جس قسم کی بھی پر مشقت زندگی گذار رہا ہو اس سے کئی گنا بہتر اور شاندار زندگی کا تصور اپنی اولاد کے لیے کرتا ہے۔اسے اپنی ہر محرومی پر صبر آجاتا ہے کیونکہ اپنی بے مائیگی،
یہ یقین اس کے اوپر اوپر نہیں بہہ رہا ہوتا بلکہ اس کی ذات میں اپنی جڑوں سمیت پیوست ہوتا ہے۔یہ قول:
("علم ولدک القرآن سیعلمہ کل شی"۔
اپنی اولاد کو قرآن سکھادو اور قرآن اسے بقیہ علوم سکھادے گا) اس کے لیے راہ کا سنگ میل ثابت ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ یہ واحد علم اس کے بچوں پر علوم و فنون کے اور بھی بہت سے دروازے کھول دے گا اور دنیا و آخرت کی زندگی میں فلاح کی راہ کو تلاش کرنے والے کے پاس یہی وہ علم ہے جو اسے فائز المرامی تک پہنچائے گا۔
قرآن کریم دنیا کی Best seller کتابوں میں سے ہے۔دنیا کے ہر خطّہ میں جہاں کہیں بھی مسلمان اپنی اقلیت و اکثریت کے ساتھ موجود ہیں یہ کتاب وہاں نہ صرف پڑھی پڑھائی جاتی ہے بلکہ یاد بھی کی جاتی ہے۔دنیا بھر میں ۱۳ملین مسلمان یعنی ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ کم و بیش حافظ قرآن ہیں اور اس کتاب مقدس کو اپنے سینوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔اللہ کا یہ کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے۔اس کتاب کا کروڑوں سینوں میں محفوظ ہونا ہی اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے اور کتاب الہی کے منزل من اللہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اتنے فیوض و برکات کے باوجود ساتھ ہی ایک کڑوی حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم الشان کتاب کو کماحقہ اٹھایا نہیں گیا۔اہل قرآن نے کماحقہ اس کتاب کا حق ادا نہیں کیا۔جس کی وجہ سے آج قرآن کریم سیکھنے سکھانے جیسا بابرکت عمل اپنی اصل خوبصورتی اور برکات سے محروم ہوگیا ہے۔
اسی ضمن کے ایک اہم مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آخر بچّے قرآن سیکھنے میں تردد کیوں کرتے ہیں اور اسے سیکھنے یا یاد کرنے کے بعد اس کے اثرات ان کی زندگی پر دکھائی کیوں نہیں پڑتے۔قرآن پڑھنے یا یاد کرنے کے بعد اس سے یکسر لاتعلق کیوں ہوجاتے ہیں۔والدین سرپرست یا اساتذہ کی طرف سے بارہا ایسی شکایتیں اور مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ہم نے اس مسئلے کے اسباب و عوامل پر غور کیا تو کچھ احتیاطی تدابیر واضح ہوئیں جن کو عمل میں لاکر یہ مسائل حل کیے جاسکتے ہیں:
*(۱) والدین کی اپنی منصوبہ بندی:
والدین اگر اپنے بچے کو قرآنی تعلیمات سے آراستہ کرنا چاہتے ہوں تو اس بات کی تیاری زوجین کو اسی وقت سے شروع کردینی چاہیے جب وہ ایک دوسرے کا انتخاب کررہے ہوں۔
جی ہاں!! کیونکہ اگر شریک سفر نیک ہوگا/ہوگی تو یقینی طور پر وہ خود بحیثیت مومن اللہ اور اس کی کتاب مقدس سے جڑا ہوا ہوگا،
پھر اولاد آجانے کے بعد اس کی پرورش کے آغاز میں ہی والدین اپنے عزم و ارادہ کو اس بات پر پختہ کرلیں کہ انھیں ہر صورت اپنی اولاد کو قرآن کے لیے وقف کرنا ہے جس کی تکمیل کی خاطر وہ اپنا وقت مال اور توجہ سب کچھ وقف کرنے کو پوری طرح سے تیار ہیں۔
