دنیا جس برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے،
واضح ہو کہ ان مسائل اور تبدیلیوں کا تعلق اس روئے زمین پر بسنے والے تمام اقوام و افرادِ عالم سے ہے جن میں ہم بھی شامل ہیں اور ان معاشرتی،
ظاہر سی بات ہے کہ ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرے اور اپنے تمام مسائل کا حل وہیں سے تلاش کرے تاکہ جدید مسائل و نوازل کو سمجھنے اور علی وجہ البصیرۃ زندگی گزارنے میں اسے اطمینان و سکون حاصل ہو اور اسلام پر ثبات قدمی کے ساتھ وہ آگے بڑھ سکے اس پختہ ایمان و یقین کے ساتھ کہ شریعتِ مطہرہ پر عمل آوری میں اس کے قدم کبھی متزلزل نہ ہوں۔
تو آئیے اس موضوع کی وضاحت سے پہلے ہم فقہ اور نوازل کے معنی ومفہوم سمجھتے ہیں پھر اس کی اہمیت و افادیت پر غور کرتے ہیں۔
الفقہ لغۃ: یہ لفظ فَقِہَ یا فَقَہَ یا فَقُہَ کا مصدر ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کا ادراک کرنا اور اس کا علم رکھنا،
(فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ) (سورۃالتوبۃ: ۱۲۲)
لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ کا مطلب: تاکہ وہ دین کے عالم بن جائیں (لسان العرب: ۱۰؍۳۰۵) اور فقہ فہم کے معنی میں بھی آتا ہے (معجم مقاییس اللغۃ: ۲؍۴۷۹) اور بعض اصولیین کے نزدیک فقہ مطلقا فہم کے معنی میں آتا ہے (الاحکام فی أصول الأحکام: ۱؍۲۲) فقہ فہم کے معنی میں قرآن میں بھی وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(فَمَا لِہَؤُلٓاءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُونَ یَفْقَہُونَ حَدِیْثاً)(سورۃ النساء: ۷۸)
اور حدیث رسول اللہ ﷺہے:
’’ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِي الدِّیْنِ‘‘ (بخاری: کتاب العلم:۷۱)
ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ’’یفقھہ‘‘کا مطلب ’’یفھمہ‘‘ یعنی اس کو سمجھے۔(فتح الباری:۱؍۱۶۴)
الفقہ اصطلاحا: اور فقہ کا اطلاق اصطلاح میں چند معانی پر ہوتا ہے جو باہم ایک دوسرے سے مرتبط ہیں۔
پہلا معنی: شرعی نصوص میں غور و فکر اور اجتھاد کی صلاحیت اور اس سے احکام کے استنباط کی مہارت اور قدرت۔اسے فقہی مہارت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔(حاشیۃ للعطار علی جمع الجوامع: ۲؍۴۲۰)
دوسرا معنی: شریعت کے عملی احکام کی معرفت ان کے دلائل کی روشنی میں۔(المدخل الفقھی العام: ۱؍۶۵)
النوازل کا لغوی معنی: یہ نازلہ کی جمع ہے۔اس کا معنی کسی چیز کا نیچے اترنا اور واقع ہونا ہے۔(معجم مقاییس اللغۃ:۵؍۴۱۷) اور نازلہ کا دوسرا معنی ہے مصیبت اور زمانے کی سختیاں و پریشانیاں جن سے لوگ دوچار ہوتے ہیں۔(المصباح المنیر: ۲؍۶۰۱)
النوازل اصطلاحا: (۱) دکتور حسن الفیلالی نوازل کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایسا واقعہ اور حادثہ جو کسی شخص کو درپیش ہو خواہ عبادات کے سلسلے میں یا معاملات،
شیخ بکر ابوزید کہتے ہیں: نوازل سے مراد جدید مسائل،
دکتور وھبہ الزحیلی کہتے ہیں کہ: نوازل یا واقعات یا عملیات معاشرے کو درپیش وہ جدید مسائل و اجتھادات ہیں جو کثرتِ اعمال اور پیچیدہ معاملات کے سبب حاصل ہوتے ہیں جن کے بارے میں براہِ راست کوئی شرعی دلیل یا سابقہ فقھی اجتھاد نہ پایا جائے جسے ان مسائل پر فٹ کیا جاسکے۔(سبل الاستفادۃ من النوازل والفتاویٰ والعمل الفقھی: ۹)۔
مذکورہ بالا وضاحت سے فقہ اور نوازل کا معنی و مفہوم پوری طرح سے واضح ہوجاتا ہے اور ہم اس نتیجے پر پہونچتے ہیں کہ فقہ النوازل کا مفہوم ہے: کسی بھی زمانے میں جو جدید مسائل،
اب آئیے ہم موجودہ زمانے میں فقہ النوازل کی ضرورت و اہمیت پر غور کرتے ہیں۔
