احادیث وآثار کی چھان بین،
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلیٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَo
(الحجرات:۶)
’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو،
اسی طرح نبی ﷺ نے بھی ان لوگوں کیلئے شاداب زندگی اور باتنعم زیست کی دعا فرمائی ہے جو آپ ﷺ کے اقوال وافعال اور آپ کی تقریر ات کے حوالے سے صیانت وحفاظت کے کشت زاروں کو خون جگر سے سینچتے اورسیراب کرتے ہیں۔ارشاد ہے:
نضراللہ امرئًا سمع مناّ شیئاً فبلغہ کما سمع فرب مبلغ أوعی من سامع (۱)
اس بشارت نبوی کا اثریہ ہوا کہ وہ صحابۂ کرام جو نبی ﷺ کے ادنیٰ اشارے پر اپنا سب کچھ لٹانے کو تیاررہتے تھے انہوں نے اس کی شاندار عملی تطبیق پیش کی،
لم یکونوا یسئلون عن الإسناد،
’’شروع شروع میں لوگ اسناد کے بارے میں استفسار نہیں کیا کرتے تھے لیکن جب فتنۂ قتل عثمان رضی اللہ عنہ وقوع پذیر ہوا تو وہ حدیثیں لیتے وقت کہنے لگے: رجال حدیث کے اسماء کی نشان دہی کرو،
چنانچہ تحقیق وجستجو کی اسی جانکاہی اور انقطاع واتصال کی باریکیوں سے آگہی کے حوالے سے علم جرح وتعدیل کا چراغ نہایت دھیمی روشنی کے ساتھ ظاہر ہوا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ابتداء ً حدیث میں کذب ووضع اور مکرواختلاق کی قباحتیں نہ کے برابر تھیں لیکن شدہ شدہ اس علم نے ترقی کی راہیں طے کیں،
سردست یہاں ہم بعض دیگر کتابوں کا تذکرہ بھی موضوع سے خارج تصور نہیں کرتے:
معرفۃ علوم الحد یث: ابوعبداللہ محمد الحاکم النیسافوری (وفات: ۴۰۵ ھ)۔(۱)
المستخرج علی معرفۃ علوم الحدیث: أبونعیم أحمد بن عبداللہ الأصفہانی (وفات: ۴۳۰ھ)۔(۲)
الکفایۃ فی علم الروایۃ:ابوبکر أحمد بن علی الخطیب البغدادی (وفات: ۴۶۳ھ)۔(۳)
الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع:خطیب البغدادی۔(وفات: ۴۶۳ھ)
علوم الحدیث: ابوعمر و عثمان بن عبدالرحمن الشھرزوری (ابن الصلاح) (وفات: ۶۴۳ھ)۔(۴)
التقریب والتیسیر لمعرفۃ سنن البشیر النذیر: محی الدین یحیی بن شرف الدین النووی (وفات: ۶۷۶ھ)۔(۵)
نخبۃ الفکر فی مصطلح أھل الأثر:الحافظ ابن حجر العسقلانی (وفات:۸۵۲ھ)۔
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی:جلال الدین عبدالرحمن السیوطی(وفات: ۹۱۱ھ)۔(۶)
فتح المغیث فی شرح ألفیۃ الحدیث:محمد بن عبدالرحمن السخاوی (وفات:۹۰۲ھ)۔(۷)
قواعد التحدیث محمد جمال الدین القاسمی (وفات: ۱۳۳۲ھ)
٭ کتاب ’’تیسیرمصطلح الحدیث‘‘ ڈاکٹر محمود الطحان کی تصنیف ہے،
اب سے چند سال قبل جب علوم وفنون کے حصول کے طریقہ ہائے کار میں اس قدر ترقی نہ تھی تو فن مصطلح الحدیث میں امام ابن الصلاح کی ’’علوم الحدیث‘‘ اورامام نووی کی ’’التقریب‘‘ جو کہ ’’علوم الحدیث‘‘ کا اختصار ہے مدارس وجامعات میں داخل نصاب تھیں اورخود جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ میں داخل تھیں۔(۱)
اس صورت حال میں ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جس میں اس فن کے مباحث نہایت خوب صورتی کے ساتھ مختصراً جمع کردیے گئے ہوں،
الحاصل مذکورہ ضرورتوں کے پس منظر میں مؤلف کا یہ احساس کافی حد تک درست بھی تھا،
فاضل مؤلف کا یہ اعتراض بالکل بجا ہے کہ یہ کتاب متقدمین کی کتابوں سے بے نیاز نہیں کرسکتی،
۱۔تقسیم: یعنی ہر بحث کو مرقّم فقرات میںالگ الگ کردیا گیا ہے جس سے طالب علم کوسمجھنے میں کافی آسانی ہوگی۔
۲۔بحث میں ہمہ جہتی وہم آہنگی: عمومی ساخت کے اعتبار سے بحثوں میں ہمہ جہتی وہم آہنگی کی کوشش کی گئی ہے۔جیسے پہلے تعریف،
۳۔استیعاب: فن مصطلح کی تمام بحثوںکو مختصر ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے،
پہلا باب: حدیث اور اس کی مختلف تقسیمات
دوسراباب: جرح وتعدیل
تیسرا باب: روایت کے اصول وضوابط
چوتھا باب: اسناد اور معرفت رواۃ
خیال تھا کہ کتاب کا ایک چھوٹا سا مبحث بطور مثال ذکر کیا جاتا مگر بخوف طوالت ہم اسے قلم انداز کرتے ہیں امید کہ قارئینِ محترم اصل کتاب کی طرف رجوع کریںگے یااسے سامنے رکھیں گے۔
سابقہ سطورسے کتاب کی فنی معنویت اورعلمی کمال کا انداز لگانا کچھ مشکل نہیں مگر ان تمام اہمیتوں اور معنویتوں کے باوصف اہل علم نے کچھ استدراک کئے ہیں اوریہ کوئی نقص وعیب نہیں،
ومن ذاالذی ترضی سجایاہ کلھا
کفی المرئَ نبلاً أن تُعَدَّ معایبہ
’’کون ہے جس کے تمام امتیاز ات وکمالات بسروچشم قبول کئے جاتے ہیں،
اس کتاب کے حوالے سے ہمارے ذہن میں کچھ استدراکات تھے۔حسن اتفاق جامعہ اسلامیہ سنابل میں اس کتاب کی تدریس کی ذمہ داری ناچیز کے سپر د کی گئی،
٭’’أشھر المصنفات فی علم المصطلح ‘‘ کے باب میں فاضل مؤلف لکھتے ہیں:
’’نظم الدرر فی علم الأثر‘‘اس کتاب کی تصنیف زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی (وفات ۸۰۶ھ)نے کی ہے اور ’’ألفیہ عراقی‘‘ کے نام سے معروف ہے اس میں امام ابن الصلاح کی کتاب ’’علوم الحدیث‘‘کو نظم کے پیرائے میں پیش کی گیا ہے ساتھ میں کچھ اضافات بھی کئے ہیں۔‘‘
مذکورہ عبارت میں فاضل مؤلف نے واضح کیا کہ ’’نظم الدرر‘‘ ألفیہ عراقی کے نام سے معروف ہے یہ بات مؤلف نے اپنے ماسبق اہل علم کی اتباع میں لکھی ہے،
نظمتھا تبصرۃً للمبتدی
تذکرۃً للمنتھی والمُسنِد
امام حافظ سخاوی اس شعر کی تشریح میں لکھتے ہیں:اس شعرمیں ’’التبصرۃ والتذکرۃ‘‘سے اس ’’منظومہ ‘‘کے لقب کی طرف اشارہ ہے۔(فتح المغیث:۱/۹)
اسی طرح شیخ الانصاری بھی لکھتے ہیں:اس میں ’’التبصرۃ والتذکرۃ‘‘اس کے نام کی طرف اشارہ ہے اوراس کی وضاحت اس کی شرح کرتے وقت مقدمہ میںکی ہے۔
اور امام سیوطی نے اپنے ’’ألفیہ ‘‘کے شروع میں لکھا ہے:
وھذہ ألفیۃ تحکی الدرر
منظومۃ ضمنتھا علم الأثر
مزید لکھتے ہیں:
