مسلم ممالک میں شیعہ اور سنی کشمکش کی تاریخ بہت پرانی ہےلیکن خلیج کی موجودہ صورتحال کا سہرا ایرانی انقلاب کو جاتا ہے،
یہ انقلاب اس قدر ولولہ انگیز تھا کہ اگر ایران عراق جنگ نہ ہوئی ہوتی تو شاید یہ اسی وقت عراق اور دھیرے دھیرے پورے خلیج کو نگل سکتا تھا۔لیکن آنجہانی صدام حسین ایرانی توسیع پسندی کے سامنے ایک اسپیڈ بریکر بن کر کھڑے ہوگئے۔اور راستے کے اس سنگ گراں حائل نے انقلاب کے اثرات کومحدودکردیا۔
حالانکہ پورے خلیج پر روافض کی حکومت کا خواب دیکھنے والی ایرانی حکومت نے اس کی کوشش ابھی بھی نہیں چھوڑی ہے۔معاشی بدحالی،
بعض لوگوں کے نزدیک اسی کےردعمل کے طور پر سعودی حکومت نے بھی اپنے عقیدے کو ساری دنیامیں پوری طاقت سے پھیلانا شروع کردیا۔جیسا کہ ولی عہدمحمدبن سلمان نےاپنے ایک انٹرو یو میں کہا ہے۔(The Express Tribune 30 MAR 2018)
مغرب کے اشارے پر وہابیت پھیلانے کا بیان فقط ایک سیاسی بیان ہے۔لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ عالم اسلام شیعہ بلا ک کے بڑھتے اثرات کو روکنے لیے پوری قوت سےسلفی عقیدہ کی نشر واشاعت بہت ضروری تھی۔
شیعہ،
لیکن سلفی دعوت کےحاملین اور ان کے ہم ہمنوا،
حالانکہ یہ طریقہ بڑا صبر آزما اور طویل ہے۔لیکن ہے بہت ہی موثر اوردیر پا۔حکام کے خلاف خروج کے راستے انقلاب لانے والوں کی بغاوت اسی طرح کی دوسری بغاوت سے کچل دی جاتی ہے۔اس طرح ان کی ساری کوششوں پر پانی پھرجاتاہے۔جبکہ دعوت کےذریعے کی گئی اصلاح کااثر دیر تک باقی رہتاہے۔اور اقتدار نہ بھی ملے تب بھی سماج کی اصلاح کاکام توہورہا ہوتاہے۔حکومت کے بنابھی دین پر بآسانی چلا جاسکتاہے۔
اسی لیے نظریہ اور طریقہ کار کے لحاظ سے ایران خلیج میں جو کچھ کررہا ہے،
حالانکہ حکومت کے قیام کے لیے دعوت کے ذریعہ چنا گیا یہ راستہ پورا سچ نہیں ہے۔دعوت سے شروعات کی جانی چاہیے۔لیکن آپ ہمیشہ پہلے ہی مرحلے میں نہیں رہ سکتے۔آغاز کے کچھ ہی دنوں بعد آپ کو اسی دعوت کی راہ میں بہت سارے ممالک اور افراد خود بخود روڑے اٹکاتے نظر آئیں گے۔راستے میں حائل ان ہی رکاوٹوں کو دور کرنے کا نام جہاد ہے۔مکہ سے شروع کی گئی پر امن دعوت،
الا یہ کہ یہ کہا جائے کہ ہمارامقصد اقتدار حاصل کرنا بلکہ عوا م کی اصلاح ہے۔اور یہ اصلاح ہم اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک لوگ اجازت دیں گے۔جس دن مخالفت شروع ہوئی،
حالانکہ ایران قدیم تاریخی ملک ہے۔اور اس کا اثر و رسوخ پرانا ہے۔لیکن سعودی عرب کی شہرت سلفی دعوت اور تیل کی وجہ سے چند صدیوں سے ہوئی ہے۔
بحرین اور شام:
بحرین ایک ایسا ملک ہے جس کا حاکم سنی ہے اور عوام کی اکثریت شیعہ ہے۔جبکہ شام ایسا ملک ہے جہاں کی زیادہ تر عوام سنی ہے اور حاکم شیعہ۔شام کے آگے بحرین کی حیثیت بہت کم ہے۔۲۰۱۱ عیسوی میں عرب بہاریہ نے بحرین میں حکومت کے خلاف مظاہرے کروائے۔وہاں کے حکمرانوں کی درخواست پر سعودی عرب کی حکومت نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے مظاہرین پر کنٹرول کرنے میں مدد کی۔
