تقریبا پچیس دن سے کوئلے کی کان میں پھنسے ١٥ مزدوروں پر سرکار کی اس انداز کی بے توجہی قابل غور ہے۔
ادھر مزودر کوئلے کی کان میں پھنسے ہوئے تھے ادھر ہمارے پردھان سیوک برج کا ادھگھاٹن کر رہے تھے،
١٣ دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا لیکن تب سے آج تک وہ توجہ اور فکر ان غریب لاچار مزدوروں کے متعلق نظر نہیں آئی جو آنی چاہیے،
یہ حادثہ east gentia hill and west garo hill جو کہ ضلع میگھالیہ میں واقع ہے پیش آیا،
وہاں کوئلہ Rat Hole تکنیک کے ذریعہ نکالا جاتا ہے،
نتیجتا خمیازہ غریب مزدوروں کو بھگتنا پڑتا ہے،
مسلم سماج میں بھی صدقات و خیرات غرباء تک نہیں پہنچتے حالانکہ یہ انہی کا حق و حصہ تھا جس سے آج وہ کسی نہ کسی حد تک محروم کر دیے گئے،
اس Rat Hole تکنیک میں اوپر سے نیچے گہرائی میں مزدور کو ایک سامان لے جانے والی لفٹ سے لے جایا جاتا ہے اور ایک مقام پر پہنچ کر ہوریزنٹلی سوراخ ہوتا ہے چاروں طرف جس سوراخ میں صرف ایک ہی مزودر داخل ہو سکتا ہے،
یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید کوئی ہول پنکچر ہوگیا اور پانی اس کے ذریعہ اندر سوراخوں میں داخل ہو گیا،
١٣ دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا اور چار دن بعد وہاں کے وزیر اعلی نے بیان جاری کیا کہ بہت افسوس ناک حادثہ ہے۔
١٨ دسمبر کو زبردست بارش ہوئی جس کی وجہ سے پانی کی سطح اور زیادہ بڑھ گئی،
٢٠ دسمبر یعنی حادثے کے ایک ہفتے بعد ١٠٠ لوگوں کی ایک ٹیم ریسیکیو آپریشن کے لیے آئی۔جسونت گل سنگھ جو کہ کوئلے کی کان سے متعدد حادثے سے مزدوروں کو باہر نکالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جنھیں نیشنل ایوارڈ بھی اس پر مل چکا ہے،
٢٢ دسمبر کو درخواست بھیجی گئی کہ Coal India سے پانی کا بڑا پمپ بھیجا جائے۔
٢٤ کو جو ایک دکھاوے کا ریسیکیو آپریشن چل رہا تھا اسے بھی روک دیا گیا کیونکہ بھاری پمپ بھی کامیاب نہ ہو سکا،
اب تک مزدوروں کے رشتے دار اپنوں کی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔
٢٨ دسمبر کو انڈین ائیر فورس کا پلین heavy equipment کے ساتھ لینڈ کرتا ہے لیکن وہ بھی اس مقام تک وقت پر نہیں پہنچ پاتا۔
٣٠ دسمبر کو غوطہ خوروں کی ایک چھ رکنی ٹیم کو اس میں اتارا جاتا ہے لیکن وہ اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے جہاں وہ سوراخ تھے جس میں مزودر پھنسے ہوئے ہیں۔
٣ جنوری ٢٠١٩ کو سپریم کورٹ میں یہ معاملہ پہنچتا ہے اور یہ حکم صادر ہوتا ہے کہ جمعہ تک اس پورے مسئلے پر جواب چاہیے۔سپریم کورٹ نے بے اطمینانی ظاہر کرتے ہوئے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس ریسیکیو آپریشن سے مطمئن نہیں ہیں،
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پندرہ مزدوروں کا اس طرح کوئلے کی کان میں پھنس جانا اور اس پر حکومت کی بے توجہی،
حالانکہ جب کیدار ناتھ میں لوگ پھنسے تھے تو اس موقع پر حکومت نے کیا کیا تھا؟ کیا زبردست محنت اور کوشش کرکے لوگوں کو موت کے منہ سے نہیں نکالا گیا تھا؟ پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا تھا چاروں طرف ہاہاکار،
ان مزدوروں میں چند کے نام یہ ہیں: عمور علی،
ناموں کی فہرست سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ چونکہ یہ سب مسلمان تھے اس لیے اس پیمانے پر ان کو بچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
ہم مسلمانوں کو اپنے اوپر بھی تھوڑی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے ہم اپنے آپ کو پہچانیں کہ ہم کون ہیں اور اس وقت کہاں پر ہیں،