قرآن مجید کا حفظ کرنا یا اس کی تفسیر کا سیکھنا،
والدین کی منصوبہ سازی میں کرنے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان کے سامنے ان کا مقصد صاف ہو،
یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ کسی اور کو دیکھ کر اپنے بچے کو حافظ یا عالم بنانا،
والدین خود کو جانچیں اگر اوپر دی گئی وجوہات میں سے آپ کے پاس ایک بھی وجہ ہے تو یہ آپ کے مقاصد کی بنیادی اور سب سے بڑی غلطی ہوگی۔جیسے تیسے اگر بچے نے قرآن مکمل بھی کرلیا تو بھی یہ ایسے ارادے سے ایک سچا جانشین قرآن کبھی تیار نہں کیا جاسکتا۔والدین کے پاس ایسے کمزور اور سطحی ارادوں کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ بلند و بالا عزائم موجود ہونے چاہئیں۔
مثلا یہ کہ والدین کہیں کہ "ہم اپنے بچے کو قرآن مقدس سے اس طور جوڑنا چاہتے ہیں کہ بچہ کا قرآن مقدس سے لفظی معنوی اور روحانی رشتہ قائم ہوسکے۔اس کتاب کے معجزاتی اثرات نہ صرف بچے کے ظاہر کو متاثر کریں بلکہ قرآن کریم کی تاثیر اس پر اور اس کے ساتھ پوری دنیا کو متاثر کرنے والی ہو۔
*(٢) اللہ کی معرفت:
جس کام پر ہم اپنا وقت،
قرآن کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اس کتاب کو سیکھنے کے لیے وہ بڑی وجہ ہمارے پاس ضرور ہونی چاہیے جو ہمیں اس کام کی رغبت دلاتی ہو
لہذا والدین پر یہ ضروری ہے کہ اس عظیم مشن میں بچے کو صرف یہ کہہ کر قرآن مجید نہیں تھمادینا ہے کہ اسے پڑھو اور پڑھنے جاؤ کیونکہ اس کے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے نیکیاں ملتی ہیں بلکہ یہاں پہلا اسٹیپ یہ ہوگا کہ بچے کے دل و دماغ میں جس ہستی نے اس کتاب کو نازل کیا اور بنایا ہے یعنی اللہ رب العزت کی معرفت اس کی موجودگی اور قدرتوں کا یقین پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔جس کی خاطر اسے توحید کا مفہوم بہت ہی آسان لفظوں میں لیکن پورے وثوق کے ساتھ سمجھایا جائے پھر اس کے بعد اسے اللہ سبحانہ وتعالی کی قدرت کاملہ سے متعارف بھی کرایا جائے۔نفسیاتی طور پر بچے کو اندر سے مضبوط کیا جائے۔بچے کو ہمہ وقت یہ احساس ہو کہ اس کے والدین اور اساتذہ کی غیر موجودگی میں بھی کوئی ذات ہے جو مسلسل اس کے ساتھ ہے جو ان لوگوں سے کہیں زیادہ بڑی،
اور یہ ذہن سازی ان شاءاللہ بہت ہی مفید ثابت ہوگی۔ایک طرح سے یہ بچے کے دل و دماغ پر اللہ کی محبت اور اس کی سلطنت قائم کرنے جیسا ہے۔اگر ایک بار بچہ اللہ کی معرفت سے سرفراز ہوجاتا ہے تو پھر ان شاءاللہ اس کے لیے اللہ کے کلام کو سیکھنا سکھانا اور اس پر عمل کرنا بھی بہت آسان ہوجائے گا۔قرآن سیکھنے کے لیے ان شاءاللہ اس کے پاس سب سے بڑی وجہ اپنے رب کی محبّت ہوگی جس کے حصول کی خاطر وہ بلا رکے بلا تھکے اس راہ میں اپنی منزل کو بڑھتا چلا جائے گا۔
یہ حدیث ہمارے لیے ایک زبردست گائیڈ لائن فراہم کرتی ہے جب اللہ کے رسول نے سواری پر اپنے پیچھے بیٹھے ہوئے دس سالہ عبداللہ سے فرمایا کہ اے عبداللہ!