2015 میں بحرین میں ایک بم بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی،
ایران ہمیشہ سے بحرین میں حکومت کے خلاف گوریلا حملہ آوروں کی حمایت کرتا آرہا ہے۔(وکی پیڈیا۔عربی )
ملک شام میں سنی اکثریت میں ہیں،
یمن فائلس: زمین اورمذہب کی لڑائی
نجد و حجاز سمیت ملک یمن میں1538 سے 1632 عیسوی تک عثمانیوں کی حکومت تھی۔ان کے بعد زیدیوں کے ہاتھ میں آئی۔لیکن داخلی جھگڑوں کی وجہ سے حکومت دوبارہ عثمانیوں کے پاس پہنچ گئی۔عثمانی حکومت جسے انگریزوں نے1839عیسوی میں ختم کردیا۔اور یہ اس وجہ سےتھا کہ انگریزوں کا ایک تجارتی بیڑا لوٹ لیا گیا تھا۔اور ان کو اس کے بدلےکے ساتھ ساتھ کوئلہ بھی چاہیے تھا۔لیکن 1872 عیسوی میں حکومت پھر عثمانیوں کی طرف لوٹ کر آگئی۔مگر بیسویں صدی کی شروعات میں عثمانیوں نے کافی فوج اور خزانہ گنوانے کے بعد سلطنت متوکلی زیدی امام کے حوالے کردی۔امام یحیی حمیدالدین متوکل 1911 عیسوی میں یمنی سلطنت کے بادشاہ بنے۔(تاریخ الیمن القدیم والحدیث: موضوع3.کوم)
ادھر یمن کے جنوب مغرب میں عسیر و جازان و نجران و صبیاکے علاقےمیں ادریسیوں کی حکومت قائم ہوئی۔جوانگریزوں کے مددگار تھے،
متوکلی سلطنت کے سقوط کے بعد جب یمن میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تو علی عبد اللہ الصالح جو یمن کے صدر منتخب ہوئے،
حوثی تحریک:
حوث شمالی یمن کی راجدھانی صنعا کے اطراف میں عمران نامی کمشنری میں ایک ضلع ہے۔صعدہ اور تعز بالخصوص اور شمالی یمن بالعموم حوثی تحریک کا گڑھ ہے۔حوثی تحریک کے گاڈ فادر بدر الدین حوثی (وفات 2010 عیسوی) ہیں۔ایران نے آٹھ سال تک اپنے یہاں بدر الدین حوثی کی اس طرح سے میزبانی کی کہ وہ ولایت فقیہ اور صحابہ کوگالی دینے والےعقیدے کے ساتھ ساتھ بارہ اماموں پر بھی ایمان لے آیا۔وہ زیدی فرقہ کو اثناعشری فرقہ سے اتنہائی قریب کرنے والاداعی بن گیا۔
ویسے بھی جس طرح سے پہلےکے زیدی تھے یعنی عثمان رضی اللہ عنہ کو علی رضی اللہ عنہ پر فوقیت دینے کے علاوہ اہل سنت سے ان کا کوئی بھی اختلاف نہیں تھا۔اس طرح سےاب یمن کے زیدی نہیں ہیں۔مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر بہت ساری خرابیا ں اور برائیا ں در آئی ہیں۔اور یہ منحرف ہوکر بارہ امامیہ کے قریب ہوچکے ہیں۔
بدر الدین حوثی کو یمن میں امامیہ کا داعی بنا کر بھیجا گیا۔شروع میں اصلاح دین اور اصلاح معاشرہ،