’’وبعد فإنی نظمت فی علم الحدیث ألفیۃ،
میں نے علم حدیث میں ’’الفیہ ‘‘کو نظم کیا ہے جسکا نام ’’نظم الدرر‘‘رکھا ہے۔(۱/۲۲۳،
اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ عراقی کے ألفیہ کا نام ’’التبصرۃ والتذکرۃ‘‘ ہے اور سیوطی کے ’’ألفیہ‘‘ کا نام ’’نظم الدرر فی علم الأثر‘‘ ہے۔واللہ أعلم۔
ایک دوسری جگہ فاضل مؤلف ’’مرسل‘‘کے سلسلے میں رقم طراز ہیں:
تعریفہ:(ب) اصطلاحاً: ھوما سقط من آخر إسنادہ مَن َبعدَ التابعی۔۔۔۔صورتہ أن یقول التابعی: سواء کان صغیراً أو کبیراً-قال رسول اللہ ﷺ کذا،
مثالہ: ما أخرجه مسلم فی صحیحه فی کتاب البیوع قال: حدثنی محمد بن رافع،
(صحیح مسلم:کتاب البیوع،
۔۔۔۔۔المرسل عند الفقھاء والاصولیین:
ماذکرته من صورۃ المرسل ھوالمرسل عند المحدثین،
مذکورہ عبارت میں مؤلف نے پہلے ’’مرسل حدیث ‘‘کی تعریف کی پھر صورت اورمثال بیان کی اورپھر فقہاء اور اصولیین کے یہاں اس کا فرق واضح کیا۔
غورطلب بات یہ ہے کہ مؤلف نے یہاں مرسل حدیث کی ’’مثال ‘‘کے لئے ’’صحیح مسلم ‘‘کا انتخاب کیا جبکہ صحیح مسلم کا نام ’’المسند الصحیح۔۔۔۔۔‘‘ہے اور مؤلف جانتے ہیں کہ ’’المسند‘‘ مرسل کے بالکل منافی ہے۔ایسے ہی مرسل صحیح کے منافی ہے اس طرح ’’مرسل ‘‘مسند وصحیح دونوں کے منافی ہے،
اب ہم یہ سمجھنے سے قاصرہیں کہ مؤلف کی یہ حرکت شعوری ہے یا غیر شعوری،
اب سوال یہ ہے کہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو جگہ کیوں دی؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ایک مسند ومتصل روایت کے ساتھ ایک ہی سیاق میں آئی ہوئی ہے،
حدثنی محمد بن رافع،
قال:وأخبرنی سالم بن عبدالله عن رسول اللہ أنه قال:لاتبتاعوا التمر حتی یبدو صلاحه،
امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔
شیخ رشید العطار لکھتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام مسلم نے مرسل کو اپنی صحیح میں جگہ دے کر انصاف نہیں کیا جبکہ یہ ان کی شرط کے بھی خلاف ہے؟تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ امام مسلم کی یہ عادت ہے کہ وہ حدیث جیسے سنتے ہیں بعینہٖ اسی طرح ذکر بھی کردیتے ہیں۔امام مسلم نے یہ حدیث محمد بن رافع کے طریق سے بالکل ایسے ہی سنی تھی لہٰذا اسی انداز سے ذکر بھی کر دیا جیسے سنا تھا۔
امام صاحب کا احتجاج ’’حدیث مرسل ‘‘سے نہیں بلکہ دوسرا ٹکڑاـ:
وقال سالم:أخبرنی عبداللہ عن زید بن ثابت عن رسول اللہ ﷺ أنہ رخص بعد ذالک فی بیع العریۃ۔۔۔۔۔الحدیث‘‘
آپ کا مستدل ہے،
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام مسلم نے کیوں نہیں مرسل حدیث کو حذف کرکے صرف ’’مسند ‘‘پر اکتفاء کیا،
یہ تو رہی گفتگو ’’حدیث مرسل‘‘ کی مثال کی بابت،
مؤلف موصوف رقم طراز ہیں:(عربی عبارت گزرچکی ہے)
