سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں سے ہر انسان اپنی بات دنیا کے سامنے بڑی آسانی سے رکھ سکتا ہے۔سوشل نیٹ ورکنگ کی وجہ سے دنیا نے ایک گاؤں کی شکل اختیار کر لی ہے جب چاہیں ایک دوسرے سے رابطے استوار کیے جا سکتے ہیں۔اس میڈیائی دور میں ایک شخص اپنے احساسات،
مندرجہ ذیل سوشل سائٹس ایسی ہیں کہ جن سے زیادہ تر لوگ جڑے رہتے ہیں:
1.فیس بک (Facebook)
٢.واٹس ایپ (Watsapp)
٣. یوٹیوب (Youtube)
٤. انسٹیگرام ( Instagram )
٥. ٹویٹر ( Twitter)
یہ وہ سائٹس ہیں کہ جن سے ہر عام و خاص جڑا ہوا ہے،
اس کے فوائد تو بے شمار ہیں لیکن نقصانات کیا ہیں؟ اس پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔
عموما نئی نسل ان نقصانات کی عادی ہو چکی ہے،
نوجوان Depression یعنی ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے،
ان کے اس قدر استعمال سے ہم کو حاصل ہوتی ہیں مندرجہ ذیل چیزیں:
١_ وقت کا ضیاع:
سوشل میڈیا کے بڑے نقصانات میں سے ایک وقت کا ضیاع ہے،
اگر ہم قرآن کا مطالعہ کریں تو پائیں گے کہ ہمارے خالق و مالک نے وقت کے متعلق کیا فرمایا ہے۔
سورہ فاطر آیت نمبر ٣٧
(و ھم یصطرخون فیھا ربنا أخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل،
ترجمہ: "اور وہ لوگ اس (جہنم) میں چلائیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے،
اللہ تعالی نے ان آیات میں اہل جہنم کا تذکرہ فرمایا کہ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو دوبارہ موقع دے دے،
وقت کی اہمیت کو ہم اہل جہنم کی اس حسرت سے محسوس کر سکتے ہیں کہ
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
پیارے نبی نے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کچھ اس انداز سے ارشاد فرمایا کہ:
"حسن اسلام المرء ترکه ما لا یعنیه" (رواہ الترمذی)
ترجمہ: انسان کا بہترین اسلام یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے مقصد تک اسے نہ پہنچاتی ہوں۔
شیخ عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جو اس حدیث کا لحاظ کر لے وہ کامیاب ہو جائے گا"۔
اس حدیث کی رو سے ایک سوال ہم سوشل میڈیائی لوگوں کے لیے یہ ہے کہ گھنٹوں گھنٹوں بھر ہم فیس بک،
محترم قارئین! اگر ہم اس بات کو محسوس کرتے ہیں تو پیارے نبی کی بات مانتے ہوئے اسے ہم کو چھوڑ دینا چاہیے۔
٢_ عبادات میں خلل:
سوشل میڈیا کی وجہ سے آج کا نوجوان رب کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے،
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
"قد أفلح المؤمنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون"
ترجمہ: "کامیاب ہوگئے وہ مؤمنین کہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں"۔
ہم غور کریں کہ کیا ہم اپنی نمازوں میں خشوع کا خیال کر پاتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے عبادات میں خلل پیدا ہوتے ہیں جو کہ رب کی منشا و مرضی اور شریعت کی مخالفت پر واضح دلیل ہے۔پیارے نبی کی اس پیاری نصیحت کو ہم ذہن نشین کرلیں کہ:
"و علیك بذکر الله و تلاوت القرآن،
ترجمہ: " اپنے اوپر اللہ کے ذکر کو لازم پکڑو،
پیارے نبی نے ہم کو ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن پر توجہ دلائی ہے جو کہ ہم سے سوشل نیٹ ورکنگ پر مشغول ہونے کی وجہ سے فوت ہو رہی ہیں۔
٣_ نفع بخش علم سے محرومی:
جب ہم سوشل میڈیا پر آتے ہیں تو نفع بخش علم سے دوری ہونے لگتی ہے،
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص علم چاہتا ہے،
حسن بن عیسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے بارے میں سنا "ان سے لوگوں نے پوچھا: کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ اپنے گھر میں زیادہ تر اکیلے ہی کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ نہیں میں اکیلا تو نہیں رہتا بلکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ رہتا ہوں"۔
پتہ یہ چلا کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا باہر کم نکلنا اس وجہ سے تھا کہ آپ ان اوقات میں احادیث کا مطالعہ کرتے تھے،