(( يا غُلامُ إنِّي أعلِّمُكُ كَلماتٍ: احفَظِ الله يَحْفَظْكَ،
رواه الترمذيُّ،
ترجمہ: ابوالعباس عبداللہ بن عباس رضي الله عنه سے مروی ہے،
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بچوں کو امورِ عقیدہ کی تعلیم دینی چاہیے،
یہ حدیث نصیحت کے ایک خیرخواہانہ اور ناصحانہ اسلوب کا شاہکار ہے،
ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بچوں کی ذہن سازی پہلے کی جائے پھر انھیں کچھ سیکھنے پر آمادہ کیا جائے۔
*(٣)معرفت قرآن:
بچے کو قرآن کریم کی عظمت سے واقفیت دلائی جائے جس کے لیے بچّے کی نفسیات کا خیال رکھتے ہوئے اسے نیکیوں،
امام ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو احکام سکھاتے ہوئے ساتھ اُن کے دلائل بھی بتائے جائیں۔آپ ایسا کریں گے تو اس کے دو فائدے ہوں گے:
پہلا: بچے کو دلائل کے ساتھ بات کرنے اور ماننے کی عادت پڑ جائے گی۔
دوسرا: اسے اللہ اور نبی ﷺ کی ذات سے محبت ہوگی۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ ہی قابل اتباع امام ہیں کہ جن کی ہر کام میں پیروی کرنی ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس بات سے غافل ہے،
جو کہ کتاب و سنت ہے۔(القول المفید علی کتاب التوحید { 2/423})
بچے کو قرآنی فضائل اور اس کی برکات سے روشناس کرایا جائے جس کے لیے صرف زبانی کام نہیں ہو بلکہ اسے ان چیزوں کا ادراک کرایا جائے جسے رب اعلی نے ہم پر بطور احسان عطا کیا ہے۔
بچہ جب بھی سوال کرے کہ ہم اس کتاب کو کیوں پڑھتے ہیں اور اسے پڑھنے سے کیا ہوگا؟
آپ اسے بتلائیں کہ اس کے ہر حرف کے پڑھنے پر ایک نیکی ملتی ہے تو سوچو!!!!! جس نے مکمل قرآن اپنے سینے میں محفوظ کرلیا وہ انسان کتنا باسعادت ہوگا،
بچے یونہی خالی خولی اجر و ثواب خیر و برکت کو نہیں سمجھ سکتے۔بحيثيت ذمہ دار والدین اور اساتذہ،
بچوں کی طبیعت فطرتا متجسس،
کیا ہی خوب ہو کہ بچوں کو آیۃ الکرسی کے فضائل سمجھا دیے جائیں کہ اس سورت کو پڑھنے کا فائدہ ان کی دلچسپیوں سے خاصا متعلق ہے۔بچے بڑے ہی خوش ہوکر اس سورت کا اہتمام کرتے ہیں جب انھیں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سورت جن و شیطانوں کو بھگانے والی ہے اور آگ چوری اور ڈکیتی سے محفوظ کرنے والی ہے۔
اسی طرح سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات کو یاد کرنے کی فضیلت بتلانا (فتنہ دجال سے حفاظت ) اور بچوں کو اس کے حفظ پر ابھارنے کی ایک عمدہ کوشش ثابت ہوسکتی ہے۔بچوں کے لیے دجّال بھی ایک سسپنس ہے وہ بہت ہی پرجوش ہوکر اس کے متعلق احادیث سنتے ہیں۔
معوذتین کی اہمیت بتلاتے ہوئے بچوں کو قرآنی آیات کی طاقت کا احساس دلانا چاہیے کہ یہ چھوٹی سی سورتیں اپنے اندر کیسی ناقابل تسخیر قوت رکھنے والی ہیں،
خلاصہ کلام یہ کہ بچوں کو محض زبانی چیخ پکار اور جبر و تشدد سے قرآن کریم سیکھنے کی رغبت نہیں دلائی جاسکتی،
("إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواماً ويضع به آخرين' " ) (صحیح مسلم،
اللہ رب العزت اس کتاب کے ذریعے قوموں کو سر بلندی عطاکرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے قوموں کو پستی میں بھی گراتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح فتح الباری میں اس طرح فرماتے ہیں:
یرفع الله المؤمن العالم على المؤمن غير العالم
(للہ اس کتاب کے عالم مومن کو نہ جاننے والے مومن عالم پر فضیلت عطا کردیتا ہے)
بچوں کو بتایا جائے کہ دنیا کے سبھی علوم پر اس علم کو سبقت ملی ہوئی ہے۔اللہ رب العزت دنیا میں قرآن پڑھنے والے کو جزاء کے روز بلائے گا اور کہے گا: اے صاحب قرآن!!!! (قرآن پڑھنے اور اسے حفظ کرنے والے) سے (قیامت کے دن) کہا جائے گا پڑھتا جا اور (درجے) چڑھتا جا اور اس طرح آہستہ آہستہ تلاوت کر جیسے تو دنیا میں ترتیل سے پڑھتا تھا پس تیرا مقام وہ ہوگا جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی۔‘‘(سنن أبی داود۔الوتر۔باب کیف یستحب الترتیل فی القراء ۃ ح: ١٤٦٤)
بچے کو سمجھایا جائے کہ بیٹا!!! "جس روز ساری دنیا کے انسان ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اللہ رب العزت ایک باعمل قرآن پڑھنے والے کو بلاکر کہے گا کہ تو جنت کی سیڑھیاں چڑھتا چلا جا اور جہاں تیری تلاوت ختم ہوجائے وہی تیری منزل ہے۔
یہ یقینا بہت بڑا شرف ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تم اپنی حقیقی کوشش سے اس اعزاز کے قابل بنو"۔
*(٤) کثرت دعا کا اہتمام:
بلاشبہ یہ ایک نہایت ہی عظیم اور بلند و برتر کام ہے جسے انسان کا صرف اپنی کوششوں کے بل بوتے پر پایہ تکمیل تک پہنچانا تقریبا ناممکن ہے لہذا اس کام کے لیے ہمہ وقت اللہ سبحانہ کی مدد طلب کرنی چاہیے۔عموما ہوتا یہ ہے کہ ہم ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ کی ﺍﭼﮭﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺎﺩﯼ ﺫﺭﺍﺋﻊ کا ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ تو ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ لیکن جس ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ لیے ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﺎ،
ﺭَﺏِّ ﺍﺟْﻌَﻠْﻨِﻲ ﻣُﻘِﻴﻢَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ﻭَﻣِﻦ ﺫُﺭِّﻳَّﺘِﻲ ۚ ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﻭَﺗَﻘَﺒَّﻞْ ﺩُﻋَﺎﺀِ
(اﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ! ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺭﮐﮫ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ،
ﻭَﺃَﺻْﻠِﺢْ ﻟِﻲ ﻓِﻲ ﺫُﺭِّﻳَّﺘِﻲ ﺇِﻧِّﻲ ﺗُﺒْﺖُ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﻭَﺇِﻧِّﻲ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﻴﻦَ
ﺭَﺏِّ ﺍﺟْﻌَﻠْﻨِﻲ ﻣُﻘِﻴﻢَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ﻭَﻣِﻦ ﺫُﺭِّﻳَّﺘِﻲ ۚ ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﻭَﺗَﻘَﺒَّﻞْ ﺩُﻋَﺎﺀِ "
بچوں کی فوز و فلاح کے لیے اﷲ سے دست بہ دعا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ساتھ ہی ایک بات اور سمجھ لیں کہ ماں باپ اور اساتذہ کی عبادت و ریاضت بچوں کی فلاح و کامرانی میں کلیدی کردار انجام دیتی ہیں۔اس ضمن میں حضرت سعید بن المسیبؒ کے عمل سے ہم کو رہنمائی و ہدایت حاصل ہوتی ہے۔آپ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں: ’’میں اپنی نماز میں تیری وجہ سے اضافہ کرتا ہوں،
لہذا سمجھ یہ آیا کہ والدین کا اللہ کے اوامر کی بجاآوری اور اس کی منھیات سے پرہیز اور ہمہ وقت بچے کے علم و عمل کے لیے اللہ کے حضور سوال کرتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
*(۵) ساز گار گھریلو عوامل:
ایک بچے کے کچھ سیکھنے سکھانے میں اس کا گھریلو ماحول سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس لیے ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ گھر کا ماحول پاکیزہ،
اس لیے ضروری ہے کہ گھر میں اہل خانہ کا باہمی تعلق اس قدر ملاطفت آمیز ہو کہ بچے کی طبیعت پر اس کے خوشگوار اثرات نظر آئیں۔بچہ گھر والوں کی صحبت میں خود کو ہشاش بشاش محسوس کرے،
قرآن کریم سیکھنے والا بچہ جب اپنے گھر میں داخل ہو تو نہ صرف اس کی عزت و تکریم کی جائے بلکہ شفقت و محبت کا اظہار بھی کیا جائے۔حسب استطاعت اس کی خاطر مدارت کا انتظام کیا جائے تاکہ بچہ اہل خانہ کی نظر میں اپنے آپ کو محترم اور اہم تصور کرے،
عموما گھروں میں جن اخلاقی برائیوں کی کثرت دیکھی جاتی ہے ان برائیوں کے جرثومے بچے کے اندر غیر محسوس طریقے سے داخل ہوجاتے ہیں اور یہ اپنےاثرات چھوڑنے میں نہایت ہی مستعد ہوتے ہیں۔ایک بار کوئی ان کے زیر اثر آگیا تو پھر بچوں پر اعلی سے اعلی تعلیم اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اس لیے لازم ہے کہ گھروں کو صوتی،
گھروں کا صوتی آلودگی سے پاک ہونے سے مراد گھر کو شور شرابہ سے محفوظ رکھا جائے خواہ وہ گھر کے کسی الیکٹرانک کا شور ہو یا افراد خانہ کا آپسی بات چیت اور لڑائی جھگڑے کا شور ہو۔یہ شور بچے کے تخیل میں ایک شدید قسم کا دخل ہوتا ہے اور تحقیق شدہ بات ہے کہ اضافی شور ذہن کو تھکا دیتے ہیں۔
اسی طرح بصری آلودگی سے بھی ایک طالب قرآن کو بچانا چاہیے،
ساتھ ہی سمعی آلودگی سے بھی بچے کے دل و دماغ کو بچانے کا اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے پاس سمعی آلودگی کی سب سے واضح مثال ہے اہل خانہ کا غیبت و چغلی جیسے رذیل افعال میں شریک ہونا۔