اس دعوت کو اس حد تک کامیابی ملی کہ حکومت میں دخیل ہو بیٹھے۔آنجہانی صدر علی الصالح نے کئی طرح سے ان کا تعاون کرکے حکومت پر ان کا دعویٰ پکا کردیا۔ادھر حوثی عوامی تحریک نے بھی عوام میں اپنی مضبوط پکڑ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔حوثیوں کی طاقت اتنی بڑھی کہ انھوں نےمنتخب حکومت کے خلاف ہی بغاوت کردی۔یمنی منتخب حکومت کو سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی۔نہ صرف پناہ بلکہ مدد کی درخواست بھی کرنے پر مجبور ہوئے۔اب حوثی باغیوں کوموقع ہاتھ آیا۔چنانچہ وہ یمنی قوم کی دیرینہ خواہش اپنی زمین کی واپسی اور روافض کی دیرینہ تمنا مکہ و مدینہ پر قبضہ کرنے کی خواہش کا برملا اعلان کرنے لگے۔اسی کے باعث سعودی عرب نےعرب ممالک کا اتحاد بنا کریمن پر حملہ شروع کردیا۔اور یہ لڑائی ابھی تک جاری ہے۔
یہ حملہ یمن کے منتخب صدر عبد ربہ منصور ہادی کی درخواست پر اور اپنے تحفظ و بقاکے لیے ہوااسی لیےسعودی اتحاد کے ذریعہ یمن پر حملے کو مداخلت نہیں کہا جا سکتا،
لبنان اور عراق:
لبنا ن کی رافضی تحریک حزب اللہ اور حسن نصر اللہ کو کون نہیں جانتا۔یہ تحریک جب چاہتی ہے حکومت کو یرغمال بنا لیتی ہے۔رفیق الحریری کے قتل میں بھی پاسداران انقلاب شامل تھے۔
عراق میں ایران کی حرکات چھپی نہیں ہیں۔صدام حسین کے بعد پورا عراق ایران کی گود میں پکے ہوئے پھل کی طرح گرچکا ہے۔عراق اور شام سے داعش کے خاتمے میں بھی پاسداران انقلاب کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔
خلیج کے زیادہ ترممالک عراق،
قطر:
سعودی عرب کا قطر سے اختلاف نیا نہیں ہے۔بلکہ یہ اس کےجنم سے ہی جڑا ہے۔1913 عیسوی ہی سے سعودی عرب اسے اپنے صوبے الاحسا سے جوڑنے کی کوششیں کررہا تھا۔دو سال بعد انگریزوں کے اصرار پر اسے الگ ملک کے طورپر قبول کرکے قطر کےحدود کااعتراف کیا۔لیکن دونوں ممالک کے درمیان حدود کی آخری تحدید 1965 عیسوی میں ہوئی۔
اس کے باوجود خفوس کا حادثہ ۱۹۹۲ عیسوی میں پیش آیا۔جس میں قطر اور سعودی عرب کی فوجوں کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی۔اور ایک سعودی اور دو قطری فوجی مارےگئے۔خفوس کے علاقے پر سعودی عرب کا مکمل قبضہ ہوگیا۔اس سے پہلے یہ متنازعہ علاقہ تھا۔اس علاقے میں بنومرہ کےقبائل آبادتھے۔قطر کا الزام ہے کہ سعودیہ نے بنو مرہ کے قبائل کو بھڑکا کر یہ جھگڑا کھڑا کیا۔
1996عیسوی میں قطر کے حاکم حمد بن خلیفہ آل ثانی کے خلاف تختہ پلٹنے کی ایک سازش بے نقاب ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے حمدکے والدخلیفہ آل ثانی خود تھے۔جو امارات سے انقلاب کی نگرانی کررہے تھے۔حمد نے اپنے والد سے بغاوت کرکے حکومت چھینی تھی۔قطر کا الزام ہے کہ سعودی عرب نے انقلاب لانے کے لیے والد خلیفہ کی بھرپور مدد کی۔اس انقلاب کا پردہ فاش ہونے پر تقریبا پانچ ہزار لوگوں کی قطری نیشنلٹی چھین لی گئی۔(وکی پیڈیا۔عربی)
خطے میں قطر ایک ایسا ملک ہے جو معاشی لحاظ سے کافی مضبوط ہے۔