’’مرسل حدیث کی جو شکل ہم نے بیان کی ہے اس کے قائل محدثین ہیں جبکہ فقہاء واصولیین کے نزدیک مرسل حدیث اس سے زیادہ عام ہے،
اس عبارت میں دو چیزوں پر کلام ہے۔
۱۔پہلے کا تعلق خطیب بغدادی کے مسلک سے ہے،
وأما المرسل:فھو ما انقطع إسنادہ بأن یکون فی رواته من لم یسمعه ممن فوقه،
’’مرسل حدیث:اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میںانقطاع پایا جاتاہے اس طور پر کہ حدیث کے رواۃ میںکوئی ایسا راوی ہو جس کا سماع اپنے سے اوپر راوی سے ثابت نہ ہو البتہ بحیثیت استعمال اکثر مرسل ہر اس حدیث کو کہا جاتاہے جسے تابعی نبی ﷺ سے روایت کرتاہے۔‘‘
یہاں قارئین نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ خطیب بغدادی نے دونوں معانی بیان کئے ہیں۔اورپہلے معنی (مارواہ التابعی عن النبی ﷺ )کی نسبت اکثر اہل علم کی طرف کی ہے،
۲۔مؤلف کتاب کی عبارت پر دوسرا کلام یہ ہے کہ محدثین علیہم الرحمہ نے مرسل حدیث کو پہلے معنی ’’مارواہ التابعی‘‘ کے ساتھ خاص نہیں کیا ہے البتہ محدثین مرسل پر اس معنی کا اطلاق بکثرت کرتے ہیں لیکن اسے اس معنی میں ’’مارواہ التابعی‘‘ کے ساتھ ہرگز خاص نہیں کرتے بلکہ فقہاء واصولیین کی طرح عموم اختیار کرتے ہوئے ہر اس حدیث کو مرسل قراردیتے ہیںجس میں کسی طرح کا کوئی بھی انقطاع پایا جائے اور’’کتب رجال وعلل ‘‘میں اس کی تصریح موجود ہے،
چنانچہ کتاب’’ المراسیل‘‘ جو عظیم محدث امام ابن ابی حاتم کی تصنیف ہے اس سلسلے میںدلیل ہے،
یحییٰ بن القطان،
گزشتہ سطور میں تیسیر مصطلح الحدیث کے حوالے سے چند معروضات پیش کئے گئے تھے جن کا بنیادی مقصد طلبۂ علم حدیث کو فائد ہ پہونچانا تھا اسی سلسلہ کی مزید توسیع کرتے ہوئے چند محل نگاہ اورقابل غور پہلو پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جارہی ہے۔
فاضل مؤلف صفحہ نمبر ۱۵ پر رقمطراز ہیں:
٭الحدیث:
(ب)اصطلاحاً:ماأضیف إلی النبی ﷺ من قول أو فعل أوتقریر أوصفة.
’’یعنی نبی ﷺ کی طرف منسوب کوئی بھی قول،
بلاایں وآں اس تعریف کی صحت بے غبار ہے مگر مؤلف کا صرف اس تعریف پر اکتفا کرنا اس بات کاوہم پیداکرتاہے کہ حدیث کی کوئی دوسری تعریف نہیں خصوصا یہ شبہ اس وقت حقیقت کے رنگ وپیرہن میں نظر آنے لگتاہے جب مؤلف اس کے معاً بعد ’’خبر ‘‘کی تعریف میں تین اقوال ذکر کرتے ہیں۔
حدیث کی تعریف میں بعض اہل علم نے کہا کہ ’’حدیث‘‘کی نسبت کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا بلکہ دوسروں (صحابہ وتابعین)کی طرف بھی مطلقاً نسبت کرنا درست ہے اس اعتبار سے وہ ’’خبر‘‘کے ہم معنی ومرادف قرار پائے گی،
امام سیوطی (وفات ۹۱۱ھ)نے اپنے ’’ألفیہ‘‘میں اسی حقیقت کی نشاندہی کی ہے:
۔۔۔۔والحدیث قیدوا
بما أضیف للنبی قولاً أو
فعلاً وتقریراً ونحوھا حکوا
وقیل: لایختص بالمرفوع
بل جاء للموقوف والمقطوع
فھو علی ھذا مرادف الخبر
وشھروا شمول ھذین الأثر
ان اشعار کا ماحصل یہ ہے کہ حدیث کی دو تعریفیں ہوئیں:
۱۔نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب قول،
۲۔حدیث کا لفظ ’’مرفوع (10)،
اس معنی کے اعتبار سے یہ ’’خبر‘‘ کے مترادف ہوگی اورحدیث اورخبر دونوں پر’’ اثر‘‘کا اطلاق کیا جاسکتاہے۔
قارئین نے ان اشعار میں ملاحظہ کیا ہوگا کہ امام سیوطی علیہ الرحمہ نے حدیث کی محض ایک تعریف پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اہل علم کے اختلافات کی طرف بھی لطیف اشارہ کردیا۔
بلکہ اس سے بھی آگے حدیث کا اطلاق نبی کریم ﷺ کے ساتھ دوسروں پر بھی کیاگیا ہے اس بات کی نسبت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’علماء فن‘‘کی طرف کی ہے،
’’الخبر عند علماء الفن مرادف للحدیث‘‘
یعنی خبر اور حدیث دونوں کااطلاق مرفوع،
بعض اہل علم نے کہا:حدیث وہ ہے جونبی ﷺ سے حاصل ہو اور خبروہ ہے جو دوسروں سے۔
بعض نے کہا:دونوں کے مابین عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے،
اب ذیل میں اہل علم کی وہ عبارتیں ذکر کی جاتی ہیں جن میں ’’حدیث ‘‘کا اطلاق نبی ﷺ کے ساتھ دوسروں پر بھی کیا گیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’أحفظ مائة ألف’’حدیث‘‘صحیح ومائتی ألف ’’حدیث‘‘غیر صحیح‘‘.
یعنی مجھے ایک لاکھ صحیح اوردولاکھ غیرصحیح حدیثیں یادہیں۔
امام ابن الصلاح اس ضمن میں فرماتے ہیں:’’محدثین کے نزدیک اس عبارت کے تحت آثار صحابہ اور اقوال تابعین بھی داخل ہوتے ہیں،
امام ابن جوزی رحمہ اللہ صید الخاطر (ص۴۱۳) میں لکھتے ہیں:
’’ومعلوم أنه لوجمع الصحیح والمحال الموضوع وکل منقول علی رسول اللہ ﷺ مابلغ خمسین ألفاً۔‘‘
’’یہ بات طے شدہ ہے کہ اگر صحیح،
اس پس منظر میں امام سیوطی علیہ الرحمہ کی کتاب’’الجامع الکبیر‘‘دیکھئے،
پس معلوم ہوا کہ امام بخاری نے جو ’’حدیث‘‘کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس میں مرفوعات،
’’صح من الحدیث سبع مائۃألف حدیث وکسر،
’’یعنی سات لاکھ سے زائد حدیثیں صحیح ہیں اور اس نوجوان-امام ابوزرعہ الرازی-کو چھ لاکھ حدیثیں یا دہیں۔‘‘
امام بیہقی فرماتے ہیں:
وإنما أراد-واللہ أعلم-ماصح من أحادیث رسول اللہ وأقاویل الصحابۃ وفتاوی من أخذعنھم من التابعین۔‘‘
یعنی امام احمد بن حنبل نے جو امام ابوزرعہ کے بارے میں فرمایا اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ،
ایک مرتبہ امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل کے نجل رشیدعبداللہ سے فرمایا:
’’أبوک یحفظ ألف ألف حدیث،
’’تمہارے والد رحمہ اللہ کو دس لاکھ حدیثیں یادتھیں،
امام ذہبی رحمہ اللہ سیراعلام النبلاء (۱۱؍۱۸۷) میں فرماتے ہیں:
’’فھذہ حکایۃ صحیحۃ فی سعۃ علم أبی عبداللہ وکانوا یعدون فی ذلک المکرر والأثر وفتوی التابعین ومافسر ونحوذلک وإلا فالمتون المرفوعۃ القویۃ لاتبلغ عشر معشار ذلك‘‘.
