آخر اسرائیل میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ ایک ایک کرکے سب اسرائیل کے پہلو میں جائے امان تلاش کر رہے ہیں! کل مصر اور اردن نے گلے لگایا تھا تو آج عمان نے لبیک کہا ہے آگے دیکھتے جایئے کون کون بیعت کرتا ہے بس پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!!!
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد!! سچ ہی تو ہے جو ملک دوسروں کی زمینیں ہڑپ کر،
عمان کے حاکم اعلی سلطان قابوس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو کو مسقط آنے کا نیوتہ بھیجا ہی تھا کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات سارہ کو رفیقہ سفر بنا کر موساد انٹیلیجینس ایجنسی کے ڈائریکٹر یوسی کوھین،
1994 میں اسحق رابین اور 1996 میں شیمون پیریز نے بھی عمان کا دورہ کیا تھا تب عمان نے آخر الذکر شیمون بیریز کو امن کا پیغامبر کہہ کر بڑی آو بھگت کی تھی اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات استوار کرنے کی غرض سے کچھ تجارتی لین دین کے لئے آفسیں بھی کھولی گئیں لیکن برا ہو اکیسویں صدی کے آغاز میں فلسطینی انتفاضہ کا جس نے تمام خواب چکنا چور کر ڈالا اور اس نئے نئے رشتہ و پیوند کا بخیہ ادھیڑ کر نقطۂ صفر پہ لا کھڑا کردیا۔اب نتنیاہو کی زیارت سے دوبارہ امید جاگی ہے خدا کرے یہ مہک جوان رہے اور یہ بدنما گلاب جاگتے رہیں۔
عربوں کے قلب میں پہونچ کر نتنیاہو نے جو کامیابی حاصل کی ہے اسے تا دیر پردۂ اغماض میں رکھنا نہ اسرائیل کے بس میں تھا اور نہ ہی عمان کے۔چنانچہ نتنیاہو نے خود اپنے ٹویٹر پر منہ بولتی تصویروں کے ساتھ اس راز کو افشا کر کے سارے عالم کے سامنے اپنے خفیہ دورے کے راز سر بستہ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔اس کے بعد عمانی ذرائع ابلاغ کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہا کہ وہ بھی پوری تندہی سے اعلان کریں اور آگے بڑھ کر دنیا کو بتادیں کہ اسرائیل سے دوستی کرنے میں پہل انہوں نے ہی کی ہے اور یہ خفیہ ہنگامی دورہ انہیں کے احسان کا مرہون منت ہے۔مزے کی بات یہ رہی کہ فلسطینی کیرٹیکر یعنی فلسطین کے نگراں صدر محمود عباس صرف ایک روز پہلے ہی تین دنوں کی پکنک منا کر مسقط سے لوٹے ہی تھے کہ ان کی روانگی کے فورا بعد نتنیاہو وارد ہوگئے۔
حیرت کی بات ہے جس وقت نتنیاہو مسقط میں ضعیف العمر سلطان قابوس کے ساتھ عربی ضیافت کا لطف اٹھا رہے تھے ٹھیک اسی وقت بحرین میں کچھ ہائی پروفائل یوروپین و دیگر ممالک (امریکا،
سعودی عرب جو خطے میں ہر اعتبار سے شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے اس کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے امریکی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ٹرمپ کی سرکار بڑی دوراندیش اور حکیمانہ اصولوں پر قائم ہے،
عمانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی بن عبداللہ نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی اور تمام عرب وغیر عرب عمائدین کے سامنے برملا اعلان کیا کہ اس خطے میں اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔سلطان قابوس فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین گرچہ ثالث نہیں ہیں تاہم دونوں کے درمیان مفاہمت پر معاون ضرور ثابت ہوسکتے ہیں۔
یوسف بن علوی نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا اسرائیل خطے میں ایک ریاست ہے جس کا ادراک ہم سب کو ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے پوری دنیا واقف ہے اور شاید اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اسرائیل کے ساتھ وہی برتاؤ کریں جو دوسرے ممالک کر رہے ہیں اور ہمیں چاہئیے کہ اس ضمن میں ہم اپنی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔
یوسف بن علوی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ یہ ڈگر بہت کٹھن ہے،
بحرینی اور سعودی وزراء خارجہ نے بلا واسطہ عمانی کوششوں کی خوب ستائش کی اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے امن مذاکرات کو انجام تک پہونچانا امر لازمی ہے-
عمان اس دور کا سامری طلسم ہے بس ذرا ماضی کی طرف مڑ کے دیکھئے یہ ملک کیسے کیسے پینترے بدلتا ہے!! ہمیں یاد ہے 2013 میں امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات میں عمان نے ہی مدد کی تھی جس کے دو سال بعد جنیوا میں تاریخی ایٹمی معاہدے پر دستخط کیا گیا.
اسرائیلی کھیل اور ثقافت کی وزیر میری ریگیو نے اتوار 28 اکتوبر 2018 کو ابوظبی کی پر شکوہ شیخ زاید مسجد کا دورہ کیا اور وہاں پر موجود تاثرات کے رجسٹر میں عبرانی زبان میں اپنا ریمارک بھی لکھا،
اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا کر عمان نے تو اپنا پارٹ ادا کردیا اور اپنے ہمسایوں کو بھری محفل میں بتا بھی دیا کہ اب اسرائیل کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں،
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد؟
يہود کی مخالفت کے سلسلے میں واضح تعلیمات نبوی کے علاوہ قرآن میں جا بجا صریح نصوص وارد ہیں بر سبیل تذکرہ یہ آیات ہیں:
(وَدُّواْ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُواْ فَتَكُونُونَ سَوَاء)
دوسری آیت ہے:
(اِن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاء وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُم بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ)
ایک آیت یہ بھی ہے:
(وَلاَ يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّىَ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُواْ)
اور ایک یہ بھی ہے:
(يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوَاْ إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَاسِرِينَ)
ان تمام آیتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ یہود روز اوّل سے مسلمانوں کے ساتھ نفرت کرتے ہیں۔مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا کہ کبھی بھی ان کے دام فریب میں نہ آنا اور نہ ہی ان کی اطاعت قبول کرنا یہ لوگ ہمیشہ مسلمانوں کو راہ راست سے بھٹکا کر گمراہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
امت مسلمہ کا حالیہ مسلسل سکوت دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا اب یہ آیات نا قابل عمل ہوچکی ہیں؟ ان آیتوں کا آفاقی پیغام کیا اب نا قابل تطبیق ہوگیا ہے؟ یا پھر یوں کہہ لیں کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ان کے معانی و مفاہیم کو اپنی ضرورت کے موافق بدل ڈالیں؟
مصر،
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں











