ہو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ پر انحصار کی بات کو دو ٹوک مسترد کیا
ملٹی ٹاسک امیریکن کمپنی "بلومبرگ” کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایسا جواب دیا ہے کہ ٹرمپ اور اس کے پرستار ٹھرکیوں کی انگلیاں انہیں کے میلے کچیلے زرد دانتوں کے بیچ دب کے رہ گئیں۔بے شرمی کے ساتھ احسان فراموشی کی حدیں پار کرتے ہوئے جب سعودیہ ہی کے ٹکڑوں پہ اپنا پیٹ پالنے والے کچھ گداگروں نے امریکی صدر کے جنونی ہذیان کو آیت مقدس سمجھا اور خادم الحرمین الشریفین کو ٹرمپ کا دھمکی بھرا لہجہ کہ "وہ امریکی فوجی حمایت کے بغیر "دو ہفتے” بھی اقتدار میں نہیں ٹک سکتے"،
خیر دو دنوں کے بعد ہی سہی جمعہ کو شائع ہونے والے بلومبرگ کے انٹرویو میں پرنس محمد بن سلمان نے دوٹوک کہا: “مجھے اس شخص کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کو کسی دوست کی اچھی اور بری دونوں باتیں تسلیم کرنی پڑتی ہیں۔”
محمد بن سلمان نے مزید کہا: “امریکا اپنا ہتھیار ہمیں مفت میں نہیں دیتا ہے ہم اسے اس کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جب سے تعلقات قائم ہوئے ہیں اور ہتھیاروں کی خریداری شروع ہوئی ہے ہم نے اسکی پوری پوری قیمت ادا کی ہے۔”
ٹرمپ کا حالیہ دھمکی بھرا لہجہ محض اس لئے تھا کہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر لگام لگ سکے۔اس سلسلے میں ٹرمپ نے تمام اوپیک ملکوں پر خاص کر سعودی عرب پر زوردار دباؤ بنایا کہ ایران پر پابندی کی صورت میں تیل کی سپلائی اثرانداز نہ ہو۔سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے کہا سپلائی کی کمی دور کرنے کے لئے سعودی عرب اپنے وعدے پر پابند ہے ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہونے دی۔
ٹرمپ چونکہ ایک تاجر ہے اس لئے اسے تیل کی موجودہ قیمت راس نہیں آرہی ہے اور وہ اوپیک ملکوں کے خلاف زبانی حملوں میں مسلسل تیزی لا رہا ہے۔پچھلے چار سالوں کے مقابل تیل کی بڑھی ہوئی قیمت کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوپیک ممالک دنیا کو لوٹ رہے ہیں اور خبردار کیا کہ یہ بھیانک قیمتیں ہم زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتے۔
محمد بن سلمان سے پوچھا گیا کہ ٹرمپ نے منگل کو مسیسپی کی ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے بتایا،
جواب میں محمد بن سلمان نے کہا کہ ریزگاریوں کی ڈیمانڈ ایک ایسا موضوع ہے جو وہ سالوں سے سن رہے ہیں،
کینیڈا سعودی نزاع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے پرنس محمد بن سلمان نے بے لاگ کہا: “دراصل کینیڈا نے سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی تھی،
ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے بیانات کی روشنی میں بطور خلاصہ جو بات واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ ٹرمپ ایک صعلوک ہے جس کا کشکول اب خالی ہو چکا ہے،





