جب اللہ نے آدم و حوا علیہما السلام کی تخلیق کی اور انہیں جنت میں ٹھہرایا،
{وَ قُلۡنَا یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنۡہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئۡتُمَا ۪ وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡن،
"اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم!تم اور تمہاری بیوی جنّت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ!تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور ایک وقتِ مقّرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے".
اور جب اللہ نے آدم اور حوا علیہما السلام کو جنت سے نکال کر مصائب و مشکلات اور ابتلاء و آزمائش کے "کان" میں ڈھکیلا تو ساتھ ہی ایک حسین تحفہ بھی دیا،
{قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا مِنۡہَا جَمِیۡعًا ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡن} (البقرة:38)
"ہم نے کہا: اترو یہاں سے سب! تو اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئےتو جو اس کی تابعداری کریں گے ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے".
اس آیت کریمہ میں اللہ نے عہد وپیمان کو پورا کرنے والوں اور ربانی ہدایت کا اتباع کرنے والوں سے خوف اور حزن و ملال کی نفی کردی ہے جو کہ در حقیقت ہر قسم کے شرور وفتن کی نفی ہے.
اسی طرح ھدایت کے متبعین کو ضلالت وگمراہی اور شقاوت وبدبختی سے محفوظ کردیا،
{قَالَ اہۡبِطَا مِنۡہَا جَمِیۡعًۢا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی ۬ ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشۡقٰی} (طه:123).
"فرمایا تم سب یہاں سے اترجاؤ،
اس آیت میں اللہ نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ آسمانی ھدایت کی تابعداری کرنے والے نہ تو دنیا میں گمراہ اور بدبخت ہونگے،
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے:
" تكفل الله لمن قرأ القرآن وعمل بما فيه أن لايضل في الدنيا،
"جس نے قرآن مجید پڑھا اور اس میں موجود احکامات پر عمل کیا،
قرآن وحدیث کے مطالعہ اور تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی گمراہی و بدبختی اور فساد وبگاڑ کا دارو مدار دو چیزوں پر ہے:
(1) شبہات
(2) شہوات
یعنی باطل شبہات کے پیچھے پڑجانا جو انسان کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی خبروں کی تصدیق سے روکدے اور شہوات کا اتباع کرنا جو انسان کو شرعی احکامات کی تابعداری سے منع کردے،
{فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا} (مریم:59)
"پھر ان کے بعد ایسے جانشین پیدا ہوئے جنہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا".
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند سرعام راستوں میں گناہوں کا ارتکاب کریں گے،
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" إني أخاف على أمتي اثنتين؛
)شیخ شعیب ارناؤط رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے)
مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا خوف ہے:
قرآن اور دودھ،
اللہ تعالیٰ نے بگاڑ وفساد اور بدبختی کے ان اسباب کو ایک ہی آیت میں دھمکی بھرے لہجے میں بیان کیا ہے،
{کَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡکُمۡ قُوَّۃً وَّ اَکۡثَرَ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ؕ فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِهِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِکُمۡ کَمَا اسۡتَمۡتَعَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ بِخَلَاقِهِمۡ وَ خُضۡتُمۡ کَالَّذِیۡ خَاضُوۡا ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ} (التوبة:69)
"ان لوگوں کی مانند جو تم سے پہلے تھے۔وہ تم سے زیادہ زور آور اور مال واولاد میں تم سے بڑھ چڑھ کر تھے،
اس آیت میں اللہ نے انسان کے بگاڑ کی اصل وجہ شہوات و شبہات کا اتباع بتلایا ہے،
اسی طرح اللہ نے سورہ مدثر میں جہنمیوں کی زبانی ان کی گمراہی کی اصل وجہ نقل کرتے ہوئے انہیں دو چیزوں کا ذکر کیا ہے،
{ لَمۡ نَکُ مِنَ الۡمُصَلِّیۡنَ وَ لَمۡ نَکُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡکِیۡن وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآئِضِیۡن وَ کُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوۡمِ الدِّیۡن}.(المدثر:43-46)
"ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے،
الغرض قرآن وسنت کے نصوص اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ شہوات اور باطل شبہات ہی در حقیقت گمراہی اور بگاڑ کی جڑ ہیں،
{إِذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هٰهُنَا قَاعِدُوْنَ}
اور یہی حال کفار مکہ ودیگر قوموں کا تھا،
اللہ تعالیٰ ہمیں قلب سلیم عطا فرمائے آمین