’’امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی وسعت علم کے حوالے سے یہ واقعہ بالکل درست ہے اہل علم اس میں حدیثوں کے مکررات،
بعض اہل علم کہتے ہیں:(تدریب الراوی۱؍۴۲)مرفوع کے علاوہ میں ’’حدیث ‘‘کا اطلاق تقیید کے بغیر درست نہیں،
(ملاحظہ ہو: اصلاح الاصطلاح ۲۰ تا ۲۴)
ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ حدیث کا کوئی ایک معنی یا ایک تعریف نہیں کی جاسکتی بلکہ اہل علم نے اس کے متعدد معانی بیان فرمائے ہیں،
٭فاضل مؤلف ’’منقطع ‘‘(13) کے باب میں رقمطراز ہیں:
۴۔مثالہ:
’’مارواہ عبدالرزاق عن الثوری عن أبی إسحاق عن زید بن یثیع عن حذیفۃ مرفوعاً: إن ولیتموھا أبا بکر فقوی أمین‘‘
فقد سقط من ھذا الإسناد رجل من وسط وھو’’شریک‘‘سقط من بین الثوری وأبی إسحاق،
فھذا الانقطاع لاینطبق علیہ اسم المرسل ولا المعلق ولا المعضل فھو منقطع‘‘.
ماسبق عبارت میں فاضل مؤلف نے حدیث منقطع کی مثال پیش کی ہے اور اس کے بعد حدیث کی سند میں پائے جانے والے انقطاع کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ثوری اورابواسحاق کے مابین ایک راوی ساقط ہے کیونکہ ثوری نے ابواسحاق سے بلا واسطہ یہ حدیث نہیں سنی۔
اب اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مؤلف نے اسی بحث کے آغاز میں ذکر کیا کہ ’’سقط‘‘کی دوقسمیں ہیں:
۱۔سقط ظاہر
۲۔سقط خفی
اورسقط ظاہر راوی اورشیخ کے مابین عدم ملاقات سے ہوتاہے اوریہ دوحال سے خالی نہیں یا تو راوی اپنے شیخ کا زمانہ نہ پائے یازمانہ تو پائے مگر دونوں کا اجتماع وملاقات نہ ہو۔پھر مؤلف نے اسی کے آگے لکھا کہ ’’سقط ظاہر‘‘کی ایک قسم ’’منقطع ‘‘بھی ہے۔
اس اعتبار سے مؤلف نے یہاں جو مثال ذکر کی ہے وہ ’’سقط ظاہر‘‘کی نہیں بلکہ یہ سقط خفی کی مثال ہے اس لئے کہ ثوری (سفیان ابن سعید)نے ابواسحاق سے نہ صرف ملاقات کی ہے بلکہ ان سے بہت کچھ سنا بھی ہے گوکہ یہ حدیث نہیں سنی ہے،
’’إن ھذا المثال إنما یصلح للحدیث المدلَّس،
’’یہ مثال حدیث مدلس کے لئے درست ہے کیونکہ اس حدیث کے تمام رواۃ کا لقاء وسماع دونوں اپنے شیوخ سے ثابت ہے اس میں انقطاع تدلیس کے قبیل سے آیا ہے۔‘‘
منقطع حدیث کے لئے ایسی مثال درست ہوگی جس میں کوئی ایسا راوی ہو جس کی ملاقات اس کے شیخ سے نہ ہوئی ہو جیسے مالک کا ابن عمر سے اورثوری کا ابراہیم نخعی سے روایت کرنا،
فاضل مؤلف ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’المرسل الخفی‘‘
۱۔تعریفہ:
(ب)اصطلاحاً:أن یروی عمن لقیہ أوعاصرہ مالم یسمع منہ بلفظ یحتمل السماع وغیرہ ک’’قال‘‘
’’راوی ایسے شیخ سے روایت کرے جس سے لقاء یا معاصرت ثابت ہو اورایسی حدیث روایت کرے جسے اس شیخ سے نہ سنا ہوایسے الفاظ کے ساتھ جس میں سماع کا احتمال ہو یااس کے مشابہ کوئی اورلفظ استعمال کرے جیسے’’قال‘‘۔
قارئین نے مؤلف کے قلم سے ’’مرسل خفی‘‘کی تعریف میں موجود ابہام کا اندازہ کرلیا ہوگا۔مؤلف نے ’’۔۔۔۔أوعاصرہ مالم یسمع منہ۔۔۔۔‘‘کی تعبیر استعمال کی۔اگر مؤلف حفظہ اللہ اس کے بجائے ’’۔۔۔۔أوعاصرہ وھولم یسمع منہ۔۔۔۔‘‘یعنی معاصرت ولقاء ثابت ہو مگر سماع ’’کلی طور پر‘‘ ثابت نہ ہو،
