خطاب: حافظ عبد الحسیب عمری مدنی
تلخیص: کاشف شکیل
عربی میں اطمینان،
ارشاد الہی ہے:
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (10:67یونس)
وه ایسا ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے،
(اسی معنی کی آیت سورہ قصص آیت نمبر 73 اور سورہ غافر آیت نمبر 61 میں ہے)
انسانی زندگی میں سکون کے لیے اس کے گھر کا پرسکون ہونا از حد ضروری ہے۔اور گھر کے ماحول کو پرسکون بنانے کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ گھر کے تمام افراد شرعی احکامات کی مکمل پابندی کریں۔میاں بیوی،
انسانی زندگی میں بیوی کا سکون غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (30:21 الروم)
(اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمھاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمھارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی،
لہذا اس سکون کی حفاظت بطور خاص ہونی چاہیے۔
مذکورہ آیت نے جہاں سکون کے حصول کو ازدواجی زندگی کے مقاصد میں شامل کیا ہے وہیں یہ بھی بتلایا ہے کہ ازدواجی سکون کی دو بنیادیں ہیں:
1- مودت
2- رحمت
ازدواجی زندگی میں یہ دونوں جذبے بے حد ضروری ہیں،
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
(أقل البيوت ما يبنى على الحب،
یعنی بہت کم گھرانے ایسے ہیں جن کی بنیادیں محبت پر قائم رہ جاتی ہیں،
در حقیقت گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کی ذمہ داری مرد و عورت دونوں کی ہے۔اور دونوں کے باہمی تعاون ہی سے اس کی بقا ہے مگر عنوان کی مناسبت سے چند خاص وہ باتیں ذکر کی جارہی ہیں جن کا تعلق خاتون خانہ سے ہے:
1- عورت کے مقصد وجود کے سلسلے میں قرآن کی یہ وضاحت ہے کہ ایک مقصد مرد کی تسکین بھی ہے (لتسكنوا إليها) عورت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور شوہر کے لیے سکون کا سامان فراہم کرے۔
2_ بالخصوص وظیفہ زوجیت مرد کے جسمانی اور ذہنی ہر طرح کے سکون کا ذریعہ ہے لہذا عورت اس ہدایت نبوی کو نہ بھولے کہ شوہر اگر طلب کرے تو تنور پر بھی کام پہ لگی ہو تو چھوڑ چھاڑ کر چلی آئے۔
3- بازار اور سماج سے لوٹنے والے مرد کی ہزار پریشانیوں کا ایک علاج عورت کی مسکراہٹ اور اس کی زبانی تسلی کے چند بول ہیں عورت اپنی اس غیر معمولی ذمہ داری کو سمجھے جیسا کہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ وسلم کو پہلی وحی کے نزول کے بعد تسلی دی تھی۔
4_ باہر سے لوٹنے والے شوہر کو فورا گھر کے مسائل سناکر پریشان نہ کرے۔پہلے اس کی تسلی اور اطمینان کا سامان مہیا کرے پھر گھر کی بات کرے۔جیسا کہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے شوہر ابو طلحہ کے ساتھ کیا،
6- اختلافات ایک فطری چیز ہیں۔جہاں تک ممکن ہو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ٹکراؤ سے بچیں اور اگر ٹکراؤ کی نوبت آبھی جائے تو ایسے موقعہ پر زیادہ جذباتیت اور انتہا پسندی کا مظاہرہ نہ کریں،
7- آپ کی سوچ کے مطابق آپ کامزاج اور آپ کے گھر کا ماحول ڈھلے گا،
8- شوہر بیوی ایک دوسرے کو تحفے دینے کی عادت ڈالیں،
9- شوہر بیوی ایک دوسرے کے حق میں تعریف اور خوبیوں کے تذکرہ اور اعتراف کی عادت ڈالیں.ض۔جھوٹی ہی سہی مگر ایک دوسرے کی وقتا فوقتا تعریف کرلیا کریں۔
10- یقینا اللہ کے ذکر سے دل سکون پاتے ہیں لہذا عبادت اور ذکر الہی کو اپنا معمول بنائیں ساتھ ہی میاں بیوی ایک دوسرے کو عبادت گزار بننے میں مدد دیں اور احکام اسلام کی پابندی کی تلقین کریں۔
11- اطمینان و سکون اور تعلقات کی بہتری کے لیے دعا کریں جیسا کہ قرآن میں ہے:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (25:74الفرقان)
اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا (25:74)