شاید اسی لیے اس نے اپنی دوسری پالیسی بنائی ہوئی ہے۔سنی ملک ہونے اور سعودی اتحاد میں شامل ہونے کے باوصف یہ روافض اور اخوان سے نزدیکیاں بڑھاتا رہا ہے۔سلفی دعوت کے برعکس اس کی قربتیں رافضی اور اخوانی و تحریکی دعوت کے ساتھ ہمیشہ سے زیادہ رہی ہیں۔2014 میں سعودیہ امارات اور بحرین نے دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے کا الزام لگاکر قطرسے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے۔(وکی پیڈیا۔عربی ) پانچ جون 2017 کو سعودی عرب سمیت چھ ممالک امارات مصر بحرین مالدیپ نے ہرطرح کے تعلقات ختم کر لیے اور بری و بحری ہر قسم کے راستےمسدود کردیے۔اپنے باشندوں کے لیےقطر کا سفر ممنوع کر دیا۔اور اخوان،
اب قطر نے اشیاء خورد و نوش کی خریداری اور تجارت وغیرہ بھی ایران کے ساتھ شروع کر دی ہے۔یعنی یہ سنی ملک پوری طرح سے ایران کے قبضے میں ہے۔مزید ترکی کےساتھ بھی دوستی کی پینگیں اس حد تک بڑھی ہیںکہ ترکی نے اپنے پانچ سو فوجی کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھیج دیے۔
سعودی اور ایران جنگ:
حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب پر مسلسل میزائل حملوں کے پیچھے ایران کھڑا ہے۔ایسا سعودی عرب کا ماننا ہے۔مزید عراق و شام و لبنان و یمن چہار جانب سے سعودی عرب کو گھیرنے کی ایران نے کامیاب کوشش کر لی ہے۔
ایسے میں مستقبل قریب میں ایران اور سعودی عرب کی جنگ حتمی مانی جارہی ہے۔لیکن دونوں ممالک زمینی لڑائی کی جگہ پر فضائی جنگ کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ایران سعودی عرب کے بجلی گھروں اور تیل کے کنوؤں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔جواب میں سعودی عرب بھی اسی طرح کی کارروائی کرے گا۔دونوں ہی ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔مزید یہ کہ باب المندب پر ایران کا یمن کے ذریعے بلا واسطہ کنٹرول ہے۔وہ نہر سوئز کوحوثیوں کے ذریعے بند کروا سکتا ہے۔آبنائے ہرمز توایران کے خود کےکنٹرول میں ہے۔اس اہم گزرگاہ کو بھی بند کیا جا سکتا ہے۔یہ سب تجارتی و عسکری بحری جہازوں اور تیل کے نقل وحمل کے بنیادی راستے ہیں۔
ان راستوں کے بند ہونے پر امریکہ فوری مداخلت کرے گا اور چند گھنٹوں میں ایران کے بحریہ اور فضائیہ کو ختم کردے گا۔اس طرح سے جنگ میں سعودی عرب کی جیت ہوسکتی ہے۔
لیکن جنگ کے بعد بھی سعودی عرب کو ایرانی چنگل میں پھنس چکے ممالک سے بے پناہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور ایران اس کے لیے پہلے سے زیادہ کوششیں کرسکتا ہے۔ایک طرف ملک کے برباد کردیے گئے انفراسٹرکچرکی تعمیر۔اور دوسری پڑوسی ممالک میں زور دار مزاحمت سعودی عرب کےحق میں بہتر نہیں ہوگا۔اس لیے جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔اصل حل تو ایران کےانقلاب کو فیل کرنا اور اس کو محدود کرنا ہے۔کیا ولی عہد محمد بن سلمان ایسا کرپائیں گے؟





