اللہ تعالی اپنی عبادت کرنے والوں کے اوصاف گِناتے ہوئے فرماتا ہے:
وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا (سورہ فرقان:73)
اور جب انھیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وه اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے۔
اس آیت کو دیکھیے،
پچھلے پیراگراف میں ہم نے جو "بغیر سوچے سمجھے" کے الفاظ پر اکتفا کیا ہے،
اور ہماری اکثریت بغیر سوچےسمجھے "اندھی بہری ہو کر" سجدے میں چلی جاتی ہے۔
تعبیر کی سختی کے لیے معذرت! لیکن یہی حقیقت ہے۔ہم جس طرح سجدے میں جاتے ہیں اس کے لیے ایک نرم،
مختصر سی بات ہے: ہمارا خالق نہیں چاہتا کہ ہم اس کی آیتوں پر اندھے بہروں کی طرح گریں۔بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی آیتوں پر سوچ سمجھ کر،
اور یہ کب ممکن ہوگا؟؟
جب ہم عربی سمجھ سکیں گے۔
اے امتِ مسلمہ!
عربی سمجھ لینے کے بہت سے فائدے ہیں۔ایک تو یہی کہ اللہ کی آیتوں پر اندھوں بہروں کی طرح گرنے کی بجائے ہم غور و فکر کرتے ہوئے سر،
یاد رکھیے! جب ہم بغیر سمجھے قرآنی آیات پڑھتے ہیں تو وہ ہم پر ویسا اثر نہیں کرتیں جیسا مقصود ہے۔آپ تجربہ کر لیجیے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا
بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں (سورہ انفال 2)
پھر سے غور کیجیے۔کیا اللہ کا ذکر ہمارے دلوں کو خوف دلاتا ہے؟ کیا اللہ کی آیتوں کی تلاوت ہمارے ایمان کو بڑھاتی ہے؟؟
اگر جواب ہاں ہے تو الحمد للہ۔لیکن اگر جواب نہ ہے تو فورا اللہ کی طرف پلٹو اور اس جواب کو بدلنے کی حقیقی کوشش کرو۔کیونکہ اللہ کی آیتیں جن کا ایمان نہیں بڑھاتیں وہ ممدوح نہیں،
وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿١٢٤﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ ﴿١٢٥﴾
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیاده کیا ہے،
اے اردو پر فخر کرنے والے مسلمانو!
خیرالقرون کے اسلاف کو یاد کرو۔جب وہ تبلیغ کی غرض سے عرب سے نکل کر افریقہ پہنچے تو انھوں نے اسلام کو عربی سمیت پیش کیا۔اور یہ ان کی محنتوں اور دور اندیشی ہی کا ثمرہ ہے کہ شمالی اور شمال مشرقی افریقی ممالک،
تو اے آخرت کی فکر کرنے والو!
کم از کم قرآن سمجھنے کی حد تک عربی ضرور سیکھو۔مسجدوں اور مراکز کے ذمہ داروں سے درخواست کرو،