غرضیکہ قرآن سیکھنے والے بچے کو ہر طرح کے ڈسٹریکشنز سے محفوظ رکھنا چاہیے۔اس کے نقصانات کو ایک دوسرے زاویے سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ قرآن کریم سیکھنے پر مامور کیا جاتا ہے اور یہی بچہ جب اپنے گھر میں اپنے والدین اور بھائی بہنوں کو میوزک اور فلم بینی میں غرق پاتا ہے تو بچے کا ذہن ایک قسم کے تضاد کا شکار ہوجاتا ہے کہ یہ کیسی کتاب ہے اور کیسی ذمہ داری ہے جو صرف مجھ پر عائد ہے۔کیونکہ ہمارے یہاں بچے کو بتلایا جاتا ہے "بھئی اس خاندان کی دینی حمیت و غیرت اور اجر و ثواب کا سارا بار اب تمھارے کندھوں پر ہے میرے بچے!!!! لہذا تمھارے قدم لڑکھڑانے نہ پائیں،
اندازہ لگائیے اس بچے کی ذہنی حالت کا،
گھروں سے قرآن کی صدا گونجتی ہو،
تاکہ بچے کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوسکے کہ یقینا یہ کتاب کوئی عظیم کتاب ہے جسے سب نے اپنے لیے لازمی کیا ہوا ہے۔
*(٦) نظر بنائے رکھیں:
قرآن سیکھنے والے بچے کے ساتھ پوری مستعدی دکھائی جائے،
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو وقت پر مسئلہ معلوم ہوجائے گا اور آپ اس کا مناسب حل بھی نکال سکتے ہیں۔ورنہ عموما تو یہی ہوتا ہے کہ دو دو سال ہوجاتے ہیں اور بچوں کا نورانی قاعدہ مکمل نہیں ہوپاتا۔استاد سے مسلسل رابطہ بنائے رکھیں اور ساتھ ہی اپنی نگاہیں بچے کی کارکردگی پر بنائے رکھیں تاکہ واقعتا پتہ چل سکے کہ بچے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے یا یہ سب محض کاہلی اور بے دلی کا نتیجہ ہے۔
ہمیشہ کوشش یہی ہو کہ بچے کی تعلیم کے لیے نت نئی تکنیک تلاش کی جائے،
(7) مسجد سے تعلق بڑھائیں:
بہت سے بچے قرآن کریم پڑھنا تو چاہتے ہیں لیکن ان کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مسجد کے ماحول سے گھبراتے ہیں،
مسجد جانے کا شوق اس کے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔اللہ کے گھر میں جاکر قرآن سیکھنے سکھانے والوں پر اللہ کی جانب سے مقرب فرشتوں کے ذریعے رحمتوں کے نزول والی بشارت سناکر بچے کو مسجد جاکر اس میں تلاوت اور عبادت کرنے پر حاصل ہونے والے ثواب کے حصول پر ابھارنا چاہیے تاکہ بچے کے دل میں مسجد جانے کا شغف پیدا ہو اور اللہ کے گھر سے اس کا تعلق استوار ہو۔اسی طرح قرآن کو حسن صوت اور تجوید و ترتیل کے ساتھ پڑھنے پر ملنے والی سعادت کا حریص بنانا چاہیے۔
جس عرصے میں بچّہ قرآن کریم سیکھ رہا ہو اس دوران بچے کی غیر ضروری مصروفیات ترک کروادیں،
*(٨) اعادہ کی پابندی:
بچّہ فطرتا اور طبیعتا بے حد متجسس ہوتا ہے اسے ہر نئی چیز سیکھنے کا بے حد شوق ہوتا ہے اور وہ مسلسل،
تو یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جب اتنا سارا مواد بچّے کے دل و دماغ میں موجود ہو اور ان میں سے وہ کچھ کا استعمال کرتا ہو اور کچھ کا نہ کرتا ہو تو ظاہر ہے جس چیز کا استعمال بچہ نہیں کرے گا وہ مواد اس کے ذہن سے ضرور خارج ہو جائے گا۔
لہذا اگر قرآنی اسباق کا اعادہ کروانے پر پابندی نہیں کی گئی تو نئی چیزیں سیکھنے کا شوقین بچّہ جوں جوں نئی باتیں سیکھے گا پچھلا علم اس کے ذہن سے محو ہوتا جائے گا اور یہ"علم قرآن" ہو تو زیادہ فکر مندی کی بات ہے۔اس کی تائید خود نبی کریم سے بھی ملتی ہے۔
