بی جے پی کے ذریعہ مسلم خواتین کے حقوق کی خوب باتیں ہو رہی ہیں،
بل کے نقصانات مندرجہ ذیل ہیں:
١۔یک بارگی تین طلاق دینے والے شوہر کو تین سال کی قید،
حالانکہ اسلام نے شوہر بیوی کے طلاق کے مسائل بہت ہی واضح اور قابل قدر طریقے سے بیان کیے ہیں۔چونکہ ہمارے بہت سارے بھائیوں نے قرآن کے خلاف جاتے ہوئے حلالہ جیسی لعنت اپنے اوپر مسلط کر لی ہے اس لیے حکومت کو مسلمانوں کے مسئلہ طلاق میں مداخلت کا موقع مل گیا ہے۔
پھر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی اپنی بیویوں کو چھوڑنے پر کتنے دن کی سزا ہے؟ یا کوئی سزا ہے ہی نہیں؟
٢۔اس قانون کے حساب سے طلاق واقع نہیں ہوگی،
سماج میں طلاق شدہ خاتون کافی کمزور ہو جاتی ہے اس صورت میں ان کی مدد کے لیے حکومت کے پاس کون سے انتظامات ہیں؟ اس سوال پر حکومت خاموش ہے۔
٣۔ایک بیوی کہ جس نے اپنے شوہر کو یک بارگی تین طلاق کی وجہ سے جیل بھیجوایا تھا تو کیا وہ شوہر جیل کی سزا کاٹ کر واپس آئے گا تو وہ اس بیوی کو اپنی زوجیت میں رکھے گا؟ جس بیوی کی وجہ سے کسی کی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزرے گی وہ دوبارہ اس عورت کو قبول نہیں کر سکتا،
اس صورت میں حکومت کیا رول ادا کرے گی؟ آخر اس عورت کے ساتھ انصاف ہوگا کہ ظلم؟ مزید وہ بے سہارا ہوکر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گی کہ نہیں؟ جب حکومت کہتی ہے کہ طلاق واقع ہی نہیں تو پھر سزا کس بات کی؟
ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومت کا یہ قانون بری طرح سے فیل ہو چکا ہے،
حیرانی کی بات یہ ہے کہ مسلم خواتین کے لیے قانون بنایا گیا پر کسی بھی مسلم تنظیم یا ادارے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا بلکہ حد تو یہ کہ "مہیلا اور بال وکاس کلیان" جو کہ حکومت کے تحت چلتا ہے ان تک سے مسلم خواتین کے متعلق اتنا بڑا قانون پاس کرنے کے لیے کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ سرکار خواتین کے لیے کتنی فکرمند ہے اور خصوصاً مسلم خواتین کے لیے۔
پردھان سیوک اور ان کی پارٹی کو مسلم خواتین کے متعلق بہت چنتا ہے کہ وہ بے سہارا ہو جاتی ہیں،
آئیے ذرا غور کرتے ہیں اور ٢٠١١ کے سنسز کا مطالعہ کرتے ہیں کہ اس وقت ہندوستان میں کتنی خواتین اپنے مردوں سے الگ رہتی تھیں یا انھیں الگ ہونے پر مجبور کیا گیا تھا،
٢٠١١ کے سنسز کے حساب سے دیکھا جائے تو تقریبا ٢٣ لاکھ خواتین ہیں جو کہ اپنے شوہروں سے الگ کر دی گئیں،
ان ٢٣ لاکھ میں ٢٠ لاکھ ہندو خواتین ہیں،
پہلے اپنے گھر کی خبر لو مودی جی اس کے بعد ہماری طرف توجہ دینا ویسے ہمارا اسلام تمام خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت سنجیدہ ہے۔یاد رکھیں! مسلم سماج آپ جیسے لوگوں کو پہچان چکا ہے،