امام ابوالحسن القطان تدلیس الاسناد اور مرسل خفی کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تدلیس الاسناد اور مرسل خفی میں فرق یہ ہے کہ ارسال میں راوی کسی ایسے شخص سے روایت کرتا ہے جس سے اس کا سماع ثابت ہی نہیں ہوتا جبکہ تدلیس میں سماع ثابت ہوتا ہے یعنی مدلس اورمرسل (ارسال خفی) دونوں ہی اپنے شیوخ (14) سے غیر مسموع روایات بیان کرتے ہیں جبکہ الفاظ سننے کا تاثر دیتے ہیں،
اس بحث کے فورا بعد مؤلف مرسل خفی کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
۲۔مثالہ
مارواہ ابن ماجہ من طریق عمربن عبد العزیز عن عقبۃ بن عامر مرفوعاً:’’رحم اللہ حارس الحرس‘‘فإن عمر لم یلق عقبۃ کما قال المزی فی الأطراف۔
(ترجمۂ حدیث) ’’اللہ تعالی جہاد میں پہرہ دینے والے کی حفاظت فرمائے۔‘‘
اس حدیث کو امام سیوطی نے التدریب (۲؍۲۲۲) میں مرسل خفی کی مثال کے لئے ذکر کیا ہے۔مؤلف نے بھی انہیں کے اتباع میں یہ حدیث ذکر کی ہے اورخود امام عراقی نے شرح الفیہ (۲؍۳۰۷ )میں اسے مرسل خفی ہی کی مثال کے ضمن میں لکھا ہے حالانکہ یہ مثال دو وجہوں سے درست نہیں:
۱۔اس اسناد کی نسبت عمربن عبدالعزیز کی طرف کرنا درست نہیں کیونکہ ان سے صالح بن محمد بن زائد روایت کرتے ہیں اورصالح ضعیف اورمنکر الحدیث ہیں اوراس حدیث کی سند کا دارومدار وہی ہیں اورعمر بن عبدالعزیز نے اس حدیث کو بیان کیا یہ بات اصلا ً غیر ثابت ہوئی پس اس کو مرسل خفی کی مثال میں کیسے پیش کیا جاسکتاہے۔
ایک اوربات غور کرنے کی ہے وہ یہ کہ پوری کتب ستہ میں عمربن عبدالعزیز کی عقبہ سے کوئی روایت نہیں اور امام مزی نے بھی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث ذکر نہیں کی اور شاید اس کے علاوہ عمربن عبدالعزیز کی عقبہ سے کوئی اورروایت ہے بھی نہیں اگر یہ بات ثابت ہوگئی تو پھر ارسال خفی کی نسبت ان کی طرف کرنا عین غلطی تصورکی جائے گی اوراس بات کی تائید مزید اس سے بھی ہوتی ہے کہ صالح بن محمد کی اس حدیث میں اضطراب واقع ہوا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ایک مرتبہ اورروایت کیا ہے جس میں عمربن عبدالعزیز کی عقبہ سے سننے کی صراحت کی ہے اوریہ بالکل واضح غلطی ہے کیونکہ عمربن عبدالعزیز کی عقبہ سے معاصرت بھی ثابت نہیں۔
۲۔اگر اس حدیث کو عمربن عبدالعزیز کے طریق سے بالفرض صحیح تسلیم کرلیا جائے توبھی یہ منقطع کی مثال ہوگی مرسل خفی کی نہیں کیونکہ عمربن عبدالعزیز کی معاصرت اصلاً عقبہ بن عامر سے غیر ثابت ہے اورمرسل خفی معاصرت کے بغیر ہوبھی نہیں سکتی جیساکہ آں موصوف نے تعریف میں ذکر فرمایا۔
عد م معاصرت کی تفصیل یہ ہے کہ عقبہ بن عامر کی وفات ۵۸ھ میں ہوئی جیساکہ خلیفہ بن خیاط نے صراحت کی ہے بلکہ ایک قول کے مطابق اس سے پہلے ہوئی ہے اور عمربن عبدالعزیز کی ولادت ان کی وفات کے تین سال بعد ہوئی بعض اہل علم نے کہا ۶۱ھ میں اوربعض اہل علم نے کہا ۶۳ھ میںہوئی۔
پس یہ بات صاف ہوگئی کہ عمربن عبدالعزیز کی عقبہ بن عامر سے معاصرت ثابت نہیں لہذا اس حدیث پر مرسل خفی کا حکم لگانا درست نہیں۔(15)
الحاصل:یہ حدیث مرسل خفی کے لئے بالکل موزوں نہیں،
امام سیوطی رحمہ اللہ نے وہیں ایک اور مثال ذکر کی ہے جو مرسل خفی کی تعریف پر صادق آتی ہے فاضل مؤلف کوچاہئے تھا کہ اس مثال کو اپنی کتاب میں جگہ دیتے تاکہ اعتراض ونقد کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی۔(تفصیل ملاحظہ ہو الاصلاح ص ۲۳۰)
اللھم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ.