اللہ کے رسول نے فرمایا:
تعاھدوا القرآن فو الذین نفسی بیدہ لھو اشد تفصیا من الابل فی عقلھا۔(متفق علیہ)
(قرآن کی خبر گیری کرو،
اونٹ میں یہ صفت ہے کہ جب یہ چلتا ہے تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا بنسبت دوسرے جانوروں کے جب وہ چلتے ہیں تو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں۔
اسی طرح اگر بچہ مسلسل قرآن کی تلاوت کرتا رہے تو قرآن اس کے سینہ میں محفوظ رہے گا ورنہ اونٹ کی طرح چلا جائے گا اور اس کے سینے سے محو ہوجائے گاـ لہذا یہ سرپرستوں پر ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے اعادہ کا نظم و ضبط پابندی کے ساتھ قائم رکھیں۔
قرآن مجید کی پابندی سے تلاوت نہ کی جائے اور قرآن مجید کو چھوڑ دیا جائے تو انسان اسے بھول جاتا ہے،
"قرآن مجید انسان اسی وقت بھولتا ہے جب قرآن مجید سے رو گردانی کرتے ہوئے کسی اور چیز میں مشغول ہو جائے،
علامہ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ کہتے ہیں افسوس کا مقام ہے کہ بعض طلبہ قرآن مجید یاد نہیں کرتے ہیں،
*(9) بچے اور مربیان کے مابین تعلق:
بچے کا اپنے والدین اور اساتذہ سے باہمی تعلق مضبوط ہو اور خوشگوار ہو۔بچہ اپنے بڑوں پر آنکھ بند کرکے یہ یقین رکھنے والا ہو کہ اس کی راہ میں مشکلیں اور حالات جتنے بھی نامساعد ہوں اس کے والدین ہر قدم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسی طرح اساتذہ سے بھی وہ یہی امید رکھتا ہو کہ اس کی زندگی میں والدین کے بعد اگر کوئی خیر اندیش،
خشیت استاد یا خشیت والدین اگر حفظ قرآن کا وسیلہ بن رہے ہوں تو یہ بڑی خطرناک بات ہے۔کیونکہ بچے کے دل میں خشیت صرف اس کتاب کے بنانے والے کی ہونی چاہیے نہ کہ پڑھانے والوں کی۔انسانوں کا ادب و احترام اپنی جگہ مسلم لیکن بے جا خوف اور پریشر یہ نفسیات پر بری طرح حاوی ہوجاتے ہیں اور انسان اور اس کی صلاحیتیں عمر بھر کے لیے ناکارہ ہوجاتی ہیں اس لیے ان سے گریز لازمی ہے۔
اور یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ غیر اللہ کا خوف ایمان کا سب سے بڑا دشمن ہے جسے خود نبی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھاکر سمجھایا: ("اے لڑکے یہ بات اچھی طرح جان لو!!!! اگر ساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچاناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا اور اگر ساری امت اکٹھی ہوکر تیرا کوئی نقصان کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے نوشتۂ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی")
تشدد اور خوف کے طریقہ کار سے بچہ جو کچھ بھی سیکھے گا وہ علم نتیجہ خیز اور دیرپا نہیں ہوگا۔آج مار پیٹ کے خوف سے وہ قرآن سیکھ تو لے گا لیکن اس کا کوئی قلبی تعلق اس مقدس کتاب سے نہ بن پائے گا اور یہ قرآن کریم کو سیکھنے،
