"میرا ایمان اتنا کمزور نہیں کہ کسی کو ہیپی کرسمس یا ہیپی دیوالی کہنے سے اس پر کوئی اثر پڑے"۔
اپنے ایمان کے متعلق بعض اوور کنفیڈنس حضرات سے بسا اوقات ایسے جملے سننے کو مل جاتے ہیں۔چنانچہ وہ بعض معصیات کا علی الاعلان ارتکاب کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ایمان وکفر کا تعلق دل سے ہے،
ایسے حضرات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بغور پڑھنی چاہیے:
عن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ،
(ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ رضائے الہی کا کوئی ایسا کلمہ کہتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت بھی نہیں دیتا،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ "لایلقی لہا بالا" کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"أي لا يتأملها بخاطره ولا يتفكر في عاقبتها ولا يظن أنها تؤثر شيئا وهو من نحو قوله تعالى وتحسبونه هينا وهو عند الله عظيم"۔(فتح الباري لابن حجر 11/ 311)
(یعنی اس کی خطورت وعاقبت کے بارے میں غور وفکر نہیں کرتا،
کرسمس کی بدھائی سے کسی کے ایمان پر کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں یہ کسی کے مزاج پر موقوف نہیں ہے۔کون سے اقوال یا اعمال ایمان کو ختم کرنے والے یا کم کرنے والے ہیں اس کا فیصلہ کتاب وسنت اور فہم سلف سے ہوگا نہ کہ کسی کے ذوق اور مزاج سے۔
کرسمس کی بدھائی کی حرمت پر نصوص شریعت اور سلف صالحین کا موقف صریح اور واضح ہے۔"لا یضر مع الایمان ذنب" یہ ایک باطل فرقے کا نظریہ ہے۔ہمارا نہیں۔
یہ کہنا کہ "میرا ایمان اتنا کمزور نہیں کہ کسی کو ہیپی کرسمس یا ہیپی دیوالی کہنے سے اس پر کوئی اثر پڑے" ایک بہت بڑی جرأت ہے۔اسی طرح جب کہا جاتا ہے کہ بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی تو بعض حضرات کہتے ہیں کہ "میری تو ہو جاتی ہے"۔کہتے ہیں: آپ اپنے ایمان وعبادت کا سوچیں،
تاریخ میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو انبیاء کرام کو اسی طرح چیلنج کرتے تھے اور کہتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنْ كانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنا حِجارَةً مِنَ السَّماءِ أَوِ ائْتِنا بِعَذابٍ أَلِيمٍ [الْأَنْفَالِ: 32]
ان کا انجام کیا ہوا یہ ہم پر مخفی نہیں ہے۔
ضروری نہیں کہ اللہ تعالی ہمیشہ دنیا میں ہی کسی عذاب سے ہمیں دوچار کردیں،
سیرت رسول سے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه أن رجلا أكل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بشماله،
(سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا،
ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
«أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ» ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ: بخاری (691) مسلم (427)
ایک محدث کے متعلق مروی ہے کہ ان کا چہرہ گدھے کی طرح ہو گیا تھا،
"احْذَرْ يَا بُنَيَّ أَنْ تَسْبِقَ الْإِمَامَ،
(میرے بیٹے امام پر سبقت کرنے سے ڈرو،
کرسمس کی بدھائی دینے والے اللہ تعالی کے اس فرمان کو نہ بھولیں:
وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَداً (88) لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئاً إِدًّا (89) تَكادُ السَّماواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبالُ هَدًّا (90) أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمنِ وَلَداً (91) وَما يَنْبَغِي لِلرَّحْمنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَداً (92)
کرسمس منانے والے اللہ تعالی پر عظیم بہتان باندھتے ہیں کہ اس کا بیٹا ہے،
نیت کے پاک صاف ہونے سے معصیت کا حکم نہیں بدل جاتا۔ورنہ زنا کرنے والا بھی "تکثیر نسل" کی اچھی نیت کا حوالہ دے سکتا ہے۔
بہت سارے لوگ داڑھی کاٹتے ہیں اور تنبیہ کرنے والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ایمان کا تعلق دل سے ہے،
"إن في الجسد مضغة"،
(آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا)
"إذا صلحت"
(پھر سینے کی طرف اشارہ کیا)
"صلح الجسد كله"
(دونوں ہاتھوں سے داڑھیوں کی لمبائی کو دکھایا)
"وإذا فسدت"
(پھر سینے کی طرف اشارہ کیا)
"فسد الجسد كله"
(دونوں ہاتھوں سے داڑھیوں کی صفائی کی منظر کشی کی،
"ألا وهي القلب۔"





