انسان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے اس کو لفظ کہتے ہیں۔لفظ کی دو قسمیں ہیں:
1- مہمل: جس کا کوئی معنی نہ ہو
2- موضوع: جو معنی رکھتا ہو
انسان کے ذہن میں ایک معنی ہوتا ہے جس کو مخاطب تک پہنچانے کے لیے وہ کچھ الفاظ کا سہارا لیتا ہے،
"تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی"
ایسی صورت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ بات کا بتنگڑ نہ بنائیں،
اسلام میں جذبات (Emotions)،
بخاری کی پہلی حدیث:
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،
(یعنی عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے) اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
علماء نے اس حدیث کو دین کی اساس قرار دیا ہے،
قربانی کے سلسلے میں اللہ نے کہا:
’’ لن ینال اللہ لحومھا ولادماءھا ولکن ینالہ التقوی منکم‘‘
یعنی اللہ کو تمھاری قربانیوں کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ تمھارے دل کی کیفیت (تقوی) پہنچتی ہے۔
مذکورہ بالا نصوص جہاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام میں معانی کو مبانی پر فوقیت حاصل ہے وہیں وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ اسلام میں اصل مطلوب یہی دلی کیفیت ہے۔ایمان سراسر اسی دلی کیفیت کا نام ہے،
’’اللھم أنت عبدی وأنا ربک‘‘ (صحیح مسلم:2747)
یعنی اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پالنہار ہوں۔خوشی کے عالم میں اس نے جملے کو الٹ دیا ہے یعنی اللہ کو بندہ اور خود کو رب کہا ہے مگر اللہ اس سے ناراض نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ محض میرے بندے کے الفاظ ہیں،
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے؟
جس کی نگاہ گوہر پر ہوتی ہے وہ کبھی صدف کی بناوٹ اور اس کے نقش وعکس کے پیچھے خود کو ہلکان نہیں کرتا ہے۔