مشاہدے کو ایسی بہت سی مثالیں ہمارے آس پاس بکھری پڑی ہیں،
خود پر کنٹرول کرنا سیکھیں،
*حفظان صحت
*(١٠) متوازن غذا:
قرآن سیکھنے والے بچّے کے لیے اس کی صحت کا غیر معمولی طور پر عمدہ ہونا بہت ضروری ہے۔ہم اگر بچے کے غذائی دائرہ کو درست کرلیں تو ان شاءاللہ ہمارے بچے کی تعلیم اور اس کے اخلاق درست ہوجائیں گے۔
ایک دور ہوا کرتا تھا جب ایک عام طالب علم کے ساتھ شرعی علوم سیکھنے والا طالب علم بھی علم ِبدن اور علمِ غذاء جیسے علوم پر دسترس رکھتا تھا۔وقت بدلا نصاب بدلا۔۔۔اب فقط یہ سارا کام مغرب نے اپنے ذمّہ لے رکھا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سلف نے اس پر بہت روشنی ڈالی ہے کہ حلال اور صاف ستھری غذا کا کیا معیار ہونا چاہیے۔کیونکہ اطباء اور مصلحین نے ماضی بعید میں روح کے بگاڑ کو جسم کے بگاڑ سے جوڑ کر دیکھا ہے۔پہلے انسان کو اس کی خوراک کو متوازن کرنے پر ابھارا ہے پھر ان کی روحانی کمزوریوں پر کام کیا ہے۔
بچے کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ اگر بچہ اچھی صحت کا مالک ہے تو لازما وہ مستقبل میں ایک اچھی کارکردگی کا مالک بن سکتا ہے۔جس کی خاطر اسے اچھی متوازن خوراک دی جانی چاہیے۔موسمی پھل،
ایسی غذاؤں کا انتخاب کیا جائے جو ذہانت اور حافظہ کو قوی بنانے والی ہوں۔پھلوں اور سبزیوں کے تازہ جوس کا استعمال کرنا چاہیے۔پیک شدہ پھلوں کے رس صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتے ہیں۔بچے کے ناشتہ کے لیے مقوی چیزوں کو بازاری اشیاء کا متبادل بنانا چاہیے۔
*(١١) ورزش:
بچّے کو یومیہ کسی ورزش کا عادی بنانا ایک بہت اچھا عمل ثابت ہوسکتا ہے۔اس سے بچے کے اعصاب،
بچے کو Stretch Break بھی دینی چاہیے۔دراصل دوران درس ایک میانہ درجہ کے طالب علم کی ذہنی یکسوئی 45 منٹ سے لے کر 60 منٹ تک ہوسکتی ہے۔اس کے بعد بچے کی یکسوئی ختم ہونے لگتی ہے یا کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اسٹریچ بریک سے مراد یہ کہ بچے کے پینتالیس سے ہچاس منٹ کی مسلسل پڑھائی کے بعد اسے ایک منٹ کا وقفہ دیں۔اسے دس قدم کی چہل قدمی کروائیں اور دوبارہ اس کی جگہ پر واپس بلالیں۔اس طرح ایک منٹ کی قربانی دے کر بچے کو پھر سے فریش کیا جاسکتا ہے۔
*(١٢) کھیل کود:
اس کے کھیل کے اوقات بھی لازمی طور پر مقرر کیے جائیں کیونکہ کھیل صرف صحت کا معاون ہی نہیں بلکہ یہ بچے کی نفسیات اور مضبوط اعصاب کا بھی معاون ہے۔بچے کے ذہنی تناؤ اور بے دلی جیسی کیفیات کو دور کرنے کا ایک آسان اور صحت مند ذریعہ ہے بلکہ بچے کو اس کے امتحانات کے دوران بھی کھیلنے کے لیے بھیجنا چاہیے۔
محترم والدین اور اساتذہ!!!!!!!
مانا کہ ڈگر دور،
...جنت یونہی تو حاصل نہیں ہوگی،
تو آئیے محترم والدین و اساتذہ!!!!!!!! ایک بڑے عزم و ارادہ کے ساتھ،