(آمین)
—-
(۱) (رواہ الترمذی فی کتاب العلم برقم (۲۶۵۷)امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے )
ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اورخوش وخرم رکھے جس نے مجھ سے کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں کے پاس بعینہ اسی طرح پہونچایا جس طرح سنا تھا۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس کو حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سامع سے زیادہ محفوظ کرنے والا(ذہین وفطین) ہوتاہے ‘‘۔اسی معنی کی ایک اور روایت ہے:
’’فربّ حامل فقہ إلی من ھو أفقہ منہ وربّ حامل فقہ لیس بفقیہ‘‘۔(ایضاً برقم۲۶۵۶)
(2) یہ کتاب عمدہ ہے مگر اسمیں بحثوں کی تہذیب نہیں اورنہ ہی مناسب فنی ترتیب قائم کی گئی ہے۔
(3) اس کتاب میں فن مصطلح کے وہ قواعد جو امام حاکم سے چھوٹ گئے تھے انہیں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس کے باوجود بعض چیزیں رہ گئی ہیں۔
(4) مؤلف نے اس فن کے مسائل کا جامع وشامل احاطہ کیا ہے بلاشبہ یہ کتاب ’’مصطلح الحدیث‘‘ کے اہم مصادر کے طور پر جانی جاتی ہے۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: تیسیر مصطلح الحدیث از ص۹ تا۱۶
(5) ’’مقدمہ ابن الصلاح‘‘ کے نام سے معروف ہے،
(6) یہ مقدمہ ابن الصلاح کا اختصار ہے۔بہترین کتاب ہے مگر عبارتیں اختصار کی وجہ سے کافی پیچیدہ ہوگئی ہیں۔
(7) یہ تقریب النواوی کی شرح ہے۔اس کی اہمیت ارباب ذوق پر مخفی نہیں۔
(8) یہ کتاب حافظ عراقی کی الفیۃ الحدیث کی شرح ہے اوراستاذ گرامی الشیخ علی حسین السلفی حفظہ اللہ کی تحقیق سے شائع ومتداول ہے۔
(9) بلاشبہ یہ کتابیں مدارس کے نصاب میں داخل ہونے کا کامل استحقاق رکھتی ہیں،
10۔مرفوع:نبی ﷺ کی طرف منسوب قول،
11۔موقوف:صحابی کی طرف منسوب قول،
12۔مقطوع:تابعی یا اس سے مابعد لوگوںکی طرف منسوب قول وفعل کو مقطوع کہتے ہیں۔(النخبۃ ص؍۴۵)
13۔منقطع: ایسی حدیث جس کی سند متصل نہ ہو،
14- یہاں ارسال خفی کے لئے لفظ ’’شیخ‘‘ استعمال کیا گیا،
15۔اس اعتبار سے امام مزی کا عمربن عبدالعزیز کے بارے میں یہ قول: ’’إنہ لم یلق عقبۃ بن عامر‘‘ بالکل درست ہے اوراس جملہ کا ترجمہ سیاق کی روشنی میں ’’لم یدرک عصرہ یعنی انہوںنے عقبہ کا زمانہ نہیں پایا‘‘سے کیا جائے گا،