اس واقعے سے اندازہ کریں کہ وہ ہمارے اسلاف تھے اور آج ہم ہیں کہ شاعر ہم سے کہتا ہے:
تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ:
" اے اللہ میں تیرے پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جس کا کوئی فائدہ نہیں"
٤_ عائلی زندگی میں تباہی:
سوشل میڈیا میں اس قدر ہم مشغول ہو جاتے ہیں کہ ہمارے گھریلو تعلقات تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں،
محترم قارئین! حدیث رسول کا مطالعہ کرتے چلیں:
أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہوگا۔امام نگراں ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہوگا۔انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔
کہتے ہیں کہ ایک ایک کیبی(KB) اور ایم بی (MB) جو ہم انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کے متعلق بھی پوچھا جائے گا،
٥_ اجنبی مرد و زن کا اختلاط:
اس کی وجہ سے نوجوان نسل بڑی آسانی سے اجنبی مرد و عورت کے قریب ہو جاتی ہے۔پہلے کے زمانے میں ذرا مشکل تھا لیکن اب تو بستر پر لیٹے لیٹے ہی تعلقات بن جاتے ہیں اور نہ جانے کس حد تک پہنچ جاتے ہیں،
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
" یا ایھا النبی قل لازواجك و بناتك و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذلك ادنی أن یعرفن فلا یؤذین"۔
ترجمہ: اے نبی آپ پنی بیویوں سے اور اپنی بچیوں سے اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادر اپنے اوپر ڈال کر رکھیں،
آج جس انداز سے نئی نسل سوشل میڈیائی بنی ہوئی پردے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے یاد رہے یہ رب العالمین کے کلام کی خلاف ورزی اور کھلا مذاق ہے جس کا اثر ہماری ملی و ذاتی زندگی پر عیاں ہوتا جا رہا ہے۔
٦_ ریاکاری:
اس میڈیائی دور میں ریاکاری کے خطرات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں،
اللہ نے ارشاد فرمایا:
"فمن کان یرجو لقاء ربه فلیعمل عملا صالحا و لا یشرك بعبادۃ ربه أحدا " الکھف_ ١١٠
ترجمہ: پس جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹہرائے۔
عمل صالح اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ لوگوں کے داد و تحسین سے نہیں بلکہ رب کی رضا سے کامیابی ملے گی جو کہ اخلاص کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
اس طرح پیارے نبی کا بھی ارشاد گرامی ہے:
عَنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ،
ترجمہ: حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جو شخص کوئی عمل سنانے اور شہرت دینے کے لیے کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو شہرت دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لیے کوئی نیک عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب دکھائے گا۔( صحیح بخاری و صحیح مسلم )
اس حدیث سے ہم کو سبق ملا کہ ہم اپنے اپنے اعمال کی اخلاص و للہیت کے ذریعہ حفاظت کر لیں ورنہ میدان محشر میں کچھ ہاتھ آنے والا نہیں،
٧_ بلا تحقیق چیزوں کی تشہیر:
یہ چلن بہت ہی زیادہ عام ہے جیسے ہی کہیں سے دستیاب ہوا اسے فورا پڑھے بغیر فاروڈ کرنا شروع کردیا،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سورۃ حجرات: آیت ٦
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ "
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔
یہ آیت کریمہ ہر آنے والے پیغام کو جو غلط طرق سے آئیں ان کی تحقیق کرنے پر ہم مسلمانوں کو ابھارتی ہے۔
٨_ ملی و قومی مسائل پر نااہلوں کا بولنا:
میڈیائی دور میں ہر ایرا غیرا ملی و قومی مسائل پر لب کشائی کرتا ہوا یا لکھتا ہوا نظر آتا ہے حالانکہ وہ اس بات کا اہل ہی نہیں،
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا تھا:
" ایک زمانہ آئے گا جس میں جھوٹوں کو سچا مانا جائے گا اور سچوں کو جھوٹا،
محترم قارئین اس میڈیائی فتنے کے دور میں بہت ہی سنبھل کر اور بچ بچا کر چلنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور میڈیائی فتنے سے محفوظ رکھے۔آمین