امتِ مسلمہ موجودہ دور میں نفسیاتی ہزیمت کا شکار ہے۔مسلم نوجوان منظم پیمانے پر کفر والحاد اور تشکیک کے راڈار پر ہیں جس سے ان کی فکری اور ثقافتی بنیاد خطروں کے بھنور میں ہے۔مزید برآں مادیت پرستی اور مغربی تہذیب و تمدن اور لادینی لائف اسٹائل کا کلچر اس قدر عام ہوتا جارہا ہے کہ افرادِ امت مطلق العنانی کے ساتھ اس کی تبعیت و تقلید پر دل نچھاور کئے جارہے ہیں۔یہاں تک کہ امتِ محمدیہ کی ایک بڑی تعداد اپنے اسلامی مظاہر کے اظہار اور دینی تعلیمات و احکام پر عمل آوری سے کتراتی ہے اور بعض دفعہ تو نفسیاتی طور پر ان کی انکاری بھی ہوجاتی ہے۔عصرِ حاضر کی ترقیات اور بدلتے حالات کا جائزہ لینا،
نئے نئے احداث و مسائل کے تئیں شرعی موقف کی وضاحت وقت کی بہت اہم ضرورت ہے اور آج انسانی نشاطات کا دائرۂ کار اتنا وسیع ہوچکا ہے کہ ان کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔یہ حرکات و نشاطات کسی خاص طبقے یا قوم کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ پوری انسانیت کو شامل ہیں جس میں مسلمان بھی شامل ہے۔اسی لئے اسے ہر قدم پر نوازل کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔آپ کو اندازہ ہوگا کہ فقہ کا کوئی باب ایسا نہیں ہے جس میں ایسے مسائل نہ پائے جاتے ہوں جس میں اجتھاد اور تجدیدِ جھود کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔مثلا وراثت کے باب میں حمل کی وراثت کا حکم،
جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ امت اسلامیہ جب اپنے اوجِ کمال کو پہونچی ہوئی تھی اور تہذیب و تمدن کے ہر شعبہ میں اس کا بول بالا تھا تو اس وقت فقہی مسائل اور اجتھادات امت کی حاجت و ضرورت کے شانہ بہ شانہ آگے بڑھ رہے تھے جسے مجتھد ائمہ کرام نے تاصیلا اور تطبیقا اپنے زمانے میں ثابت کرکے دکھایا بھی۔
یہ نقطہ بھی قابلِ غور ہے کہ فقہ النوازل کا اہتمام مہذب اور زندہ قوموں کا خاصہ ہے جن کے یہاں عمل کی قیمت اور اصول و ضوابط کی بڑی اہمیت ہے،
پَل پَل بدلتے لمحات اور عصرِ حاضر کے مقتضیات کے پیشِ نظر اس امر میں دو رائے نہیں کہ موجودہ زمانے میں اجتھاد کی ضروت و اہمیت سابقہ تمام ادوار کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔کثرتِ نوازل،
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مجتھد کا کام یہ ہے کہ مکلفین کے افعال و اعمال کے سلسلے میں شرعی حکم اور دلیل کا ادراک کرے خواہ ان افعال کا تعلق خاص عبادات سے ہو مثلا صلاۃ،
جب ہم کو علم ہوتا ہے کہ اس طرح کے تمام مسائل کا حل ہماری شریعتِ مطہرہ میں موجود ہے اور ہر زمانے کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے تو یہ چیز بذاتِ خود اس بات کی دلیل بن جاتی ہے کہ فقہ اسلامی کے اندر وہ طاقت و قوت اور قدرت موجود ہے جو زمانے کے بدلتے مزاج کو پرکھ سکے،
آج مسلم نوجوان بڑی تعداد میں عصری علوم کی خوشہ چینی کررہے ہیں جنہیں اکثر و بیشتر جدید مسائل و معاملات کا سامنا ہوتا ہے بطورِ خاص جو میڈیکل،
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس اہم ترین موضوع پر عربی زبان میں اچھا خاصا کام ہوا ہے اور اس سلسلے میں کئی کتابیں اور تحقیقی رسالے بھی منصہ شہود پر نمودار ہوئے ہیں مثلا:
فقہ النوازل: د. بکر بن عبداللہ ابو زید،
فقہ النوازل و قیمتہ التشریعیۃ والفکریۃ: د.حسن الفیلالی،
سبل الاستفادۃ من النوازل والفتاوی والعمل الفقھي: د. وھبہ الزحیلي،
منھج استنباط أحکام النوازل الفقھیۃ المعاصرۃ: د. مسفر بن علی القحطاني،
فقہ النوازل للأقلیات المسلمۃ تأصیلا وتطبیقا: د. محمد یُسري ابراھیم وغیرہ۔
نیز عرب علماء خصوصا سعودی کبار علماء بورڈ کے فتاوے اس سلسلے میں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں جن سے ہم پوری طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اردو زبان میں اس موضوع پر خال خال ہی کوئی کام نظر آتا ہے،





