آبشاروں کی طرح
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
مجھ کو سینے سے لگا کر، غم گساروں کی طرح
خوشبوؤں سے بھر گیا دل کو، بہاروں کی طرح
کوئی دل کے طاقچوں پر شمع کی مانند ہے
کوئی مجھ میں جگمگاتا ہے ستاروں کی طرح
کوئی تو ہے زندگی میں وجہ شاد و انبساط
کوئی دل میں نغمہ زن ہے آبشاروں کی طرح
آج اے عہدِ تمنا! پھر تری دہلیز پر
ٹوٹ کر روتا رہا دل بے سہاروں کی طرح
زندگی تجھ پر ہی تھا خوشیوں کا سارا انحصار
تو نے بھی کتنا ستم ڈھایا ہے یاروں کی طرح
دردِ ہجراں سے میں فائز دور جا سکتا نہیں
اس قدر محبوب ہے مجھ کو وہ پیاروں کی طرح
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





